امت نیوز ڈیسک //
جموں: اطلاعات کے مطابق جمعے کی شام کو جموں کے میڈیا ہاؤسز نے ضلعی ترقیاتی کمشنر جموں کے حوالے سے لکھا کہ ہفتے کے روز امرناتھ یاترا معطل رہے گی تاہم محکمہ اطلاعات و نشریات نے اس کو من گھڑت اور حقیقت سے بعید قرار دیا۔
محکمہ اطلاعات و نشریات نے خبر کو فرضی قرار دے کر کہا کہ ہفتے کے روز بھی معمول کے مطابق امرناتھ یاترا جاری رہے گی اور اس حوالے سے جو افواہیں پھیلائی جارہی ہیں ان کا حقیقت کے ساتھ کوئی واسط نہیں ہے۔ جبکہ سرکاری زرائع نے بتایا کہ چند میڈیا ہاوسز کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے چار سال مکمل ہونے کے پیش نظر ہفتے کے روز یاترا معطل رہے گی جو من گھڑت اور حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ان کے مطابق یاترا حسب معمول ہفتے کے روز بھی جاری رہے گی
معلوم ہوا ہے کہ جموں کشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں میں کئی سیاسی و سماجی جماعتوں نے 5 اگست 2019 میں لیے گئے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، شیو سینا،کانگریس، اور دیگر سیاسی جماعتوں نے 5 اگست یعنی دفعہ 370 کی منسوخی کی چوتھی برسی پر جموں میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دفعہ 370کی منسوخی کے بعد صادر کیے گئے اہم فیصلوں پر طائرانہ نظرجموں وکشمیر میں صدر راج کے پانچ برس مکمل، اسمبلی انتخابات کب ہوں گے؟
خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 میں جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا جو کہ اب جموں وکشمیر اور لداخ یوٹیز کہلاتی ہیں۔ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370کی منسوخی کے چار برس مکمل 5اگست 2023 کو مکمل ہو رہے ہیں، حکمران جماعت بی جے پی اس کو ’’تاریخی فیصلہ‘‘ جبکہ این سی اور پی ڈی پی جیسی سیاسی جماعتیں پانچ اگست 2019 کو ’’کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب‘‘ قرار دے رہی ہیں۔








