امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں پچھلے کئی روز سے سرگرم ملی ٹینٹوں کے خلاف تلاشی آپریشن ہنوز جاری ہے۔ بتادیں کہ ڈانگری راجوری میں سات عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد ضلع میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق راجوری میں سر گرم ملی ٹینٹوں اور ان کے معاونین کے خلاف تلاشی آپریشن ہنوز جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ابجک سیکورٹی فورسز نے زائد از 60 افراد کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بھی راجوری اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری رہا جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ چیک کیے گئے ۔پولیس ذرائع نے تلاشی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے جتایا کہ ڈانگری راجوری میں شہری ہلاکتوں کے بعد خطہ پیر پنچال میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشکوک افراد کو تلاش کرنے کی خاطر کھوجی کتوں اور ڈرونز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ان کے مطابق سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر راجوری، کشتواڑ اور ڈوڈہ اضلاع میں اضافی پیراملٹری فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کی خاطر راجوری میں وی ڈی سی ممبران کو ہتھیار فراہم کئے گئے ہیں۔ دریں اثنار اجوری کے اندر وال گاوں میں جمعے اور ہفتے کی شب کو مشکوک افراد کی نقل و حرکت کے بعد وی ڈی سی ممبر نے ہوا میں متعدد گولیوں کے راونڈ فائر کئے جس کے نتیجے میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
وی ڈی سی ممبر نے دعوی کیا کہ چند مشتبہ افراد رہائشی مکان کے نزدیک آئے اور گیٹ کھولنے کی استدعا کی جس پر ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی شناخت ظاہر کریں۔
انہوں نے بتایا کہ مشتبہ افراد کی جانب سے مسلسل دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ہوائی فائرنگ کی جس کے بعد وہ علاقے سے بیچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔









