کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’جب انسان درندہ بن جاتا ہے تو وحشی ترین جانور کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے‘۔ سویہ بگ بڈگام کی 30 سالہ عارفہ شفیع کے بہیمانہ قتل میں ملوث وحشی شبیر احمد وانی نے مذکورہ قول کو ایک بار پھر ثابت کردیا ہے۔ایک دلہن جس کی شادی صرف کچھ ماہ بعد ہونے والی تھی‘ کایہ لرزہ خیز قتل کشمیر کی سرزمین کےلئے کسی بڑے تعجب سے کم نہیں ۔کشمیریوں کےلئے اگرچہ لاشیں اٹھانا اور دفنانا کوئی غیر معمولی عمل نہیں رہا ہے لیکن جس وحشی پن کے ساتھ ایک قتل کی گئی خاتون کی لاش کو ظالم قاتل نے مارڈالنے کے بعد غالباً اپنا جرم چھپانے کےلئے ٹکڑوں میں بکھیر دیا وہ کشمیریوں کے مزاج اور ماحول میں یقیناً متحیر کردینے والا عمل ہے۔یہ واقعہ جہاں ہمارے سماج کے تنزل کی جانب ایک واضح اشارہ ہے وہیں پر ہم سب کےلئے ایک خطرے کا الارم ہے کہ اگر اب بھی ہم نہیں جاگے تو ہمارا سماج اپنے آپ کو سماج اور مہذب انسانی معاشرہ کہلانے کا حق بھی کھو دے گا۔
معصوم خاتون کی کٹی پھٹی لاش کو جس بھی ذی حس نے دیکھا یا سنا اس کی آنکھوں سے نیند کا غائب ہوجانا کوئی اچھنبا نہیں ہے۔ یہ واقعہ ہر ذی حس و ہوش کو سوچنے پر مجبور کردیتاہے کہ آخر ہماری پیرواری کا کیا حال ہوگیا ہے کیا واقعی ہمارا معاشرہ ذلت و گمراہی کی اتھاہ گہرایئوں میں گر چکا ہے یا پھر ابھی اس کے بچنے کی کوئی امید باقی ہے۔ بہرحال بڈگام جیسے قتل کے واقعات اگرچہ یہاں کےلئے کوئی نئی یا پھر کہیں کہ انہونی بات نہیں ہیں لیکن جس انداز میں حیوان صفت قاتل نے مقتولہ کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا وہ قدرے نیا ہے۔ کشمیریوں نے ہر وقت آہ و بکاکی تھی، جلسے جلوس نکال کر قاتلوں کو سخت سزائیں دینے کی مانگ کی تھی لیکن ہنوز دلی دور است کے مصداق وہ قاتل ابھی تلک زندہ ہیں!ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وادی کے معروف قانون دان اور سابق جسٹس بشیر احمد کرمانی نے کہا تھا کہ اگر ہمارے ائمہ حضرات، ہمارے دانشوران اور ہمارے اساتذہ سر جوڑ کر نہیں بیٹھے اور کشمیری سماج میں تیزی سے پنپنے والے بگاڑ کو روکا نہیں گیا تو یہ سماج انسانوں کا سماج نہ ہوکر وحشی درندوں کا سماج بن جائے گا۔ آج عارفہ شفیع کے بہیمانہ قتل نے برسوں پہلے کی گئی باتوں کو سچ ثابت کردیا ہے۔ آج جب کہ سویہ بگ کا رہائشی متاثرہ خاندان اپنی جوان سال بیٹی کےلئے ماتم کنان ہے اور تلخی سے ایک دوسرے کی بانہوں میں ٹوٹ رہا ہے۔ آج جب کہ روتی ہوئی عورتیں بے ہوش ہو کر زمین پر گر ی پڑی ہیں۔ آج جب کہ کچھ لوگ اس ناقابل یقین جرم پر ماتم کرنے کے لیے مٹی کو ناخنوں سے نوچ رہے ہیں اور حاشیےپر چھوٹے بچے اپنے بڑوں کی آہ و فگان کا جواب اپنی سسکیوں سےدے رہے ہیں، سوچنے کا مقام آگیا ہے کہ کیا کوئی ہے جو اس سماج کو مکمل تباہ ہونے سے بچانے کےلئے آگے آئے گا۔ عارفہ شفیع کی کٹی پھٹی لاش ملنے کے بعد اس کی سہیلیاں ،اسکی ماں ،اسکی بہنیں اور بھائی جب چیخ رہے تھے کہ عارفہ ہم تجھے کیسے دفن کریں گے ،ہماری خوبصورت دلہن ہم تمہارے کھوئے ہوئے اعضا ئے جسم کو کہاں کہاں تلاش کریں گے! تو سبھی کی آنکھوں سے اشک ندامت جاری تھے۔ لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا یہ اشک ندامت یوں ہی سوکھ جائیں گے اور کوئی اس تنزل کے شکار معاشرے کے سدھار کےلئے آگے نہیں آئے گا۔ آج ہم قاتل کو پھانسی کے نعرے بلند کررہے ہیں اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ اس معاشرے اور سماج کے ذمہ داروں کو ’’بگڑتے سماجی تانے بانے‘‘کو واپس پٹری پر لانے کےلئے بھی تگ و دو کرنا پڑے گی۔بقول ایک مقامی مولوی صاحب کے ’’ہم آج یہ جنازہ کسی مظلوم خاتون کا ادا نہیں کررہے بلکہ یہ جنازہ ہم اپنے مردہ ضمیروں کا پڑھ رہے ہیں۔‘‘
