نیشنل کانفرنس کے دور حکمرانی میں لداخ کو جموں و کشمیر سے جوڑنے والی قومی شہراہ کے اہم پڑاو ڈلگیٹ سے ذکورہ کراسنگ تک معروف روحانی بزرگ فقیر ملت مرحوم سیدمیرک شاہؒ کے نام کے ساتھ منسوب کیا گیا جسے چار لائنوں والی سڑک کے طور پر ترقی دینے کے لئے ایک منصوبہ بھی دردست لیا گیا جس کے تحت مجوزہ شاہراہ کی تعمیر پر کروڑوں روپیہ بھی صرف کیا گیا۔ اس تناظر میں خاص بات یہ ہے کہ شاہراہ کو کشادہ کرنے کے لئے حاصل کی گئی اراضی کی خرید و دیگر اِستادہ تعمیرات کے مد پر کثیر رقم بطور معاوضہ ادا بھی کی گئی۔ لیکن ابھی شاہراہ کی تعمیر کا کام آخری مرحلے میں ہی تھا کہ سابقہ ریاست میں دہرائے گئے انتخابات میں نیشنل کانفرنس سرکار بنانے کے لئے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ نیشنل کانفرنس کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی سرکار بنائی جس نے آتے ہی سید میرک شاہ ؒ شاہراہ پر جاری کام کو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر روک لیا۔ جبکہ شاہراہ کے اس حصے پر کام آخری مرحلے میں تھا!ایسا کیوں کیا گیااور کن لوگوں کے کہنے پر کیا گیا؟یہ سب کچھ سربستہ راز پڑا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ خود نیشنل کانفرنس نے بھی اس پر چپی سادھ لی۔اس شاہراہ کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ ایل جی انتظامیہ اس مجوزہ شاہراہ کا کام روکنے کے اسباب کو تلاشنے کے لئے جانچ کروالیں، ساتھ ہی رُکے پڑے کام کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے احکامات جاری کریں تاکہ باقی مانندہ کام کو جلد ہی تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ اور اس شاہراہ پر بھاری ٹریفک کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوسکے۔







