امت نیوز ڈیسک //
جموں کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی ملک کی یکجہتی، خودمختاری اور سالمیت کا معاملہ تھا لیکن بدقسمتی سے اسے مختلف رنگ دینے کی کوشش کی گئی کی بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں جمہوریت کا بول بالا ہے اور اس کی مثال ہم نے بارہمولہ میں دیکھی جہاں 20ہزار لوگوں نے ”بھارت ماتا کی جئے“کا نعرہ لگایا۔ امیت شاہ نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں ملی ٹنسی کی جڑیں کافی گہری ہے تاہم ہم انہیں اکھاڑ پھینکنے کیلئے اپنے وعد ے پر کار بند ہے ۔ ایک قومی نیوز چینل کو دئے گئے خصوصی انٹر ویو میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو نارکو فائنانس کے معاملات کی بھی تحقیقات کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں کیونکہ نارکو تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کو ملی ٹنسی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جموں اور کشمیر اب خوشی اور پرامن طریقے سے جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ ” ہماری قومی سلامتی کے لیے کسی بھی خطرے کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ ہم نے قوانین کو مضبوط کیا ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ این آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ غیر ملکی ممالک تک بڑھا دیا گیا ہے۔ این آئی اے اب کسی فرد کو بھی ملی ٹنٹ قرار دے سکتی ہے۔ نارکو فنانسنگ کو بھی این آئی اے کے دائرہ کار میں لایا گیا ہے“امیت شاہ نے مزید کہا” اسی طرح یکساں سول کوڈ آئین کی روح سے مطابقت رکھنے والا معاملہ ہے۔ آرٹیکل 44 کے ذریعے آئین سازوں نے ملک کی پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلیوں کو یہ مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح کئی مسلم ممالک میں تین طلاق کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ سب ترقی پسند ریاست اور ملک کے مستقبل کے مسائل ہیں۔“شاہ نے کہا کہ این آئی اے نے مزید نو ریاستوں میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں اور سال 2024 تک ملک کی تمام ریاستوں میں اس کے دفاتر ہوں گے۔جہادی اور آئی ایس آئی ایس کے نظریے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی بھی نظریے کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے خطرہ ہو اور اسے سختی سے کچل دیا جائے گا۔شاہ نے کہا”یہ دفعہ 370 کی منسوخی کی وجہ سے تھا کہ کشمیر وادی کے ضلع بارہمولہ میں میری ریلی میں 20ہزار لوگو ں نے ‘بھارت ماتا کی جئے’ جیسے نعرے لگائے اور قومی ترانہ گایا،” شاہ نے کہا کہ پتھراو¿ کہاں گیا۔ وادی میں مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور پنچایتی راج اداروں کے 30,000 نمائندے لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد، ریکارڈ تعداد میں سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 57,000 کروڑ روپے کی صنعتی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ کشمیر کے ہر گھر کو اب نلکا پانی مل رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پہلی بار جموں و کشمیر کے لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں تمام حقوق مل گئے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی ایک سوچا سمجھا فیصلہ ثابت ہوا ہے۔ دفعہ 370 کیلئے پہلے ایک غلط بیانیہ تیار کیا گیا تھا۔ ہمارے اندازے سچے نکلے ہیں،“ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی نے سابقہ ریاست کو ہمیشہ کے لیے ملک کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔ ”یہ بی جے پی کا وعدہ تھا اور ہم نے دونوں آرٹیکلز کو ہٹا کر اسے پورا کیا“انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی ملک کی یکجہتی، خودمختاری اور سالمیت کا معاملہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اسے مختلف رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح یکساں سول کوڈ آئین کی روح سے مطابقت رکھنے والا معاملہ ہے۔جہاں تک داخلی اور قومی سلامتی کا تعلق ہے، شاہ نے کہا، مرکزی حکومت کسی بھی قسم کے ممکنہ خطرات کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے تمام ادارے پوری چوکسی کے ساتھ داخلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔








