• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
بدھ, جنوری ۲۸, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کرن بھائی پٹیل :گجرات کا” ٹھگ“؛ جس نے جموں وکشمیر انتظامیہ کو چونا لگادیا!

کرن بھائی پٹیل :گجرات کا” ٹھگ“؛ جس نے جموں وکشمیر انتظامیہ کو چونا لگادیا!

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
24/03/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

وادیٔ کشمیر سے کئی ایسی بڑی خبریں ہر ماہ ضرور نکل کر آتی ہیں جن کی چرچامیڈیا میں کئی روز تک چلتی ہے لیکن رواں ماہ وادیٔ کشمیر سے ایسی خبر نکل کر آئی جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا، وہیں اس خبر نے قومی میڈیا کے ساتھ ساتھ چند بین الاقوامی میڈیااداروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروائی۔وہ خبر یہ ہے کہ وادیٔ کشمیر میں مارچ کے پہلے ہفتے میں ایک ایسے’’ٹھگ اور جعلساز ‘‘کو گرفتار کرلیاگیا جس نے وزیراعظم مودی کے دفتر میں’ ڈائریکٹر جنرل‘ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے وادی میں کئی دورے کیے اور اس دوران اسے انتظامیہ کی جانب سے پورا سرکاری پروٹوکول دیا گیا ۔و ہ شخص ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والےکرن بھائی پٹیل ہیں۔

اس ہائی پروفائل معاملے میں جموں وکشمیر پولیس نے 2مارچ کو اس وقت گجرات کے کرن پٹیل کو گرفتار کیا جب وہ اپنے چوتھے دورےپر کشمیر وارد ہونے کے بعد’’دی للت ہوٹل‘‘میں آرام فرما رہے تھے۔کشمیر پولیس زون کے اے ڈی جی پی وجے کمار نے سرینگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پرمیڈیا کو کہا کہ پولیس کو ملنے والی اطلاع کی بنیاد پر2مارچ کو ہوٹل میں چھاپہ مارا گیا اور کرن پٹیل کو گرفتار کیا گیا۔چھاپے کے دوران کرن پٹیل سے 10 جعلی وزیٹنگ کارڈ اور دو موبائل فون برآمد ہوئے۔ کرن پٹیل کے خلاف جموں و کشمیر کے نشاط پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعہ 419، 420، 467 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لیکن گرفتاری سے پہلے کرن پٹیل بہت کچھ کر چکے تھے کیوں کہ اطلاعات کے مطابق یہ ان کا کشمیر کا چوتھا دورہ تھا اوراس دوران انہیں زیڈ پلس سیکورٹی،ایس یو وی گاڑی، 5 سٹار ہوٹل میں رہائش کا قیام اور اس کے علاوہ انہیں تمام دیگرسرکاری سہولیات بھی دی جارہی تھی۔ واضح رہے کرن پٹیل گزشہ سال اکتوبر سے وادی کا دورہ کر رہے تھے،اور پہلے دورے پر وہ فیملی کےساتھ وادی وارد ہوئے تھے ۔لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ کہ کرن پٹیل نے اپنا دورہ مخفی نہیں رکھا بلکہ جہاں بھی وہ گئے اس دوران انہوں نے اپنی ویڈیوز اور تصاویر اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر شیئر کیں۔کرن پٹیل نے ٹویٹر پر ایسے کئی ویڈیوز شئیر کئے جس میں وہ گلمرگ کےساتھ ساتھ بڈگام میں واقع دودھ پتھری علاقے میں سیر کے لیے گئے۔جہاں بیروہ کے سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ انکے میزبان تھے۔اتنا ہی نہیں بلکہ لالچوک میں بھی گھنٹہ گھر کے سامنے لی گئی انکی تصویر وائرل ہےجبکہ انہوں نے کمان پوسٹ اوڑی کا دورہ بھی کیااور وہاں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیں۔

دریں اثناکرن پٹیل کو مقامی عدالت کی ہدایت پر عدالتی تحویل میں 15روز تک رکھا گیا۔دوسری طرف سے اے ڈی جی پی وجئے کمار نے بتایا کہ’’ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ ایک غلطی تھی۔‘‘ وہیں میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مذکورہ شخص نے کس آفیسر سے رابطہ کرکے انتظامیہ کو دھوکہ دیا۔ پولیس کے مطابق کرن پٹیل نے کئی افراد کو دھوکہ دے کر لاکھوں روپئے بھی ہڑپ لئے ہیں۔ لیکن پٹیل نے صرف جموں وکشمیر انتظامیہ کو ہی چونا نہیں لگایا بلکہ ان پر گجرات میں بھی دھوکہ دہی کے کئی کیسز درج ہیں۔اور کئی لوگوں نے سامنے آکر پٹیل پرپانچ کروڑ سے زائد روپےہڑپ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔وہیں میڈیارپورٹس کے مطابق پٹیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکومت ہندنے جنوبی کشمیر میں سیب کے باغات کے خریداروں کی نشاندہی کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا۔ساتھ ہی انہوں نے گلمرگ میں دعویٰ کیا تھاکہ حکومت نے اسے علاقے میں ہوٹل کی سہولیات میں بہتری لانے کا کام سونپا ہے۔دوسری طرف سے انکی اہلیہ مالنی پٹیل نے شوہر کی گرفتاری کو سازش قرار دے کر کہا کہ ان کے شوہر بے قصور ہیں، وہ کشمیر میں ترقیاتی کاموں کے لیے گئے تھے۔ وہ کچھ غلط نہیں کر سکتا۔ وہ ایک انجینئر ہے اور جموں و کشمیر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرن پٹیل نے وادی کے آفیسران کو دھوکہ دینے کےلیے محض 100 روپے صرف کیے جوکہ انہوں نے 10جعلی ویزٹنگ کارڈز بنوانے پر خرچ کئے۔رپورٹ کے مطابق ان کارڈز کی مدد سے وہ سرینگر میں کچھ سینئر بیوروکریٹ، کچھ بھاجپا کے لیڈران اور پولیس افسران سے فروری میں ملے۔ذرائع نے بتایا کہ وہ ان کارڈز کو دورے کے بعد واپس لے جاتا تھا تاکہ انہیں بار بار استعمال کیا جا سکے۔ ذرائع کے حوالے سے مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پٹیل اور اس کے دو ساتھیوں( امیت پانڈیا اور جے سیتاپارہ) نے سرینگر کے ایک سینئر پولیس افسر سمیت مختلف افسران کو فون کیا، تاکہ ان کے اور دو دیگر افراد کے لیے ایک ہوٹل،زیڈ پلس سیکورٹی اور ایک بلٹ پروف گاڑی کا بندوبست کیا جائے۔بتایا جاتا ہے کہ اپنی گرفتاری سے قبل پٹیل نے سرینگر میں اپنی سیکورٹی کے ساتھ موبائل سگنل جیمر فراہم نہ کرنے پر ایک سینئر پولیس آفیسر کو ڈانٹا تھا۔
پٹیل کا ٹویٹر اکاؤنٹ تصدیق شدہ(بلیو ٹِک) ہے۔ اس کے ٹویٹر پروفائل کے مطابق، اس نے ورجینیا میں کامن ویلتھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور آئی آئی ایم ترچی سے ایم بی اے کیا ہے۔ اس نے ٹوئٹر پر خود کو ایک مفکر، حکمت عملی ساز، تجزیہ کار اور مہم مینیجر بتایا ہے۔

