رضوان سلطان
ٹوریزم ورکنگ گروپ میٹنگ کا تین روزہ جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس پرامن طریقے سے سرینگر میں اختتام پذیر ہوا۔تاہم اس اجلاس کے دوران سرینگر کے ہی لالچوک علاقے میں سمارٹ سٹی کی عکس بندی کرنے کے لیےنکلاایک فوٹوجرنلسٹ اس وقت خودخبر بن گیاجب وہ لالچوک میں واقع بسکواسکول کے قریب ایک کھلے گہرے گڑھے میں گر گیا۔ایک مقامی اردو اخبارکےساتھ کام کرنے والا فوٹو جرنلسٹ بلال احمد اس اجلاس سے دو روز قبل سنیچر کی رات سمارٹ سٹی پروجیکٹ کی تصاویر لینے کے بعد واپس آرہا تھا جب وہ بسکو اسکول کے قریب کھلے گڑھے میں گر گیا جس کے باعث نوجوان فوٹو جرنلسٹ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگیا اور اس دوران اسکا موبائل فون اور دوکمیرے بھی ٹوٹ گئے۔ ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبے سے تعلق رکھنے والے بلال کا کہنا ہے کہ” رات تقریباً 10:30 بجے، میں’’سمارٹ سٹی‘‘ کے رات کے مناظر کی تصاویر لینے کے بعدجب واپس جارہا تھا تو لالچوک کے قریب اچانک ایک کھلے گڑھے میں گر گیا۔بعد ازاں بلال کے دیگر دوست موقع پر پہنچ گئے اور اسے ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے گئے۔ بلال کے مطابق اسکے ایک کان کو بھی شدید چوٹ آئی ہے۔ بلال کے اہل خانہ نے سوپور سےسرینگر پہنچ کر انہیںآنکھوں کے نجی اسپتال نوگام منتقل کیا۔بلال نے کہا کہ ڈاکٹروں نے بتایا کہ میری بائیں آنکھ مکمل طور پر خراب ہو گئی ہے۔ میں اپنی دائیں آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا لیکن ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ کسی بنیادی انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں ٹھیک ہو سکتی ہے۔واضح رہے بلال پچھلے دو سال سے فوٹو جرنلسٹ کے بطور کام کر رہا ہے۔ادھر ایک مقامی اخبار کو سری نگر میونسپل کارپوریشن کے ایک اہلکار نے بتایاکہ انہوں نے کوئی مین ہول بغیر ڈھکن کے نہیں رکھاہے اور یہ معاملہ اسمارٹ سٹی لمیٹڈ سے متعلق ہے۔ سمارٹ سٹی لمیٹڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے خندقیں بنائی ہیں جہاں پانچ کیبل تاریں ڈالی گئیںہیں۔ انہوں نے کہا کہ” مجھے نہیں معلوم کہ اسے کیسے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ ہم اسے چیک کریں گے۔‘‘ جی 20 اجلاس میں مصروف انتظامیہ نے اس ضمن میں ابھی تک کوئی نوٹس نہیں لیا ہے، البتہ المیہ یہ ہے کہ میڈیا انجمنوں نے بھی موصوف صحافی یا اس واقعے کے بارے میں تادم تحریر لب کشائی نہیں کی ہے۔









