جنوبی ضلع پلوامہ کے اچھن علاقے میں اتوار کی صبح اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سنجے شرما اپنی اہلیہ کے ہمراہ مقامی مارکیٹ میں دوائی لینے جارہے تھے لیکن ابھی وہ سو میٹر ہی گھر سے دور پہنچے تھے کہ نامعلوم عسکریت پسندوں نے سنجے شرما پر گولیاں برسائی۔اگر چہ انہیں وہاں موجود افرادنےضلعی اسپتال پلوامہ علاج کے لیے منتقل کیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔شرما کا خاندان علاقے میں واحدکشمیری پنڈت خاندان ہے جو 90 کے شورش کے بعد بھی وادی چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔سنجے شرما کی عمر چالیس سال تھی اور وہ ایک بینک کی مقامی شاخ میں سیکورٹی گارڈ کے طورپر ملازمت کرتے تھے۔شرما خاندان کو تین ماہ قبل انکی حفاظت کےلیے ایک پولیس پوسٹ بھی گھر کے باہر دی گئی تھی جس میں پانچ پولیس اہلکار تعینات تھے۔تاہم اکتوبر 2021ء بعد سے سنجے شرما پانچویں کشمیری پنڈت ہیں جنہیں مشتبہ عسکریت پسندوں نے گولیاں کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا ہے۔ شرما اپنے پیچھے اہلیہ سنیتہ اور تین بچے ، جن میں دو بیٹیاں ایک بیٹا ہے چھوڑ گئے ہیں ۔اہلخانہ کے مطابق ابھی وہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ ہی ایک مکان میں رہائش پذیر تھا اور اپنے لیے نیا گھر تعمیر کر رہاتھا۔
ہلاکت کی مذمت
سنجے شرما کی ہلاکت پر سبھی سیاسی جماعتوں نےپُر زور مذمت کی ہے ۔ایل جی منوج سنہا نے ایک بیان میں لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کو عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لئے کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ سنجے پنڈت کی ہلاکت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ” وادی کشمیر میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔ “انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔انہوں نے کشمیری پنڈت کے کنبے کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ کنبے کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے لئے الفاظ کم پڑ رہے ہیں کیونکہ ان پر مصیبت کا جو پہاڑ ٹوٹ پڑا، اس کا مداواکرنے کے لئے کوئی بھی الفاظ ناکافی ہیں۔سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکرٹری محمد یوسف تاریگامی نے کشمیری پنڈت کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس بدقسمت واقعے نے ایک بار پھر وادی میں گزشتہ سال کی نفرت انگیز ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کو جنم دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سوگوار خاندان کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوں۔اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کشمیری پنڈت کی ہلاکت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس خونین سلسلے کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون نے کہا کہ ان بے گناہوں کو مارنا جنہوں نے یہاں رہنے یا واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے،یہ کشمیریوں کے بدترین دشمنوں کے لیے موزوں ہے۔ دریں اثنا پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور بھاجپا یونٹ صدر رویندر رینا نے پلوامہ جا کر لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ وہیں محبوبہ مفتی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ” اس ہلاکت پر ہم سب شرمندہ ہیں“۔وہیں انہوں نے بھاجپا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بھاجپا کشمیری پنڈتوں کو حفاظت دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور انہیں سیاسی مفادات کےلیے استعمال کر رہی ہے ۔جبکہ اس ہلاکت کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے سرینگر میں احتجاج کیا ۔وہیں ’’ آخر کب تک!‘‘ مہم کے بینر تلے سرینگر، بارہمولہ، پلوامہ اور دیگر کئی اضلاع میں کینڈل مارچ نکالے گئے ۔
سنجے شرما کے قتل میں ملوث عسکریت پسند مارا گیا : اے ڈی جی پی
28 فروری کی صبح کو پلوامہ ضلع کے اونتی پورہ کے پدگام پورہ علاقے میں ایک تصادم آرائی میں دو مقامی عسکریت پسند اور ایک فوجی اہلکار مارے گئے ۔مارے گئے عسکریت پسندوں کی شناخت عاقب مشتاق بٹ اور اعجاز احمد بٹ
کے طور پر شناخت ہوئی۔اے ڈی جی پی وجے کمار نے بتایا کہ عاقب
مشتاق بٹ پہلے حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا اور پچھلے کچھ مہینوں سے وہ ٹی آر ایف کیلئے کام کر رہا تھا جبکہ اعجاز احمد بٹ جیش سے وابستہ تھا، اور کشمیری پنڈت سنجے شرما کی ہلاکت میںیہ دونوں براہ راست ملوث تھے۔ انہوں نے کہاکہ سنجے شرما کی ہلاکت میں ملوث جنگجو کو دو دنوں کے اندرر ماردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجوؤں کے خلاف بہت سارے مقدمات بھی درج ہیں اور وہ سیکوریٹی ایجنسیوں کو انتہائی مطلوب تھے۔









