آج کل کے اِس جدید دور میں تعلیم عام ہوگئی۔ اِس جدید تعلیمی نظام نے لوگوں کے ذہنوں کے اندر نمایاں تبدیلیاں لائی۔ اگر ہم پُرانے دُور کے لوگوں کے رشتوں کی طرف دیکھیںگےجب گِنےچُنے لوگ تعلیم یافتہ تھے اور آج کل کے جدید دور کے سماجی رشتوں میں فرق جاننے کی کوشش کریں گے، جب کہ تعلیم عام ہوگئ ہے۔ ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دولت، شہرت ، جہیز اور دُنیاوی زینت نے رشتوں میں خلوص کو ختم کردیاہے۔ یہی رشتوں کے زوال اور نفرتیں بڑھنے کے اصل وجوہات ہیں۔ وہ رشتے جن میں خلوص، اتفاق اور اعتبار مکمل ہوتا ہے، وہ رشتے چٹان کی طرح مظبوط اور زرخیز زمین کی طرح سرسبز اور شادآب رہتے ہیں۔ اُن رشتوں کی کامیابی،شادآبی انسانی دلوں کو خوش کرتی ہے۔ اُن رشتوں میں آپسی عزت اور اوروں کو بھی عزت ملتی ہے۔ اُن رشتوں سے اور رشتے بڑھتے بھی ہیں اور وہ بھی مظبوط ہوتے۔ نتیجے کے طور اُن رشتوں کی پگڑ میں تمام متاثر لوگ کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کی نیکی اور خیرخواہی کے فکر میں آگے بڑھتے ہیں۔اگر ان میں ذرہ سی بھی اختلاف اُٹھے، وہ جلد ہی اپنے ضمیر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر ہم دہائیوں یا صدیوں قبل کی بات کریں گے۔ اُس وقت رشتوں کے اندر احساسات موجود تھے۔ اکثر لوگ اَن پڑھ تھے۔ لیکن علاقے کے امن و سکون بحال رکھنے والے لوگ اگرچہ کم علم والے تھے۔ لیکن اُن کا خلوص اور انصاف علاقے کے لئے رحمت تھا۔ اُن کا اثرورسوخ علاقے کے اَن پڑھ لوگوں کو غلط راستے پر چلنے سے روکتا تھا۔ وہ اثر و رسوخ والے لوگ الله تعالیٰ سے ڈرنے والے ہوتے تھے۔علاقے کے سب لوگ علاقے کے بڑوں کی عزت کرتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا وہ بڑوں کی عزت کرنا اور اُن کی حیا ان کی زندگیوں کے لئے امن و سکون اور خوشحالی کا سبب بنتا تھا۔ اِسی طرح سے جب بھی کسی بستی کے اندر فتنے جنم لیتے تھے،خدا سے ڈرنے والے حاکمین کے اپنے منصفانہ روئیے سے سب کچھ ٹھیک ہوتا تھا! لوگ حسد کی بڑھتی بیماریوں سے بچےہوئےتھے۔ لیکن آج کل کے بڑوں کی اتنی عزت کون کرتاہے؟ اسی وجہ سے اِس دور میں اکثر گھر اور خوشحال رشتے چند منٹوں میں راکھ ہو جاتے ہیں۔ لوگ عدالت کی دکانوں میں انصاف کے بڑے خریدار بن گئےہیں۔ سالوں بعد عدالت کی کاروائی مکمل ہو جاتی ہے۔ تب تک لوگ زلت اُٹھاتے اُٹھاتے تھک جاتے ہیں۔
ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ پرآنے زمانے کے لوگ بالکل سیدھے سادھے اور دِل کے سچے تھے۔اُن کا مقابلہ محنت اور ایثار سے تھا نہ کہ دُنیاوی زیب وزینت کے مقابلے میں پھنسے ہوئے تھے۔ اور آج کل کے زمانے میں لالچ کے مرض نے دلوں کو آلودہ کردیاہے۔ پُرانے زمانے میں لوگوں کے خلوص اور نیک نیتی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنا پسند کرتے تھے جس کی وجہ سے رشتے میٹھے اور مظبوط ہوتے تھے۔غریبی کی شدت میںاکثر لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد اور خیرخواہ تھے۔ اگر کبھی کوئی لڑائی یا جھگڑہ ہوتا تھا، مصیبت میں ایک دوسرے کے کام آنے کی وجہ سے وہ تمام لڑائی جھگڑے ختم ہوجاتے تھے۔ جب ہم اپنے بڑوں کے تعلق کو جانتے ہیں وہ پیٹھ پیچھے کوئی برائی نہیں کرتے تھے۔ نہ کسی سے بغض رکھتے تھے۔ یہی اُن کے سچے دل ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کے برعکس آج کل کے دور میں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ آگے بڑی عزت کرتے ہیںلیکن پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنا عادت بن گئی ہے۔ جب یہ باتیں سامنے آجاتی ہیں تو سب کچھ تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ آپس میں حسد اور نفرتیں بڑھ جاتیں ہیں۔ ان بگڑھے ہوئے تعلقات اور رشتوں کی وجہ سے اور نئے رشتے خراب ہو جاتے ہیں۔ جسکا یہ انجام نکلتا ہے کہ لوگ ذہنی اور دل کے مرضوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پھر زندگیاں ختم ہو جاتی ہے۔
آج کل کے تعلیمی نظام نے انسانی زندگیوں کے اندر کئی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ انسانی سوچ کے اندر کافی بدلاؤ آگیاہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کل کے زمانے میں ایک طرف کسی کی مدد کرنے کو انسانیت کا نام دیا جاتا ہے،لیکن دوسروں کے حقوق کی پامالی کو خوشی سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انسان خودداری کے سوچ میں خودغرض بن گیاہے۔ تن کی زینت سے فریب دینا عقلمندی کا ثبوت گردانا جاتا ہے۔ کیا فرق پڑتا کہ اگر دل میں خلوص پیدا کرکے اپنے من کو بھی صاف رکھا جاتا۔ دوسروں کی بُرائی کا جواب نیکی سے دیا جاتا۔۔۔
ایک وقت تھا جب لوگ غربت اور تنگ دستی کے شکار تھے۔ یہ تنگ دستی اور غریبی اُن کے اندر صبر پیدا کرتی تھی۔ دولت کم تھی، لالچ بھی کم تھا۔ اِسی نتیجے میں انسانی دِلوں کے اندر خلوص برقرار رہتا تھا۔ پھر رشتوں کی قدر کی جاتی تھی۔
آج کل کے دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بڑھتی پریشانی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہماری معاشی، اقتصادی زندگیاں خرآب ہو گئی ہیں۔ اتنا ہی نہیں اِس کا سب سے بڑا اثر ہمارے رشتوں پر پڑاہے۔ کیونکہ آج کل کے اکثر رشتے پیسوں اور زیب وزینت پر چلتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ دور ترقی سے زیادہ بربادی کی طرف چلا گیا ہے!!
حق بات یہی ہے کہ ہمیں اپنے ضمیر اور احساسات کو ٹھیک کرنے کے لئے اپنے رشتوں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ دکھاوے اور لالچ کی بناوٹ کو مٹانا ہوگا۔ اپنے دلوں کے اندر خلوص پیدا کرنا ہوگا۔ دولت، شہرت، دنیاوی دکھاوے کے بجائے سادگی اپناکر رشتوں میں اعتماد اور جان ڈالنی ہوگی۔ دوستوں کی نفسیاتی رائے کے بجائے عالموں کی راے کو قبول کریں۔ دُنیاوی دکھاوے کے بجائے علم کی جستجو کریں۔ سادگی اور خلوص سے ہی رشتوں کو آگے بڑھائیں۔ دولت اور زینت کے فریب میں رشتوں کو نہ بگاڑیں۔ جہاں سادگی اور خلوص نہ ہو وہاں رشتوں کی عمریں کم ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے فتنے جنم لیتے ہیں اور انسانی زندگیاں بربادہوجاتی ہیں۔











