• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
نوکریوں کے امتحانات کا سراب!

سرینگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ:انتظامیہ کا تصور اور عوامی خدشات

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
06/04/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

یہ شہرہوشیار ہوتے ہوتے کہیں بے ترتیب تو نہ ہوگا ؎

کسی شہر، قصبے ،گائوں یا ملک کی تعمیر و ترقی کے منصوبے بہرصورت مثبت ہی مانے جاتے ہیں اور دنیا کا دستور ہے کہ یہ تعمیر و ارتقاء کے کاموں کو یاد رکھنے نیز تخریب و بربادی کے افعال کو فراموش کرنے میں ہی خیریت و عافیت سمجھتی ہے۔ ترقی اور تعمیر کا عمل اگر لوگوں کی بھلائی اور بہبود کے ساتھ جڑا ہوا ہو تو اسے خیر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر بالفرض تعمیر و ترقی کا کام عوامی بہبود اور منشاء کے منافی ہو تو اسے کوئی خیر سے تعبیر نہیں کرتا۔

آجکل سرینگر شہر اور اس کے گردونواح میں سڑکوں، عمارتوں، گلیوں اور کوچوں کی توڑ پھوڑ اور نئے سرے سے تعمیر کا کام کہیں سرعت کے ساتھ تو کہیں سست روی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ یہ تخریب دراصل نئی تعمیر کےلئے ہورہی ہے جس کی تکمیل سے نہ صرف شہر کو اسمارٹ بنایا جائے گا بلکہ شہر میں موجود لوگوں کی زندگیوں کو بھی پرسکون اورپر تعیش بن جائے گی۔ خدا کرے ایسا ہی ہو جیسا کہ سرکار اور انتظامیہ دعویٰ کررہی ہے ۔ لیکن اس عمل کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ جس نے لال چوک اور شہر کے دوسرے حصوں کے تاجروں ، یہاں کا سفر کرنے والوں اور یہاں کے مکینوں کا بُرا حال کردیا ہے۔ ایک بڑے عرصے سے شہر اور شہر کا مرکز بے ہنگم کھدائی اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے جس نے وقتی طور پر ہی سہی لیکن عوام الناس کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔

سرینگر شہر کے کچھ حصوں کو اسمارٹ بنانے کے لیے اور اس کی تعمیر نو کے لیے بہت پناہ وسائل لگائے صرف کئے جارہے ہیں۔تاہم، اس ضمن میں جاری بہت سے منصوبوں کوکئی مشکلات کا سامنا بھی ہے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ سرینگر کا تاریخی شہر یونیسکو سے منظور شدہ شہر ہے اور یوں تعمیر نو کے اس سلسلے کے دوران حکام کو اس کی تاریخ حیثیت کا بھی خیال رکھنا پڑے گا۔آجکل یہ شہر تقریباً ہر جگہ کھودا ہوا ہے۔ لال چوک میں سٹی سینٹر سے لے کر ڈل جھیل کے ارد گرد سیاحتی مرکز اور جہلم کے بنڈ تک، تقریباً ہر جگہ انسان اور مشینیں کام کر رہی ہیں۔ سرکاری طور پرا سمارٹ سٹی بن رہا ہے۔ تاہم، سری نگرکی یہ تعمیر نو کون سی شکل اور خدوخال اختیار کرے گی اس بارے میں وقت کے ساتھ ساتھ بحث و تمحیص اور خدشات کا سلسلہ بھی بڑھ رہا ہے۔

بحث اس بارے میں ہے کہ اسمارٹ سٹی کیسا ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 400 برس قبل راجہ پرور سین کے بسائے ہوئے اس شہر میں رہنے والےقریب 23 لاکھ لوگوں (بشمول تیرتی آبادی) کی زندگیوں پر کیا اثر پڑے گا۔ کیا شہر کی اسمارٹنس غریبوں کو گھر دے گی؟ کیا روزگار کے مزید مواقع میسر ہوں گے؟ یہ نیا پن کیسے اور کیونکر توانائی اور پانی کے اہم خسارے کو بہتر کرے گا؟ نئی سڑکیں کہاں اور کیسے بچھائی جائیں گی اور کیا اس نئے پن سے شہر خاص طور پر لال چوک میں تیز رفتار نقل و حمل ممکن ہوگا۔کیا وہ ٹریفک جام کی قدیم روایت ٹوٹ جائے گی ۔ یہ سوالات بھی اہم ہیں کہ کیا اسمارٹ سٹی یہاں کی تجارت کو فروغ دے گی یا پھر ماضی میں لئے گئے فیصلوں جن میں یہاں سےعدالت اوربس اڈے اور سرکاری دوسرے دفاتر کو منتقل کرنا شامل ہیں کہ جن کی وجہ سے بقول یہاں کے تاجران لوگوں کی آمد و رفت جسے انگریزی کے لفظ فوٹ فال سے بہتر طور سمجھا جاسکتا ہے کی کمی ہوئی اور یہاں کی رونقیں اور تجارت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ‘جیسا ہی معاملہ دہرایا جائے گا۔

سرینگر کو اسمارٹ بنانے کا یہ کام دراصل مرکزی سطح پر چلنے والی اسکیم اسمارٹ سٹی مشن کے تحت دردست لیا گیا ہے ۔ ہندوستان میں اسمارٹ سٹی مشن کا مقصد شہروں کو بنیادی ڈھانچہ، صاف ستھرا اور پائیدار ماحول فراہم کرنے اور مسائل کےلئے ہوشیار حل طریق کار کے اطلاق کے ذریعے اپنے شہریوں کو معیاری زندگی فراہم کرنے کے لیے فروغ دینا ہے۔ مرکزی اسپانسرڈ اسکیم (سی ایس ایس) کا مقصد ’شہر کے سماجی، اقتصادی، جسمانی اور ادارہ جاتی ستونوں پر جامع کام کے ذریعے معاشی ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے‘جس میں تمام تر توجہ ’پائیدار اور جامع ترقی‘پر مبنی ہوگی۔یہ پروجیکٹ دراصل 2017میں جب کہ جموںو کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط سرکار برسراقتدار تھی شروع کیا گیا تھا ۔ کچھ عرصے تک تو اس کے حوالے سے تفویض کئے گئے فنڈ بھی لیپس ہوئے تھے لیکن اب جبکہ اس قسم کی ساری رکاوٹوں کو عبور کرکے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا کام سرعت سے جاری ہے اور اس کے کچھ کچھ خدوخال نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں اس پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید بھی بڑھ رہی ہے۔ سوالات پوچھے جارہے ہیں کہ کیا یہ نیا اسمارٹ شہریہاں کے باسیوں کی زندگیوں میں بھی اسمارٹنس لائے گا یا پھر یہ شہر کوہی بے جان بنا دے گا جیسا کہ اس کی بظاہر سکڑتی سڑکوں وغیرہ سے ظاہر ہورہا ہے۔

