امت نیوز ڈیسک //
سرینگر / محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے راشن کارڈوں کی تقسیم کاری کے عمل میں شفافیت لانے کیلئے جموں و کشمیر حکومت نے اے اے وائی اور پی اتنا انکا زمرے کے تحت آنے والے تقریباً 165 کھ مستفیدین کی جانچ پر سال کیلئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی ان دو زمروں کے تحت حاصل کرنے والے راشن کارڈ ہولڈرس سے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ تحصیل سپلائیز افسران کے سامنے ثبوت پیش کریں بصورت دیگر ان کی راشن ٹکٹس منسوخ کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق جموں کشمیر سر کارنے اے اے وائی ( غریب کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ) اور پی این ایک غریب کنبوں ) کو فراہم ہونے والے راشن کار رڈس کی از سر نو جانچ کیلئے کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی مستحق کے حق پر شب و خون نہ مارا جائے۔ ان زمرہ جات کے حامل افراد متعلقہ تحصیل سپلائی افسران کے سامنے اس کے دستاویزی ثبوت پیش کریں گے اور جو کوئی ایسا کرنے سے قاصر رہتا ہے تو ان کے راشن ٹکٹس منسوخ کئے جائیں گے۔ ذرائع نے جایا کہ بی پی ایل زمرے کے لوگوں کی تعداد ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہے جو غیر ترجیحی ہاوس ہو لڈ (این پی ایک ایچ)، جموں و کشمیر میں پہلے اے پی ایل زمرے میں آتے تھے۔ جبکہ یوٹی کے قیام سے پہلے جموں کشمیر میں این پی اتکا انکی میں پڑنے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 45لاکھ تھی اور و پی انکی انکے پانی پی ایل جموں کشمیر اور لداخ میں تقریبا 74 لاکھ تھے۔ لیکنفی الحال، خوراک، شہری فراہمی اور امور صارفین کے محلے سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، کشمیر اور جموں صوبوں میں اے اے وائی اور پی ایچ
ایچ مستفید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 65.52لاکھ ہے۔ موجود و انتظامیہ نے بڑی تعداد میں اے اے آئی اور پی اتنی نیک از مرے میں آنے اور ناجائز فائدہ اٹھانے کے بعد جموں و کشمیر میں راشن کارڈ ہولڈروں سے بڑی جانچ پڑتال اور دستاویزی ثبوت طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان زمروں میں ناکام ہونے والے افراد / کارڈ ہولڈرز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دعوے کے مطابق ان زمروں میں اخراج / شامل کرنے کیلئے اپنے متعلقہ ٹی ایس او کو رپورٹ کریں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اگر ایک مخصوص وقت کے اندر اس طرح کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا تو حکومت منسوخی کے لیے جا سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف سی ایس اور سی اے نے ایک حکمنامہ میں ” جموں و کشمیر فوڈ سیکورٹی رولز ” کے تحت مطلع کیا ہے اور نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت اخراج / شامل کرنے کا معیار مقرر کیا ہے۔ اسی کو مزید پیش کیا گیا ہے۔ جن گھرانوں کا ایک رکن ٹیکس دہندہ کے طور پر ہے ان کو ان زمروں سے
باہر رکھا جائے گا۔