ایک اور سماجی ناقد سے جب ہم نے سویہ بگ جیسے واقعات کے محرکات جاننے کی کوشش کی تو موصوف کا کہنا تھا کہ خالق کائنات نے نیکی اور بدی کے مادے انسان کی سرشت میں پیوستہ رکھے ہیں اور دونوں راستوں کی مکمل جانکاری فراہم کرکے انسان کو حق کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ یہ جو کچھ دیکھتا ،سنتا اور ہوتاہوا دیکھتا ہے اس سے ضرور اثر لیتا ہے۔ ناقد کا کہنا تھا کہ 1980کی دہائی میں سرینگر میں ایک مقام پر سسرالیوں نے بہو کو جلاکر مارڈالا تھا۔ اس واقعے کی تفصیلی تشہیر دہلی سے شائع ہونے والے ایک میگزین ’جرائم کی دنیا ‘میں چھاپ دی گئی۔ اس پر وادی کے دینی حلقے کافی ناراض ہوگئے اور میگزین کی سخت مذمت کی گئی۔ میں نےاسوقت ایک مقتدر عالم دین سے اس مذمت کی وجہ دریافت کی تھی تو انہوں نے بتایا کہ دین ہمیں جرم کی تفصیل اور ہوسکے تو وقوعے کی تشہیر سے بھی روکتا ہے کیونکہ یہ تشہیر و تفصیل بعض جرم پسند ذہنوں کےلئے جرم کا ارتکاب کرنے کی دلیل یا تحریک بن جایا کرتا ہے، یعنی یہ جرم کو روکنے کے بجائے اس کو کرنے کے دوران کن کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ قانون کی زد میں آنے سے بچا جاسکے‘ کی جانکاری فراہم کرتا ہے ۔ برصغیر کا میڈیا اور معاشرہ چونکہ ہر ہر معاملے میں گوروں کی تقلید کا شکار ہے اسلئے ہم نےبھی اُن کے ہاں چلائے جانے والے جرائم سے متعلق ٹی وی پروگراموں کی نقل اتار کر ’کرائم پٹرول،’سابدان انڈیا‘’سی آئی ڈی‘ اور نہ جانے کیسے کیسے سیریلز اور ڈرامے بنانے شروع کردئے۔ دہایئوں سے چلنے والے ’جرم کے تشیہیری ‘ڈراموں سے جرم کے ارتکاب کا گراف تو کچھ کم نہیں ہوا لیکن اس کا نتیجہ کبھی نربھیا ،تو کبھی شردھا واکر جیسے بہیمانہ قتل کی صورت میں ہمارے سامنے نکلتا آرہا ہے۔ سماجی ناقد کے مطابق ہم ٹی وی اور فلموں کے اس منفی حصے کو نہ روک سکتے ہیں اور نا ہی بند کراسکتے ہیں لیکن اتنا ضرور کیا جاسکتا ہے اپنے گھروں کے اندر اس قسم کے پروگرام دیکھنے سننے پر روک لگادیں تاکہ شریف انسانوں کے اندر موجود شیطانی حس کبھی بیدار نہ ہو اور ہماری پیرواری ہمیشہ انسانیت و روحانیت کا مرکز بنی رہی۔
بہرحال بڈگام میں وقوع پذیر ہونے والے اس بہیمانہ قتل نے واقعتاً ہمارے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن وقتی احتجاج،قاتل کو پھانسی دو اور معصوم کو انصاف دو کے نعروں کے ساتھ اب ہمیں بحیثیت ایک زندہ معاشرہ اس کے بعد والی صورت حال پر بھی کچھ غور و فکر کرناپڑے گا۔ ہمارے دینی علماء بے شک اپنے اپنے مسلک و مشرب کی ترویج کرتے رہیں لیکن معاشرے کی اقدار کو بچانے کےلئے تو سارے مسالک متفق ہیں اسلئے اس جانب بھی کچھ توجہ مبذول فرمائیں۔ ہمارے دینی ادارے اور مراکز اپنی اندرونی و بیرونی سیاست کھیلتے رہیں لیکن معاشرے کو زندہ رکھنے کی جانب بھی توجہ دیں کیونکہ معاشرہ زندہ رہے گا تو ان کے ادارے بھی پھلتے پھولتے رہیں گے۔ اسی طرح ہمارے سیاسی قائدین اور جماعتیں بھی اپنی موروثی اور معروضی کاوشیں ضرور کریں لیکن سماجی بگاڑ اور تنزلی کو روکنے کی جانب بھی کچھ قدم اٹھائیں تو بہتر رہے گا۔ اپنے سماج و معاشرے کو درست کرنا ہمارا اپنا معاملہ ہے اور اس ضمن میں اغیار سے کسی خیر کی توقع رکھنا ایسا ہی ہوگا جیسے سوئی کے سوراخ میں رسی نکالناہوتا ہے۔ امید ہے کہ بڈگام کی معصوم بہن اور بیٹی عارفہ شفیع کا لہو ضرور رنگ لے آئے گا اور ہمارے ارباب حل و عقد اس جانب بھی توجہ مبذول کرکے اپنا حق ادا کریں گے۔ یہی معصومہ عارفہ کے ساتھ حقیقی انصاف ہوگا اور یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بڈگام میں وقوع پذیر ہونے والے اس بہیمانہ قتل نے واقعتاً ہمارے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن وقتی احتجاج،قاتل کو پھانسی دو اور معصوم کو انصاف دو کے نعروں کے ساتھ اب ہمیں بحیثیت ایک زندہ معاشرہ اس کے بعد والی صورت حال پر بھی کچھ غور و فکر کرناپڑے گا۔