اسمارٹ سٹی پروجیکٹ، جس کی تکمیل کی آخری تاریخ جون2023 رکھی گئی تھی‘ میں توسیع کرتے ہوئے اب اس کام کو غالباً اپریل2024 تک پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے لیکن عام لوگوں اور کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس عرصے میں بھی یہ منصوبہ غالباً مکمل نہ ہوسکے گا۔ اس پروجیکٹ کا، ابتدائی بجٹ کوئی تین سو کروڑ روپے کا رکھا گیا تھا جس میں لائن ڈیپارٹمنٹس کے لیے دو سوکروڑ روپے مختص کیے گئےتھے، جو مختلف پروجیکٹوں پر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کا اپنے طور پر تقریباً ایک سوکروڑ روپے کا بجٹ مختص ہے۔حکومت ہند کی اسمارٹ سٹی اسکیم کے مطابق، مرکزی حکومت پانچ سالوں کے دوران ایک منتخب شہر کو پانچ سوکروڑ روپے ادا کرے گی جبکہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے اسی مدت کے اندر مساوی رقم ادا کریں گے۔اس پروجیکٹ میں شہر کی صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے 5ڈسٹ بن سیگریگیشن سسٹمز کے قیام کا تصور ہے۔2022ء میں بتایا گیا تھا کہ اس کام کےلئے سرکاری طور پر، تین اعشاریہ چھیانوے کروڑ روپے کا پروجیکٹ مکمل ہو چکا ہے لیکن سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے دائرہ اختیار میں کسی کو بھی پانچ ڈبے کہیں نظر نہیں آرہے، جسےاس کام کی عمل آوری کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اسی طرح شہر سرینگر کی خاص رونق یہاں کے چھاپڑی فروشوں کی عارضی دکانیں یا ریڈیاں ہیں۔ یہ معاملہ دسیوں ہزار لوگوں کی روزی روٹی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسمارٹ سٹی مشن کے تحت مگرمل باغ کے قریب ہاکرز زون پر چار اعشاریہ چھےکروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ سولر پینلز کے ساتھ لیس سرخ شیڈوں کی لمبی قطاریں آج بھی وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ سسٹم کبھی کام کرے گا یا نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ چھوٹا ساعلاقہ جسے پہلے ہی نو پارکنگ زون کا درجہ دیا گیا ہےکیسے اور کیونکرگاہکوں کو اس جگہ پر پہنچائے گا ؟پھر یہ سوالات بھی پوچھے جارہے ہیں کہ کیا یہ چھوٹا سا علاقہ سارے چھاپڑی فروشوں کو کاروباری جگہ فراہم کرپائے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو عین ممکن ہے کہ ہزاروں لاکھوں غریب کنبے روزی روٹی سے محروم ہوجائیں گے اور یوں آبادی کا ایک بڑا طبقہ متاثر ہوگا۔

سرینگر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام خراب ہے۔ جب سے میٹاڈور،منی بسوں کو مرحلہ وار ختم کیا گیا ہے، سرینگر کے تقریباً دو تہائی حصے میں بس سروس ناپید ہوچکی ہے۔ منی بسیں صرف مرکزی سڑکوں پر ہی چلتی ہیں جو پہلے والی سڑکوں کے برعکس سرینگر کے تقریباً دو تہائی علاقوں میں چلتی ہیں۔ اس بحران نے آٹو کلچر کی افزائش اور ذاتی گاڑیوں کے لیے بڑے پیمانے پر تگ و دو کو جنم دیا ہے۔اگرچہ ٹاٹا سومو اور اب ای آٹو سسٹم کے آنے سے شہر کے کئی علاقے مستفید ہورہے ہیں لیکن آئے دن ٹریفک حکام کی جانب سے ان کے خلاف کریک ڈائون کیا جاتا ہے اور یوں اس نجی شعبے کے اقدام کو بھی پنپنے سے قبل ہی ختم کیا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج لال چوک بلکہ یوں کہا جائے تو پورے شہر سرینگر میں داخل ہونا ایک مہنگا معاملہ بن چکا ہے۔ شام کے بعد، اہم راستوں پر منی بسوں کی دستیابی کو یقینی بنانے میں حکام کی ناکامی نے سرینگر کو’سورج ڈوبتے ہی بند ہونے والے شہر‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔بہرحال اس ضمن میں نئی الیکٹرک بسیں، نئے الیکٹرک آٹو اور شبانہ بس سرکا آغاز کیا گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ اقدامات کیا شہر میں نقل و حمل کے عمل کو بہتر بناسکیں گے یا پھر یہ بھی سراب ہی ثابت ہوں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شہر سرینگر خاص طور پر لال چوک میں سڑکیں محدود اور تنگ ہیں اور ان پر ٹریفک کابے تحاشہ دباؤ جس میں زیادہ تر ذاتی موٹر کاریں شامل ہیں کی وجہ سے، ٹریفک کو ریگولیٹ کرنا شہر کے مینیجرز کے لیے بنیادی پبلک ٹرانسپورٹ کو دستیاب کرنے کی بجائے ایک بڑی پریشانی کے طور پر ابھرا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ نے انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو لگانے پر50 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں جس میں اہم چوراہوں پر سگنلز کو اپ گریڈ کرنا اور نئی ٹریفک لائٹس لگانا شامل بھی ہے۔اس منصوبے میں آبی نقل و حمل کو بحال کرنے کا ایک پرجوش منصوبہ بھی شامل ہے جس کے لیےکئی کروڑ روپے پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں۔لیکن 2020 عیسوی میں دریائے جہلم میں موٹر بوٹ پرصحافیوں کو سفر کرانے کی خوشی کے علاوہ اس ضمن میں کیا کچھ ہوا ہے آج بھی ایک معمہ ہی ہے۔اسی طرح بابا ڈیم جھیل جو ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر بن چکا ہے کے پانی کے معیار کو بہتر بنانے پرپر بھی کئی کروڑ روپے خرچ کرنے کا دعویٰ کیا گیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے اب بھی بدبو ہی آ رہی ہے۔

معروف و مشہور ڈل جھیل، پراجیکٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جھیل کی طرف جانے والی نہروں کی صفائی اور گندگی کو ختم کرنے پر بھی کئی کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو کے ساتھ ساتھ ڈل جھیل کے کنارے نئی لوہے کی لائٹس بھی لگائی گئی ہیں لیکن جھیل ڈل کے باسی اور دوسرے طبقے مانتے ہیں کہ کروڑوں روپے خرچہ کرکے بھی اس نے جھیل کا کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔بقول ایک مقامی شہری غلام محمد بٹ ’ یہ منصوبے آتے رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھیل ڈل پر تجاوزات اور اس کی خرابی کے سوا کوئی بھی منصوبہ یہاں پائیدار نہیں ہوتا‘۔

اس سارے پروجیکٹ پر تنقید کا سب سے بڑا پہلو لال چوک اور اس کے گردونواح میں ہورہی تعمیراتی سرگرمیاں ہیں۔ جوں جوں یہ پروجیکٹ اپنی تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے اس کے خدوخال بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ لال چوک اور گردونواح میں پیدل چلنے کے راستے اور فٹ پاتھ بنانے اور سائیکل ٹریکوں کی تعمیر پر خاصی بڑی رقم خرچ کی گئی ہے۔ لیکن عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی قائدین اور تاجران اس بات پر نالاں اور پریشان نظر آرہے ہیں کہ گاڑیوں کےلئے مختص رکھے گئے راستے تنگ کردئے گئے ہیں جبکہ سائیکل اور پیدل چلنے کے راستے وسیع ہورہے ہیں۔ ایک مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ سائیکل ٹریک اور سائیکل پوائنٹ بنانا اچھا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی جگہ جہاں سال کے قریب 5 مہینے سخت سردی میں گزرتے ہیں کون یہ سائیکل استعمال کرنے کے قابل ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ برف باری میں سائیکل چلانا کہاں کی دانشمندی ہے اور آپ گاڑیوں کےلئے راستے تنگ کرکے سائیکلوں کےلئے راستے دراز کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لال چوک میں رہائش پذیر ’اپنی پارٹی‘ سربراہ الطاف بخاری بھی اسی بات پر گویا تپ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کا دستور ہے کہ گاڑیوں اور لاریوں کی نقل و حمل کےلئے راستے وسیع کئے جاتے ہیں لیکن یہ کون سی اسمارٹ سٹی ہے کہ جہاں راستوں کی توسیع کے بجائے انہیں تنگ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ الطاف بخاری کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ کس کےلئے ہے۔اس کا کیا مقصد ہے ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ ہاں اتنا معلوم ہے کہ یہ جموں اور کشمیر کے باسیوں کےلئے نہیں ہے ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما، محمد اقبال ترمبو نے بھی اسمارٹ سٹی پروجیکٹ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے سرینگر ضلع کے لاکھوں شہریوں کو’’یرغمال ‘‘بنا رکھا ہے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے،ترمبو نے کہا،’’یہ سرینگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ، ہمارے بابوؤں کے لیے ایک جیک پاٹ ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہر کوئی کرپٹ ہے، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ یہ منصوبے پیسے کمانے کی مشینیں ہیں جہاں پراجیکٹ کے ضروری عناصر کو بیک برنر پر ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘اس منصوبے کی وجہ سے سرینگر کے لاکھوں باشندے یرغمال بنائے گئے ہیں۔ اگر آپ اس منصوبے پر نظر ڈالیں تو، کوئی ماحولیاتی یا تحفظ پسند مشاورت نہیں ہے؛ اس کے بجائے، یہ صرف ایک انجینئرنگ پروجیکٹ ہے جس میں کامیابی کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ ڈل جھیل کے تحفظ کے منصوبے جیسا ہی ہے، جو ہمارے بابوؤں کے لیے سونے کی کان ہے اور جس پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن زمین پر اس کے کوئی واضح نتائج نہیں ملے،انہوں نے کہا، صرف سرینگر میں ساڑھے تین لاکھ گاڑیاں ہیں اور جب آپ دوسرے اضلاع کی گاڑیوں کو جوڑتے ہیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے بابوؤں کو سڑکیں بڑھانے کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ فٹ پاتھوں کو بڑا کرکے اور تاریخی دیور پتھر کے فٹ پاتھوں کی جگہ سستی سیمنٹ کی کھوکھلی اینٹوں سے سڑکیں تنگ کر رہے ہیں اور اسے سمارٹ سٹی کا نام دیا جارہا ہے۔ یہاں سائیکلنگ کے راستوں کے لیے جگہیں مختص ہیں لیکن کاروں کی پارکنگ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جس سے اس منصوبے کی کمیوں کا پتہ چلتا ہے۔

بہرحال یہ منصوبہ ابھی تشنہ ء تکمیل ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ اس کے منصوبہ ساز عوامی شکایات اور آراء کو مدنظر رکھ کر اسے آگے بڑھائیں گے تاکہ ماضی ہی کے منصوبوں کی مانند مستقبل میں اس منصوبے کو بھی مسترد کرنے کی نوبت نہ آئے اورہمارا شہرکسی نئی توڑ پھوڑ کے عمل سے بچ سکے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

آخر رشتوں میں نفرتیں کیوں؟

Next Post

حالیہ دلدوز قتل وارداتیں:کشمیر سماجی و اخلاقی پستی کا شکار!

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

22/01/2026
ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

22/01/2026

عمر عبداللہ کا جموں کی علیحدگی کے مطالبے پر طنز، سنیل شرما کو ’میئر‘ کہہ کر نشانہ

22/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

21/01/2026
این سی کا لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنے، ملازمت و اراضی حقوق اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: سکینہ ایتو

این سی کا لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنے، ملازمت و اراضی حقوق اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: سکینہ ایتو

21/01/2026
پونچھ میں کنٹرول لائن کے قریب بی ایس ایف اہلکار لاپتہ

کیرن سیکٹر میں ایل او سی پر پاکستانی فوج کی ہوائی فائرنگ، بھارتی فوج کا محتاط جواب

21/01/2026
Next Post
نوکریوں کے امتحانات کا سراب!

حالیہ دلدوز قتل وارداتیں:کشمیر سماجی و اخلاقی پستی کا شکار!

پلوامہ:کانگریس کے ضلعی صدر نے پارٹی کے عہدے اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

پلوامہ:کانگریس کے ضلعی صدر نے پارٹی کے عہدے اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

عالمی یوم صحت، اچھی صحت زندگی کی سب سے بڑی ضرورت

عالمی یوم صحت، اچھی صحت زندگی کی سب سے بڑی ضرورت

رمضان المبارک کے دوران بجلی کی بے قاعدگی سے کشمیر کے لوگ پریشان

رمضان المبارک کے دوران بجلی کی بے قاعدگی سے کشمیر کے لوگ پریشان

بھارت اور چین 2023 میں عالمی اقتصادی ترقی کا نصف حصہ لیں گے۔ آئی ایم ایف کے سربراہ

بھارت اور چین 2023 میں عالمی اقتصادی ترقی کا نصف حصہ لیں گے۔ آئی ایم ایف کے سربراہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »