(گول) شدید عوامی دباؤ اور اہلخانہ کے لگاتار احتجاجی دھرنے کے بعد حیدرپورہ تصادم میں مارے گئے دو افراد مدثرگل اور محمد الطاف کی نعشوں کو لواحقین کے حوالے کیا گیا لیکن محمد عامر ماگرے کی جسد خاکی لواحقین کو ابھی تک بھی نہیں سونپا گیا۔ خیال رہے عامر ماگرے ساکنہ گول رام بن کے لواحقین کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات لگاتار یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ عامر ماگرے کی نعش کو بھی لواحقین کے حوالے کیا جائے۔ عامر ماگرے کی بہن نے اس ضمن میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا حکومت وقت ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔ انھوں نے کہا انتظامیہ ہمارے پرامن نظریئے کو ہماری زباں بندی سمجھ کر بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہے، ہم بھی احتجاج کر سکتے ہیں اور اپنے بھائی کی نعش کو حاصل کرنے کیلئے سڑکوں پر آسکتے ہیں لیکن انتظامیہ ہمارے صبر و تحمل کو ہلکے میں لیکر ہماری مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ عامر کی بہن کا کہنا تھا کہ جس طرح سے دو نعشیں لواحقین کے حوالے کی گئیں اُسی طرح سے ہمارے بھائی کی نعش بھی ہمارے سپرد کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ جس بھی طرح سے تحقیقات کرنا چاہتی ہے ہم برابر تعاون فراہم کریں گے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ اِس معاملے کی اچھے سے تحقیقات ہو تا کہ معلوم ہو سکے کی حقیقت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحقیقات میں اگر یہ پایا گیا کہ عامر واقعی عسکریت سے جڑا تھا تو پھر عامر کو دہشت قرار دینے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے! اگر عامر کے ملی ٹینٹ ہونے کا ایک بھی ثبوت فوج اور پولیس دے گی تو ہم یہ ماننے کیلئے تیار ہیں کہ پولیس نے جو کچھ عامر کے ساتھ کیا وہ اُس کا حقدار تھا لیکن ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اگر کسی پولیس آفیسر نے اپنی ترقی کیلئے یہ فیک انکاؤنٹر انجام دیا ہے تو ہم اُس آفیسر یا اہلکار کو سزا دینے کیلئے کوئی بھی جنگ کو لڑیں گے۔ اِس دوران عامر کے والد سے جب میڈیا نمائندوں نے پوچھا کہ عسکریت کے خلاف جو جنگ آپ نے لڑی تھی کیا آ پکو لگتا ہے کہ آپ اُس جنگ میں کامیاب ہوئے کے جواب میں انہوں نے کہ میں نے ملک کی سلامتی کیلئے مکمل وفاداری سے عسکریت کے خلاف جو جنگ لڑی ہے میں اُس میں کامیاب ہوا ہوں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں عسکریت کے خلاف جنگ لڑنے والوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اُنہی کو دہشت گردی کا لیبل لگایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ایک شخص کو عسکریت کے خلاف لڑنے پر بہادری کا ایوارڈ دیتے ہیں اور پھر اُسی شخص کے بیٹے کو اِس لئے مار دیتے ہیں کہ وہ ایک سرگرم ملی ٹینٹ تھا، جبکہ پولیس کے پاس اِس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر عامر کے دہشت گرد ہونے کا پولیس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو میں پولیس کی اِس کارروائی پر اُنہیں مبارکبادپیش کروں گا لیکن اگر یہ انکاؤنٹر پولیس نے اپنی ترقیاں حاصل کرنے کیلئے انجام دیا ہے تو پھر میرے میں پولیس کےلئے یہی الفاظ ہیں کہ اگر آپ کو دہشت گردی سے لڑنے کی ہمت نہیں تو ایسے انکاؤنٹر دینےکے بجائے چُلو بھر پانی میں ڈوب کر مرجاؤ۔










