امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 6 مارچ(یو این آ ئی)جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے جموں وکشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے امتحان کے انعقاد کے لے داغدار اور پہلے ہی بلیک لسٹ شدہ “اپیک ٹیک” کمپنی کا انتخاب کرکے ٹھیکہ دینے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی پر سپریم کورٹ کی طرف سے جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان سمیت مختلف ریاستوں مذکورہ کمپنی بلیک لسٹ کی گئی ہے ۔
اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں بھی کمپنی پر ٹینڈر کی شرائط و ضوابط کو تبدیل کرنے میں صریح بے ضابطگیوں اور قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت ایسی کمپنی کا انتخاب کیوں کررہی ہے جو اس طرح کی مشق کے انعقاد میں شفافیت اور جوابدہی فراہم کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے؟اس سوال کا جواب مطلوب ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایام کے دوران جس طرح سے متعدد بھرتی امتحانات کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا ہے اور اب ایک داغدار کمپنی کو بھرتی عمل کیلئے منتخب کرنے سے عوام میں مزید خدشات نے جنم لیا ہے۔
اس طرح کے غیر مناسب اور غیر سنجیدہ اقدامات امتحانات میں عوامی اعتماد پیدا نہیں کرسکتے ہیں ۔تعلیم یافتہ، ہنر مند اور باصلاحیت مقامی نوجوانوں کے حقیقی خدشات اور تحفظات کو کرنے کے بجائے مذکورہ بورڈ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے پر تلا ہوا نظر آرہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ تجارتی مفاد کبھی بھی عوامی مفاد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ اس معاملے میں ہو رہا ہے۔پہلے تو کمپنی کو ٹینڈرنگ کے عمل میں مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ انتظامیہ کمپنی کو عوامی امتحانات کرانے کی اجازت دینے سے گریز کرے گی۔











