کالا جادو، جسے عام طور پر جادو ٹونا کہا جاتا ہے، برائی اور خود غرضی کے مقاصد کے لیے مافوق الفطرت طاقت کا استعمال ہے، نیز کسی کی جسمانی، ذہنی یا مالی موت کا سبب بننے کے لیے بدنیتی کی سرگرمیاں انجام دینا ہے۔ شکار کے بال، کپڑے، تصویریں، مچھلی، جانوروں کی ہڈیاں اور خون سبھی اس عمل میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
کالا جادو کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا برسوں سے کیا جا رہا ہے لیکن اس ضمن میں ہمیں انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ کالا جادو لوگوں میں غیر معقول پریشانیوں کا باعث بنتا ہے، قسمت بدلتا ہے اور لوگوں کو اُلجھا دیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق، مباکات (بنیادی جرائم) یعنی شرک (اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا) اور جادو ٹونے سے پرہیز کریں۔ 5764 صحیح البخاری۔ اس حدیث سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی کے لیے کالا جادو یا جادو کرنا کتنا برا ہے۔ کسی مذہب، معاشرے یا تہذیب نے کبھی بھی غیر اخلاقی رویے کی وکالت نہیں کی ہے۔ بلکہ یہ انسان ہی ہیں جنہوں نے قرآن مجید کی متعدد آیات کو توڑ مروڑ کر تخلیق کیا ہے جوکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نجات کے حصول کے لیے فراہم کی ہوئی ہیں۔
کشمیر میں گزشتہ چند برسوں سےکالا جادو جیسی مذموم حرکات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے؛حالیہ ایام میں سوشل میڈیا پرایسی بہت ساری ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں اس سنگین مسئلے کو ٹھوس شواہد کے ساتھ دکھایاگیا ہے تاکہ ہمارے ضمیر کو بیدار کیا جا سکے اور اس گھمبیر صورتحال کے بارے میں فکر کو ابھارا جا سکے ،جس میں ہمارا معاشرہ بری طرح الجھا ہوا ہے۔ جہاں ہمیں اپنے آپ کو مسلمان اور پیر وآر (اولیاء کی وادی) کے باشندے کہلوانے کا حق ہے، وہیں ہم نے افسوس کے ساتھ اپنے اخلاقی، مذہبی اور آداب کی پاکیزگی کو مجروح کیا ہواہے۔ جو لوگ ان برے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں انہیں’’پیر‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ پیسہ کمانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ یہ برا کام کسی کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی تندرستی میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ خاندانوں کو تقسیم کرنے، رشتوں کو ختم کرنے، کاروبار میں کمی اور شادی کے رشتوں کو خراب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔وہیںجذباتی یا مالی طور پر نیچا دکھانابھی اس عمل کے مطلوبہ مذموم مقاصدہیں۔ لوگ اب تمام حدوں سے آگے نکل چکے ہیں، اور اب وہ کالے جادو کے ذریعے ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کی ترقی پر رشک کرتے ہیں!یہ لوگ قیامت کے دن کیا کریں گے اگر انہیں دنیا یا آخرت میں معاف نہیں کیا گیا؟ کیا ان کی اخلاقیات ختم ہو گئی ہیں؟ کیا انہیں یہ احساس نہیں کہ کل ان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا؟
اگر ہم دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو دکھی کر دیں تو ہم آرام سے کیسے سو سکتے ہیں؟ ایسا کرنے سے ہم صرف زندگی اور آخرت دونوں کے لیے گناہوں کے ایک عظیم پہاڑ میں حصہ ڈالتے ہیں، برادرانہ قتل و غارت گری کے مرتکب بن جاتے ہیں، اور اپنی برادری میں مذمت کو جنم دیتے ہیں۔ اس ظلم میں ملوث افراد کو سزا دی جانی چاہیے۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے ہمارے علماء (سماجی مبلغین) کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اس سماجی مسئلے پر تبلیغ کرنی چاہیے۔۔۔سماجی کارکنوں کو چاہیے کہ وہ عوام کو ان غلط کاموں کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کریں جو افراد ایک دوسرے کے خلاف کالا جادوکرتے ہیں۔ ان نام نہاد جادوگروں (پیروں) سے معاشرے میں مکمل طور پر پرہیز کیا جانا چاہئے۔ساتھ ہی قرآن اور سنت نماز گھر میں باقاعدگی سے پڑھیں یہاں تک کہ برائی کے اثرات ختم ہوجائیں۔
(لکھاری گاندربل میں مقیم کالم نگار ہیں اور زولوجی میں ایم ایس سی کر رہے ہیں۔ )









