کچھ دنوں پہلے سرکارکی طرف سے ایک کمیٹی اس مقصد سے تشکیل دی گئی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں جماعت اوّل سے لے کر دسویں تک ہندی بولنے اور پڑھانے کے لئے ماحول سازگار کرے۔ یہ فیصلہ اچانک نمودار ہوا، جب اردو دان گہری نیند میں تھے۔ اردو کے علاوہ جموں و کشمیر میں پانچ اورزبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زبانوں کے مختلف اقسام ایک ملک یا سماج کے لئے سودمند ہیں۔ اس سے تہذیبی رنگارنگی میں اضافہ ہوتا ہے اور زندگی متنوع لگتی ہیں۔ اس کی وجہ سے جمود سے چھٹکارا مل جاتا ہے اور ذہنی دریچے کھل جاتے ہیں۔ مگر مصیبتوں کی گھنٹیاں تب بجنی شروع ہوجاتی ہے جب ایک زبان کو نظر انداز کر کے دوسری زبان پر فوقیت دی جائے۔۔۔
سرکارکا فیصلہ اب SCERT کے تحت یہاں کے اسکولوں میں کلاس اوّل سے دسویں تک ہندی زبان کو پڑھایاجائے گا، اردو حضرات کے لئے پریشانی کا باعث ہے! اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں عام طور پر اور کشمیر میں خاص کر اردو زبان کو بولنے، لکھنے اور سمجھنے والے زیادہ ہیں۔ اس فیصلے سے اردو کے ہونے پر ہی کاری ضرب لگتی ہے۔ اس بات سے سب بخوبی واقف ہے کہ اردو یہاں پر زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے؛ ایک ناخواندہ بھی اس کو سمجھ پاتا ہے۔
1885 میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔ اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہ زبان کشمیری لوگوں کے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ پورے برصغیر میں بھی اردو کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ طلباء سے لے کر معمر حضرات بھی اس کو پڑھنے اور بولنے میں فکر کرتے ہیں۔ ان افادیت کو ذہن میں رکھ کر جب ہم مذکورہ حکومتی فیصلے کو دیکھتے ہیں، تو اس میں شک کی گنجائش موجود ہے؛حکومت کا یہ باور کرانا کہ ہندی زبان کو لاگو کر کے دوسری زبانوں کے ساتھ نہ چھیڑنا، عقل سے بعید ہے۔ NEP2020 کے اکیسویں باب میں واضح طور پر زبان کی اہمیت کو تفصیل سے زیر بحث لایا گیا ہے۔
زبان قوموں کی پہچان ہی نہیں، بلکہ جان ہوتی ہے۔ اس روئے زمین پر رہنے کے لئے ایک پہچان درکار ہے، یہ پہچان زبان کی وجہ سے ممکن ہے۔ زبان تاریخ کی بنیاد ہے اور تاریخ جینے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ یہ سارا ایک زبان کے اندر محفوظ ہوتا ہے، چاہیے وہ ادب ہو یا پھر اس کی دوسری شکلیں۔
جموں و کشمیر میں اردو کا حال اس فیصلے سے پہلے ہی بے حال تھا۔ اردو کا گرتا ہوا معیار ہر جگہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ سرکاری سطح پر بھی کوئی قابل تحسین کام نہیں ہوتا تھا۔ ہاں، رسمی طور پر کچھ مشاعرے اور رسالے نکلتے تھے یا نکلتے ہیں، اس کے علاوہ اس ضمن میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوتی تھی۔ اپنوں نے بھی اس سے اپنے پیٹ پالے۔ بڑے منصبوں پر فائز اردو افسران نے اپنوں کو اعلیٰ منصبوں پر بٹھا کر اردو کو ویرانیوں کے حوالے کر دیا۔ زبان اپنی موت آپ نہیں مرتی، اس کو مار دیا جاتا ہے۔ یہاں کشمیر میں اس کو مارنے والے ہم خود ہیں۔ شکم پرور لکھاریوں نے اس کو موت کے منہ میں دھکیل دیا،اور رہی سہی قصر اب حکومت نکال رہی ہے۔ جس زبان نے ہمارے سر پر تاج رکھا تھا، اس کو ہم نے لالچ، تعصب اور منافقت کے حوالے کر دیا۔
وقت کی ضرورت ہے کہ اردو کو زندہ رہنے دیا جائے؛ اس کے دن گنے چنے ہیں۔ اللہ مالک ہے۔