بی بی سی (گجراتی)کی ایک رپورٹ کے مطابق گجرات کے ضلع احمد آباد کے ناز گاؤں سے تعلق رکھنے والے اور احمد آباد شہر کےعیسان پورعلاقے میں آباد کرن پٹیل نے مبینہ طور پر بی جے پی لیڈروں کے خاندان سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔سنہ 2003 سے کرن پٹیل لگاتار احمد آباد میں وشو ہندو پریشد کے دفتر آ رہے تھے اور خود کو بی جے پی کارکن کے طور پر پیش کر رہے تھے۔اس دوران وہ سرٹیفکیٹ دکھاتے کہ وہ ٹونگو کی ’کامن ویلتھ یونیورسٹی‘ میں کنسلٹنٹ ہیں اور دعویٰ کرتے کہ انھوں نے پی ایچ ڈی کی ہے اور اب وہ دہلی کے مین باغ علاقے میں رہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اتل ویدیا کافی عرصے سے وشو ہندو پریشد سے وابستہ ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ خود کرن پٹیل سے ملے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ’ ’میں پہلی بار کرن سے سنہ 2003 میں ملا تھا۔ وہ ہمیشہ لیڈروں کے سامنے جھکتے تھے۔ وہ خود کو بی جے پی کا ایک عام کارکن بتاتے تھے اور دفتر آ کر سب کی خیریت دریافت کرتے تھے۔ لیکن اس کا کسی سے کوئی قریبی تعلق نہیں تھا۔‘‘وہ مزید دعویٰ کرتے ہیںکہ ’’آچاریہ دھرمیندر جی (وشوا ہندو پریشد کے رہنما) کی وفات کے بعد جب احمد آباد کے جگناتھ مندر میں انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک پروگرام چل رہا تھا تو کرن پٹیل میرے پاس آئے اور کہا کہ انھوں نے ایک غیر ملکی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور پی ایم او (وزیراعظم کے دفتر) میں تعینات ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا تھا کہ انھیں وہاں ڈپٹی ڈائریکٹر کی ذمہ داری ملی ہے۔‘‘ڈاکٹر اتل ویدیا کے مطابق کرن پٹیل نے انھیں بتایا تھا کہ کشمیر اور اتراکھنڈ میں ترقیاتی کاموں کے منصوبے انھیں دیے گئے ہیں۔ اس وقت کرن پٹیل نے ڈاکٹر ویدیا کو دہلی کے کئی لیڈروں کے ساتھ تصویریں بھی دکھائی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرن پٹیل اس وقت شک کے دائرے میں آئے جب انہوں نے ایک سینئر اہلکار کو بڈگام ضلع کے سرکاری دورے پر اپنے ساتھ جانے کو کہا۔ ذرائع کے مطابق افسر نے سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر سے رابطہ کیا۔ انٹیلی جنس آفیسران کی بعد ازاں تفتیش نے جعلساز کو بے نقاب کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک آئی اے ایس افسر جو جنوبی کشمیر میں ضلع مجسٹریٹ ہے نے ابتدائی طور پر پولیس کے سیکورٹی ونگ کو ’’سینئر پی ایم او آفیسر‘‘ کے دورے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔آخر کار اسے سکیورٹی ونگ نے زیڈ پلس سکیورٹی فراہم کی، اور اکتوبر سے اب تک وہ چار دوروں کے دوران جہاں بھی گئے مقامی پولیس بھی ’وی آئی پی‘کے ساتھ تھی۔جعل ساز، کرن بھائی پٹیل نے حکام کے ساتھ سلسلہ وار میٹنگیں بھی کیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دو پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ یہ ایک بڑی تشویش کی بات ہے کہ ایک آئی اے ایس افسر نے ایک جعلساز کو پی ایم او کے اہلکار کے طور پر متعارف کرایا، اور پولیس کے سیکورٹی ونگ اور دیگر عہدیداروں کو اتنے لمبے عرصے تک سرکاری پروٹوکول اور زیڈ پلس سیکورٹی کور کے ساتھ پابند کیا گیا۔تفصیلاتا کے مطابق گجرات پولیس کی ایک ٹیم بھی تحقیقات میں شامل ہوئی ہے اور پٹیل سے پوچھ گچھ کی ہے۔

کرن پٹیل کی دھوکہ دہی سے جہاں عام لوگ حیران ہیں وہیں اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر مرکزی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نےکئی سوالات کھڑے کرتے ہوئے پوچھا کہ اس شخص کا پتہ دہلی کا ہے اور وہ گزشتہ پانچ ماہ سے 55 سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کشمیر کے انتہائی حساس علاقوں میں گھوم رہا ہے۔ اسے وہاں کس نے اور کیوں بھیجا، اس بارے میں صورتحال واضح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے خود ٹویٹ کیا ہے کہ وہ کشمیر کی وادیوں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ شخص پانچ ماہ سے وزیر اعظم کے دفتر کے نام کا استعمال کر کے زیڈ پلس سکیورٹی کے ساتھ کشمیر کے حساس علاقوں میں کیوں گھوم رہا ہے؟ وہ ایسی جگہ جا رہا ہے جہاں عام آدمی نہیں جا سکتا۔ دہلی کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ وہ وہاں گھوم رہا ہے؟ وہ شخص خود ٹویٹ کرکے اور اپنی تصویر لگا کر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کر رہا ہے کہ اسے کشمیر میں خدمت کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔۔۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ”ٹھگ غیر ملکی ہوں یا مقامی حکومتی سرپرستی اور مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے والوں کو پروٹوکول، سیکورٹی اور طاقتور بابوں تک رسائی دی جاتی ہے۔ اس کا موازنہ عام کشمیریوں سے کریں جنہیں ہر ممکن طریقے سے مشکوک اور ہراساں کیا جاتا ہے۔“نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہاکہ جب ان کے پارٹی لیڈران نے انتظامیہ سے کسی بھی علاقہ میں سفر کرنے لے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تو انہیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ انتظامیہ کے پاس کوئی گاڑی یا سکیورٹی اہلکار میسر نہیں ہے۔ اس کے برعکس گجرات سے آئے ہوئے ایک ٹھگ کو انتظامیہ بہت سے مراعات دیتی اور انہیں ایک بلٹ پروف کار کے علاوہ ایک ایسکارٹ آگے اور دوسرا پیچھے، ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک کمرہ فراہم کیا گیا، اور وہ ہر شام افسران سے ملاقاتیں کرتے تھے۔

دریں اثناسیاسی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کرن پٹیل کے وکیل ایڈوکیٹ ریحان گوہر نے کہا ہےکہ ان کے ساتھ دو اور لوگوں کو پولیس نے رہا کر دیا ہے۔گوہر نے میڈیا نمائندوں کو بتایا ہے کہ ’’میرے مؤکل نے مجھے بتایا کہ اس کے ساتھ گجرات کے دو اور لوگ بھی تھے۔ پولیس نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا ہے۔ دونوں کو پولیس نے رہا کر دیا۔‘‘

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

اسکول کھلنے کے بعد اب کیا!

Next Post

اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی کے راز

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

سیاست میں ملوث، ایم ایل ایز کو نظرانداز کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی: نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری

سیاست میں ملوث، ایم ایل ایز کو نظرانداز کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی: نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری

28/01/2026
اجیت پوار کی موت کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کی جائے، ممتا بنرجی کا مطالبہ

اجیت پوار کی موت کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کی جائے، ممتا بنرجی کا مطالبہ

28/01/2026
یاسین ملک اب گواہ سے از خود جرح نہیں کر سکتے

یاسین ملک کیس: دہلی ہائی کورٹ میں این آئی اے کی سزائے موت کی اپیل پر 22 اپریل کو سماعت

28/01/2026
جموں و کشمیر میں طلبہ کی خودکشیوں کی روک تھام کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم

جموں و کشمیر میں طلبہ کی خودکشیوں کی روک تھام کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم

28/01/2026
اجیت پوار کی موت پر وزیر اعظم مودی، ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا اظہار افسوس

اجیت پوار کی موت پر وزیر اعظم مودی، ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا اظہار افسوس

28/01/2026
مہاراشٹر میں طیارہ حادثہ: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک

مہاراشٹر میں طیارہ حادثہ: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک

28/01/2026
Next Post
اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی کے راز

اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی کے راز

رام صرف ہندوؤں کے نہیں، سب کے بھگوان ہیں:فاروق عبداللہ

رام صرف ہندوؤں کے نہیں، سب کے بھگوان ہیں:فاروق عبداللہ

راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم

راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم

کپوارہ میں ایل او سی پر ملی ٹینٹ مارا گیا ،در اندازی کی کوشش ناکام

کپوارہ میں ایل او سی پر ملی ٹینٹ مارا گیا ،در اندازی کی کوشش ناکام

گورنمنٹ ملازمین کے لیے سوشل میڈیا پالیسی

گورنمنٹ ملازمین کے لیے سوشل میڈیا پالیسی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »