امت نیوز ڈیسک //
سری نگر،03مارچ(یو این آئی)جمو ں وکشمیر کو گذشتہ 3برسوں سے اگرچہ سخت ترین سیاسی، جمہوری اور آئینی چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن وہیں دوسری جانب منشیات کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے سماج کیلئے سب سے بڑا چیلنج بنتا جارہاہے۔
نشے کی لت ہماری نئی نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور اگر اس رجحان کو قابو پانے کیلئے بروقت اور کارگر اقدامات نہیں اُٹھائے گئے تو صورتحال بے قابو ہوجائے گی۔
ان باتوںکا اظہار نیشنل کانفرنس کے ریاستی ترجمان کولگام میں کنونشن سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ نشہ کی لعنت ہماری نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ہمیں خود کو، اپنے معاشرہ کو اور آنے والی نسل کو اس بری عادت سے بچا کر اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے آگے آنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی بدقسمتی اور تشویش کی بات ہے کہ ضلع کولگام منشیات کے استعمال میں پہلے نمبر پر آیا ہے۔ ضلع کولگام کا سرفہرست آنا ہمارے لئے اس بدعت کیخلاف متحرک ہونے کا ایک پیغام ہے اور اگر ہم ابھی بھی نہیں جاگے تو حالات بے قابو ہوجائیںگے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر منشیات کیخلاف جس انداز میں مہم چلائی جانی تھی اُس انداز سے کام نہیں ہورہاہے، محض کاغذی گھوڑے دوڑانے اور تشہیر بازی سے یہ بدعت ختم ہونے والی نہیں۔
ہم حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا منشیات کیخلاف ایک ٹھوس اور کارگر مہم کا آغاز کیا جائے اور اُن عناصر کو عوام کے سامنے لایا جائے جو ہمارے نوجوانون کو اس لعنت کی طرف لے جارہے ہیں ۔
عمران نبی ڈار نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عام لوگوں پر بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اس رجحان کو ختم کرنے کیلئے اپنا رول نبھائیں۔
منشیات فروش معاشرے کے دشمن ہیں، والدین کوچاہیے کہ وہ اپنے بچوں کوایسے کاموں سے بچائیں۔ہمیں مل جل کر منشیات سے پاک معاشرہ قائم کرناہے اورنوجوان نسل پر نظر رکھتے ہوئے انکوصحت مندانہ زندگی گزارنے کی طرف مائل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ منشیات کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہم سب کو مل کر جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم سب مل کر کام کریں گے تو ہم بدلاﺅ لاسکتے ہیں، یہ ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان منشیات چھوڑ کر کتابیں اور لیپ ٹاپ پکڑیں، مذہب کی طرف راغب ہوں اور کرکٹ اور فٹبال کھیلیں۔









