• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, جنوری ۲۴, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
33سال بعد حسین علیہ السلام کے نعروں سے سرینگر کی سڑکیں پھر گونج اُٹھیں

33سال بعد حسین علیہ السلام کے نعروں سے سرینگر کی سڑکیں پھر گونج اُٹھیں

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
27/07/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ کئی ادوار کی میٹنگز کے بعد بالآخر رواں سال 8 محرم کو شیعہ برادری کو گروبازار سے ڈلگیٹ تک ماتمی جلوس باضابطہ طور پر نکالنے کی مشروط اجازت دینے کے بعد جمعرات کی صبح شیعہ آبادی کی طرف سے دو گھنٹے کا جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس سرینگر کے گرو بازار سے ڈلگیٹ تک صبح چھ بجے سے آٹھ بجے تک نکالا گیا۔جس میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ جلوس میں نوجوانوں سے لے کر بزرگ‘ امام حسین علیہ السلام کی یاد میں سینہ کوبی کرتے نظر آئے۔جلوس کےلیے انتظامیہ نے سکیورٹی کے انتظامات کیے تھے۔جلوس میں ڈپٹی کمشنر سرینگر اعجاز اسد اور سرینگر مئیر جنید متو بھی شریک ہوئے۔

شیعہ رہنماؤں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اس تاریخی فیصلے پر انتظامیہ کی تعریف کی ہے۔ کشمیر کے مختلف حصوں سے ہزاروں عزادار سرینگر کی سڑکوں پر پرامن طریقے سے پیدل چلتے ہوئے، سینہ کوبی کرتے اور پرچموں کے ساتھ نواسئے رسول صلعم کے حق میں نعرے لگاتے نظر آئے۔

محرم الحرام کا مہینہ اہم کیوں؟

محرم الحرام اسلامی کلینڈر کا پہلا مہینہ ہے۔ دس محرم کو حضرت حسین علیہ السلام اپنے ساتھیوں سمیت میدان کربلا میںشہید کیے گئے۔حسین ابن علیؓ، پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور فاطمہ زہراؓ کے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” حسین مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے“۔اپنی وفات سے قبل، اموی حکمران حضرت معاویہ نے حسن معاویہ معاہدے کے برخلاف اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ جب معاویہ 680ء میں فوت ہوئے تو، یزید نے مطالبہ کیا کہ حسین علیہ السلام اس کی بیعت کریں۔ حسین ؑنے یزید سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ اس کا مطلب اپنی جان کی قربانی دینا تھا۔ نتیجہ کے طور پر، انہوں نے 60 ہجری میں مکہ مکرمہ میں پناہ لینے کے لیےاپنے آبائی شہر مدینہ چھوڑ دیا۔وہاں، کوفہ کے لوگوں نے ان کو خط بھیجا اور بیعت کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اپنے رشتہ داروں اور پیروکاروں کے ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ کچھ سازگار اشارے ملنے کے بعد، کوفہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن کربلا کے قریب انہیں یزید کی فوج نے روک لیا۔ یزید نے 10 محرم 61 ہجری کو، کربلا میں ان کے اہل خانہ کے کئی افراد اور ساتھیوں سمیت، جس میں حسینؑ کا چھ ماہ کا بیٹا، علی الاصغرؓ، خواتین اور بچوں سمیت شہید کر دیا کیا گیا۔ محرم کے پہلے دس روز پوری دنیا کے شعیہ مسلمان ماتم کرتے ہیں۔

ماتمی جلوس پر پابندی کیوں؟

1990 سے قبل سرینگر میں نکلنے والے دو بڑے ماتمی جلوسوں پر شورش شروع ہونے کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی۔تاہم رواں سال انتظامیہ اور شعیہ رہنماؤں کے درمیان کئی اجلاس منعقد ہوئے۔جس کے بعد بالآخر 8 محرم کو انتظامیہ نے چند شرائط کے ساتھ صبح 6سے 8بجے تک دو گھنٹوں کے لیے ماتمی جلوس نکالنے کی اجازت دی۔اس جلوس میں لوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی اور یہ جلوس پرامن طریقے سے اختتام بھی ہوا۔ اس دوران ایک عزادار الطاف حسین نے نامہ نگاروں کےساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایل جی انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اتنے طویل وقفے کے بعد ہمیں جلوس نکالنے کی اجازت دی۔یہ واقعی ہمارے لیے ایک خوشی اور عظیم لمحہ ہے“۔ انہوں نے کہا کہ محرم ہر مسلمان کو حضرت امام حسین ؑکے نقش قدم پر چلنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی یاددہانی کرتا ہے۔ اس موقع پر ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگرمحمد اعجاز اسد نے کہا کہ” تین دہائیوں کے بعد محرم کے جلوس کی اجازت دی گئی ہے۔ میں کہوں گا کہ یہ امن کے فوائد میں سے ایک ہے۔‘‘سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید عظیم متو نے کہا کہ سرینگر کی سڑکوں پر طویل عرصے کے بعد یہ ایمان کا مظاہرہ ہے اور انہوں نے اس تاریخی فیصلے پر ایل جی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عزادار پرامن طریقے سے چل رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ 10 محرم کو عاشورہ کے دن بھی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ وادی کشمیر میں ان جلوسوں پر 1990میں شورش کے شروع ہوتے ہی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔نیوز پورٹل’’دی وائر‘‘ میں شائع ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ” یہ1989 کا آٹھواں محرم تھا جب تقریباً ایک لاکھ افراد پر مشتمل ایک بہت بڑا جلوس شہید گنج سے بڈشاہ چوک سے ہوتا ہوا ایم اے روڈ سے ڈلگیٹ تک نکلا۔ ڈاون ٹاون سرینگر کے رہنے والے ولایت جو، جنہوں نے جلوس میں حصہ لیا، کے مطابق اس جلوس میں تب ملی ٹینٹ کمانڈر بھی شریک ہوئے انہوں نے کہا کہ” بڈشاہ چوک میں، جلوس میں عسکریت پسند کمانڈروں نے شمولیت اختیار کی جس میں حمید شیخ بھی شامل تھے“۔اسکے بعد جلوس ’’آزادی کے حق میں‘‘ کے نعروں کے بیچ ایم اے روڈ سے ہوتا ہوا ڈلگیٹ پر اختتام پذیر ہوا۔اسکے اگلے سال 1990میں تب کے گورنر جگموہن ملہوترا نے ان جلوسوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔اوران علاقوں میں بندشیں عائد کی جاتی۔تاہم ان بندشوں کے باوجود عزا دار ماتمی جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جن پر لاٹھی چارج کیا جاتا اور گرفتاریاں بھی کی جاتی ہیں۔ کیوں کہ حکومت کو خدشہ پیدا ہوا کہ یہ جلوس” آزادی کے حق میں“تبدیل ہو جاتے ہیں۔

جنوری 2008، کشمیر میں مقیم شیعہ تنظیم اتحاد المسلمین نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں سابق گورنر کی طرف سے عائد پابندی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن ریاستی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دسمبر 2009 میں، جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ریاستی حکومت کو اعتراض درج کرنے کی ہدایت کی، لیکن دوبارہ کوئی جواب نہیں ملا۔ 5اگست 2019کے بعد صورتحال مختلف ہوئی اور اسکے بعد کئی ایسے شعیہ عزاداروں کو یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیاں روکتھام ایکٹ) کے تحت پولیس نے گرفتار کیا، جن پر ان جلوسوں کے دوران ملک مخالف نعرے لگانے کے الزامات عائد کیے گئے۔2020میں تین شعیہ عزاداروں پر یواے پی اے عائد کیا گیا۔2021میں بڈگام کے دو نوجوانوں پر اور پھر سات ماہ بعد مارچ 2022میں مزید 8 نوجوان گرفتار کیے گئے۔جبکہ 2019کے بعدکل 15 شعیہ مسلمانوں پر یواے پی اے عائد کیا گیا ہے۔2022میں شیعہ برادری کے ایک رجسٹرڈ ٹرسٹ نے ہائی کورٹ میں ایک PIL دائر کی تھی، جس میں حکام سے کہا گیا تھا کہ 8 اگست 2022 کو گرو بازار سے ڈلگیٹ تک شیعہ برادری کو ایک مذہبی جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے۔تاہم ہائی کورٹ نے کہا کہ اسکی اجازت دینے کااختیار حکومت کے پاس ہے۔

کشمیر میں 1527 سے جب سلطان محمد شاہ حکمران تھے ماتمی جلوس نکالے جا رہے تھے۔ شیعہ لوگ، سنی برادری کے تعاون سے دو بڑے جلوس نکالتے تھے، ایک نمچہ بل سے امام باڑہ زڈی بل تک اور دوسرا عالمگیری بازار سے خوشحال سر تک نکالا جاتا تھا۔تاہم 1977 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کی درخواست پرآبی گزر سے زڈی بل تک مشترکہ جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔اور اب 33سال بعد آٹھویں محرم کے ماتمی جلوس گروبازار سے ڈلگیٹ تک نکالا گیا۔اب دیکھنا ہوگا کہ اسکے بعد اگلے سالوں میں بھی اسی طرح ان جلوسوں کی اجازت دی جاتی ہے یا نہیں۔‘‘

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بارہمولہ میں کونسلر سمیت دو بھتہ خور گرفتار : پولیس

Next Post

جموں وکشمیر میں پنچایتی الیکشن کا بگل بج گیا! کون سے الائینس بنیں گے اور کون سے ٹوٹیں گے۔۔۔

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

23/01/2026
سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

23/01/2026
برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

23/01/2026
امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

23/01/2026
وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

23/01/2026
خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

23/01/2026
Next Post
جموں وکشمیر میں پنچایتی الیکشن کا بگل بج گیا! کون سے الائینس بنیں گے اور کون سے ٹوٹیں گے۔۔۔

جموں وکشمیر میں پنچایتی الیکشن کا بگل بج گیا! کون سے الائینس بنیں گے اور کون سے ٹوٹیں گے۔۔۔

امر ناتھ یاترا بیس کیمپ پر جھگڑے میں ملوث 3 افراد گرفتار:پولیس

2 ہزار سے زیادہ یاتریوں کا 26 واں جھتا جموں سے روانہ

جموں:نہر میں ڈوب کر 2 کمسن بہنیں لقمہ اجل

جموں:نہر میں ڈوب کر 2 کمسن بہنیں لقمہ اجل

ہنگامے کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی پیر تک کے لیے ملتوی

ہنگامے کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی پیر تک کے لیے ملتوی

*پہلگام روڈ حادثہ میں موٹرسائیکل سوار ہلاک، 2 سوار زخمی*

رام بن سڑک حادثے میں تین یاتری زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »