رویت کے ضمن میں مختلف آراء کوئی انوکھا معاملہ نہیں ‘ بس سوچ سمجھ کر اور دین کی ضرورت کے مطابق عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر میںاس برس رویت ہلال کا معاملہ کچھ ناخوشگوار موڑ لینے کے بعد بالآخر سلجھ چکا ہے۔ یہ معاملہ کیونکر اور کیسے اُلجھ گیا اس سے قطع نظر یہ امر خوش آئند ہے کہ یہاں کے علمائے کرام نے مسلک اور مشرب کی تفریق سے اوپر اُٹھ کر خود پہل کی اور23 مارچ کو پیدا ہونے والے تنازعے کو28 مارچ کے روز باہمی افہام و تفہیم سے حل کردیا۔کشمیری 22 مارچ کو نماز مغرب کے بعد روایتی طور پر چاند کے نظر آنے یا نہ آنے سے متعلق خبریں ملاحظہ کررہے تھے۔عرصہ دراز سے یہاں کی روایت رہی ہے رمضان المبارک اور عیدین کے سلسلے میں رویت ہلال کے معاملے میں ہمسایہ ملک کی ہلال کمیٹی پر ہی اکتفا کیا جاتا رہا ہے نیز اس معاملے کو سیاسی سے زیادہ مذہبی اور جغرافیائی تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس برس بھی اُمید یہی تھی کہ معاملات احسن طریقے کے مطابق حل ہوں گے لیکن جہاںہمسایہ ملک کی ہلال کمیٹی نے حسب روایت چاند کی رویت کے ضمن میں خاصی تاخیر کردی ،یہاںکے مفتیان کرام کچھ جلدی میں نظر آئے اور وہاں سے رویت یا عدم رویت کا فیصلہ آنے سے قبل ہی اخبارات اور نیوز پورٹلز پر جموںو کشمیر کے سرکاری سطح پر تسلیم شدہ مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام کا عدم رویت سے متعلق بیان آگیا۔ اس کےقبل دہلی کے شاہی امام کی جانب سے بھارت بھر میں نیز بنگلہ دیش میں بھی چاند نظر نہیں آنے کا فیصلہ کیا جاچکا تھا ۔مساجد میں عشاء کی نمازیں ادا کی گئیں تھیں اور لوگ یہ سوچ کر کہ پہلا روزہ 24 مارچ کو رکھنا ہے‘ سوچکے تھے۔ ایسے میں رات گیارہ بجے کے قریب ہمسایہ ملک کی ’’ہلال کمیٹی‘‘ نے ہلال نظر آنے اور23 مارچ سے ماہ رمضان المبارک شروع ہونے کا اعلان کرڈالا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس برس محکمہ موسمیات اور چاند کی حرکات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پاکستان، جموں وکشمیر بلکہ متحدہ بھارت کے اکثر شمالی علاقوں میں چاند نظرکا قوی امکان تھا کیونکہ ایک روز قبل پیدا ہونے والے چاند کی عمر اس خطے میں چاند نظر آنے کے اوقات میں 20 گھنٹے سے زیادہ ہونے والی تھی اور ماہرین کا قوی خیال تھا کہ مخصوص جغرافیائی خطے میں 22 مارچ کی شب چاند کا نظر آنا ممکن ہے ۔ اس سائنسی حقیقت کو دوسرے دن کے چاند نے بھی بڑی حد تک واضح کردیا تھا کیونکہ 23 مارچ کی شب نکلنے والا چاند نہ صرف خاصا بڑا بلکہ اس کی رویت کا دورانیہ بھی کافی لمبا تھا۔
بہرحال22 مارچ کی شب ہمسایہ ملک سے خبر آنے کے معاً بعد کشمیر بھر کی مساجدمیں اعلانات اور اذانوں کی گونج سنائی دی۔ لوگ مساجد کا رُخ کرنے لگے جہاں رات گئے تراویح کا اہتمام کیا گیا اور یوں عوام الناس نے فیصلہ سنادیا کہ وہ 23 مارچ سے ہی روزوں کا آغاز کررہے ہیں۔
انتشار کی یہ صورت حال غالباً اس لئے بھی پیدا ہوئی کہ ماضی میں روایتی طور پر مفتی اعظم ہی رویت یا عدم رویت کا اعلان کرتے تھے اور کوئی مذہبی جماعت یا گروہ یا عالم اس کے اندر کسی بھی سطح پر کوئی مداخلت نہیں کرتا تھا۔ لیکن اس برس جہاں مفتی اعظم کا بیان آیا تھا وہیں پر کئی جماعتوں اور علماء کے الگ الگ بیانات بھی آچکے تھے۔اس پر مستزاد یہ کہ جب عوامی رجحان سامنے آگیا تو مفتی اعظم سے صحافیوں نے وضاحتیں طلب کیں اور وہ جذباتی ہوگئے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں رویت ہلال کے ضمن میںپونچھ سے قدرے کمزور شہادت موصول ہوئی تھی لیکن چونکہ وہ کمزور تھی اسلئے اسے قبول نہیں کیا گیا اور یہ کہ وہ اپنے فیصلے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ پھر بریلوی طبقے سے تعلق رکھنے والے عالم مولانا غلام رسول حامی کا بھی بیان آگیا جنہوں نے ماہ صیام 23 مارچ کو شروع نہ کرنے کے فیصلے کا بھر پور دفاع کیا۔ فیس بک وغیرہ پر جمعیۃ اہل حدیث جموںو کشمیر سے منصوب ایک بیان میں بھی اسی قسم کا فیصلہ سنایا گیا، اگرچہ رات دیر گئے جمعیۃ اہل حدیث کے مفتی اعظم محمد یعقوب بابا المدنی نے ماہ صیام کے23 مارچ سے ہی شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
یہ ایک نازک صورت حال تھی کیونکہ لوگوں نے مفتی اعظم اور دوسرے علمائے کرام کی بات کو اَن سنا کرتے ہوئے خود فیصلہ کردیا تھا اور یوں علمائے کرام کے ساتھ ساتھ خود مفتی اعظم کا دفتر بھی بے اعتبار ہورہا تھا۔ سوشل میڈیا پر مفتی اعظم کی کافی ٹرولنگ کی گئی جس نے صورت حال کو اور بھی مکدّر کردیا۔ یہ بات کسی کے علم میں نہیں ہے کہ رویت ہلال کا یہ معاملہ اس برس کیوں اتنا بگڑ گیا لیکن ایک بات شدت سے محسوس کی گئی کہ اس ضمن میں کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایک جماعت جو اپنے آپ کو آزاد خیال دینی گروہ سے تعبیر کرتی ہے‘ سے وابستہ ایک اسکالر نے راقم کو بتایا کہ اس معاملے میں مفتیوں اور مولیوں کو اختیار دینا ہی سب سے بڑی نادانی ہے۔ ان صاحب کے بقول سیاروں، ستاروں ، چاند اور سورج کی گردش،پیدائش اور مطالع و مغارب سے مولویوں کا کیا واسطہ ؟ یہ کام فلکیات کے سائنس سے وابستہ، علم نجوم جاننے والے یا کم از کم محکمہ موسمیات محکمےکا ہے اور انہیں کو یہ کام سوپنا جانا چاہئے۔ہم نے موصوف سے سوال کیا کہ کیا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں بھی رویت ہلال علم فلکیات والوں سے ہی کرائی جاتی تھی جس کا موصوف کوئی جواب نہیں دے پائے۔ ہم نےاسلامیات کے ایک طالب علم سے جب یہی سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام ہمیں ماڑدن ذرائع استعمال کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اس کی ترغیب دیتا ہے لیکن اگر مولویوں اور علمائے کرام کی ضد و عناد میں اگر ہم صرف ماڑدن ذرائع اور سائنسی علوم جاننے والوں پر ہی اکتفا کریں گے تو دین کے معاملے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ ہمیں ایک دوسرے کی سرحد میں گھسنے کے بجائے باہمی طور پر دونوں یعنی علمائے کرام اور سائنس جاننے والوں کو ایک ساتھ بٹھا کر اس معاملے کو آگے چلانا پڑے گا۔ سعودی عرب اور ہمارے ہمسایہ ملک وغیرہ میں اسی امتزاج سے رویت ہلال کا معاملہ برتا جاتا ہے اور اپنی تمام تر کمیوں کے باوجود یہ ایک اچھا نظام ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رویت ہلال سے متعلق کسی ملک کی ہلال کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم کرنا کسی بھی صورت میں کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ جغرافیائی محل وقوع کا ہے اور رویت ہلال میں سیاست سے زیادہ جغرافیہ ہی ملحوظ نظر رکھی جانی چاہئے۔ موٴرخین کاماننا ہے کہ برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد سے کشمیر میں لوگوں نے رمضان اورعید کے چاند سے متعلق ہمسایہ ملک کی ہی تقلید کی ہے۔معروف موٴرخ اور محقق ظریف احمد ظریف کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ’ ’ظاہر ہے کشمیر پاکستانی جغرافیائی خطے کے بہت قریب ہے۔ اس بارے میں علماء یہ کہہ چکے ہیں کہ کسی خطے میں چاند دیکھنے کے لیے قریبی اور مناسب مطلع کی طرف دیکھنا ہوتا ہے۔ پاکستانی خطہ ہمارے یہاں چاند کا مطلع رہا ہے۔ لہٰذا یہ کشمیریوں کا کسی ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح دینے کا مسئلہ نہیں، یہ خالص مذہبی اور شرعی مسئلہ ہے۔‘‘اُن کا مزید کہنا ہے کہ انڈیا جیسے بڑے ملک کے تمام خطوں میں رویت ہلال کے معاملے پر اکثر تنازعہ ہوتا ہے کیونکہ ’’رویت ہلال کا مسئلہ تاریخ یا سیاست نہیں بلکہ جغرافیہ اور فلکیاتی نظام کا مسئلہ ہے۔ہم نے کئی بار دیکھا ہے کہ جنوبی ہند میں کبھی کبھی ایک دن پہلے یا ایک دن بعد عید منائی جاتی ہے۔ ہم جغرافیہ یا فلکیات کے مسئلے کو سیاست کے زاویے سے نہیں دیکھ سکتے۔‘‘
بہرحال 22 مارچ کی شب کو پیدا ہونے والی انتشاری صورت حال کے بیچ جموں وکشمیر وقف بورڈ کی چیئر پرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کا کہنا ہے کہ چاند دیکھنے کے لئے ہم اپنی رویت ہلال کمیٹی بنائیں گے تاکہ لوگ کسی کنفیوژن کا شکار نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بھی ضروری ساز و سامان اور ایک کنٹرول روم ہونا چاہئے تاکہ ہم خود چاند کو دیکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں مفتی اعظم جو اعلان کرتے تھے تو لوگ اس پر اتفاق کرتے تھے لیکن کل ایک کنفیوژن پیدا ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی کوشش کریں گے کہ اگلی عید تک اس قسم کا کنفیوژن نہ رہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہمارے پاس بھی ایک رویت ہلال کمیٹی ہونی چاہئے جس کے پاس بڑے ٹیلی اسکوپ ہوں اور ایک کنٹرول روم بھی ہو تاکہ ہم خود چاند دیکھ سکیں۔موصوفہ نے کہا کہ آج سائنسی دور ہے اور ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے اور ہمارا محکمہ موسمیات بھی بہت جدید طریقے سے کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وقف رویت ہلال کمیٹی کا کوئی کنٹرول نہیں کرے گا لیکن لوگوں کا اصرار ہے کہ ہمیں اپنی رویت ہلال کمیٹی ہونی چاہئے، اس کے لئے ہم تمام لوگوں سے رائے طلب کریں گے۔ان کا مذید کہنا تھا کہ رمضان المبارک اور ہلال جیسے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ معاملات لوگوں کے مذہبی عقیدے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے نیز کنفیوژن اور انتشار سے نجات حاصل کرنے کےلئے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے 28 مارچ کو متحدہ مجلس علماء کی میٹنگ بلائی اور خوش آئند طور پر اس میٹنگ میں جملہ مسالک و مشارب کے علمائے کرام اور سربراہاں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں شرکت کرنے والوں میں مولانا رحمت اللہ قاسمی، پروفیسر محمد طیب کاملی، مولانا غلام محمد بٹ المدنی، آغا سید حسن الموسوی، مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا فیاض احمد رضوی، مولانا غلام رسول حامی، ڈاکٹر سعید الرحمان شمس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اجلاس میں کافی غور و خوض کے بعد23 مارچ سے ہی رمضان المبارک کی شروعات ہونے کو تسلیم کیا گیا اور کہا گیا کہ شب قدر17اپریل جبکہ 20 اپریل کو چاند نظر آنے کی صورت میں وہ لوگ جنہوں نے24 مارچ سے روزوں کی شروعات کی تھی ‘عید کے بعد ایک دن کا قضا روزہ رکھیں گے۔ اس موقع پر مفتی اعظم نے جذباتی انداز میں کہاکہ ”جہاں میری قوم وہاں میں ہوں، جہاں ان کا دل وہاں میں ہوں جس کے ساتھ وہ ہیں میں بھی اسی کے ساتھ ہوں۔“ میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران مفتی اعظم ناصر الا سلام نے کہاکہ میں خیانت کے بارے میں سو چ بھی نہیں سکتا اور نہ ہی میں کسی کا آلہ کار ہوں۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ میرے اوپر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر کئے گئے تبصروں پر افسوس ہے ، میں نے کسی کے دباؤ میں فیصلہ نہیں کیا ۔انہوں نے کہاکہ عید کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ علمائے کرام سے مکمل مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی اعلان سے پہلے محکمہ موسمیات سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ اجلاس کی اندرونی کاروائی سے واقف ایک جانکار کی مانیں تو اس دوران کئی جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ علمائے کرام اپنے مسلکی اور ذاتی تضادات اور اختلافات کو یکسے بھول بھال کر جمع ہوئے تھے اور ہر ایک اس بات پر متفق تھا کہ دین کے بارے میں کسی بھی انتشار و افتراق کو کسی بھی صورت میں پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر مولانا رحمت اللہ قاسمی نے ایک جاندار اور فکر انگیز تقریر کی اور رویت ہلال کے تعلق سے سیر حاصل گفتگو کی ۔مولانا رحمت اللہ قاسمی نے اپنی تقریر میں جغرافیائی اور فلکیاتی طور پر بھی کئی اہم چیزوں کے بارے میں انکشافات کئے اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ دینی معاملات کو حساسیت اور ذمہ داری کے ساتھ طے کرنا چاہئے کیونکہ یہ عوام الناس کی عبادات اور اعتقادات کا مسئلہ ہوتا ہے جس کےلئے اللہ تعالیٰ کے حضور باز پرس ہوگی۔ مجلس کے اختتام پر مفتی ناصر الاسلام نے ایک متفقہ قرارداد پیش کی ، جس میںاعلان کیاگیا ہے کہ شب قدر17اپریل کو ہوگی جبکہ 20اپریل کو چاند نظر آنے کی صورت میں وہ لوگ جنہوں نے 24 مارچ سے روزوں کی شروعات کی تھی عید کے بعد ایک دن کا قضا روزہ رکھیں گے۔ اس طرح یہ قرارداد بقول غلام نبی کشافی متحدہ مجلس علماء کی طرف سے سابقہ فیصلے سے رجوع کرنے کی قرارداد تھی کہ اس سال رمضان کا آغاز جمعرات 23 مارچ سے ہوا ہے، نہ کہ24 مارچ جمعہ سے ۔یوں مجلس میں سارے انتشار کو دور کردیا گیا اور رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سے لیکر شب قدر کے 5 شبوں کا معاملہ بھی الحمد للہ سلجھ گیا۔ بقول کشافی صاحب کے’’ میرے نزدیک یہ فیصلہ درست ہے ، اور کسی بھی شرعی مسئلہ میں رجوع کرنے سے کسی عالم یا مفتی کی عزت و توقیر یا اس کی علمی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ، بلکہ اس سے عوام میں اس کی عزت و توقیر اور اضافہ ہو جاتا ہے ، اور لوگوں کو بھی اس فیصلہ کے منظر عام پر آنے کے بعد کسی بھی ناشائستہ زبان یا کسی نامناسب حرکت سے اجتناب کرنا چاہئے ، کیونکہ تاریخ اسلام میں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کے بعد فیصلے بدلنے کی بیشمار مثالیں موجود ہیں ، اور اس بار کشمیر میں چاند کو لیکر جو مسئلہ پیدا ہوا تھا ، وہ کوئی انوکھا واقعہ نہ تھا ، تاریخ میں اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں ، اور ان چیزوں سے سبق حاصل کرکے آئندہ کا متفقہ لائحہ عمل وضع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘







