امت نیوز ڈیسک //
سال 2025میں جموں کشمیر کو ملی ٹینسی سے پاک بنانے کی تمام کوششیں کی جائیں گی کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ہر ادارہ آئین کے مطابق کام کر رہا ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ ”بزنس رولز“سے متعلق جموں کشمیر حکومت نے قواعد کا مسودہ تیار کرنے کیلئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی قائم کی ہے جو ان کے دفتر کو بھیجی جائے گی اور اسکو منظوری ملنے کے بعد قواعد کو منظوری ملے گی ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ کٹرا روپ وے پروجیکٹ پر تمام اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں اور اس مقصد کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی پہلے سے ہی قائم ہے، یہاں تک کہ انہوں نے یقین دلایا کہ یاترا کافی بڑھے گی اور اس نئے منصوبے کے شروع ہونے سے شہر کے تاجر نقصان میں ہوں گے اس میں ایسا کچھ شامل نہیں ہے۔ سی این آئی کے مطابق راج بھون جموں میں ایک انگریزی روزنامہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ کٹرا ویشنو دیوی روپ وے پروجیکٹ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ ایک اعلی سطحی کمیٹی قائم ہے اور ماتا ویشنو دیوی روپ وے پروجیکٹ پر تمام اسٹیک ہولڈرسںکے ساتھ بات چیت کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا ”اس نے پہلے ہی بات چیت کی ہے اور وہ اس منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے ملنے کیلئے تیار ہے۔ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے“۔انہوں نے کہا ” جہاں تک کٹرا کا تعلق ہے، مقدس شہر کو مزید فروغ ملے گا کیونکہ کٹرا شہر کے قلب میں واقع نہاریکا بھون میں روپ وے پروجیکٹ کے لیے ٹکٹنگ کاونٹر قائم کیا جائے گا۔ کٹرا میں دہلی-کٹرا ایکسپریس وے کے ملٹی ماڈل ٹرمینل کے قیام کے لیے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ بات چیت پہلے ہی ہو چکی ہے“صنعتی پیکیج میں نظرثانی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیونکہ 28,400 کروڑ روپے کی موجودہ رقم ختم ہو چکی ہے، لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ یہ تجویز وزیر داخلہ کے زیر غور ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اسے منظور کر لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ”تجویز (صنعتی پیکیج میں اضافے کی) وزیر داخلہ کے ساتھ اٹھائی گئی ہے۔ یہ مسئلہ ان کے زیر غور ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اضافے کو وزارت داخلہ کی منظوری مل جائے گی۔ “ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایسی صنعتی پالیسی ملک میں کہیں نہیں ہے، سنہا نے کہا کہ حکومت کو اب تک 1.60 لاکھ کروڑ روپے کی صنعتی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے، 19،000 کروڑ روپے کے پروجیکٹ زمین پر ہیں جبکہ 8،000 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں نے پیداوار شروع کردی ہے اور اگلے مارچ میں یہ تعداد 9،000 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔نسداد ملی ٹینسی کے محاذ پرسنہا نے کہا کہ جموں کشمیر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کا پرامن انعقاد پڑوسی کو ہضم نہیں ہوا (پاکستان کی طرف ایک حوالہ) اور جب بھی امن ہوتا ہے، ملی ٹینٹوں کی دراندازی ہوتی ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ اس سال 75 ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں اور ان میں سے 55 غیر ملکی تھے، جو کہ سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا”اگلے چند مہینوں کے دوران، آپ جموں کے خطے میں انسداد ملی ٹینسی کے محاذ پر اچھے نتائج دیکھیں گے۔ “ انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں جموں و کشمیر کو ملی سے پاک بنانے کی تمام کوششیں کی جائیں گی۔سنہا نے کہا ” گزشتہ چار سالوں کے دوران، ہم نے نہ صرف ملی ٹینسی کے خلاف بلکہ ان کے پورے ماحولیاتی نظام کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہرتال اور پتھراو تاریخ بن چکا ہے۔ پڑوسی کے کہنے پر اب بند نہیں ہوتا۔ سنیما ہال چل رہے ہیں اور سیاحوں سمیت لوگ رات کی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ “ تاہم، انہوں نے کہا، چونکہ نریندر مودی کی حکومت ہے، عوام نہیں چاہتے کہ ایک بھی واقعہ رونما ہو اور یہی ہمارا آخری ہدف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی انسداد کے محاذ پر مزید اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔لیفٹنٹ گورنر اور نو منتخب حکومت کے درمیان تعلقات پر ایک سوال کے جواب میں سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 نے حقوق کی وضاحت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ آئین کے مطابق کام کر رہا ہے۔ ”بزنس رولز“کب جاری کیے جائیں گے اس پر لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ یوٹی حکومت نے قواعد کا مسودہ تیار کرنے کیلئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی قائم کی ہے جو ان کے دفتر کو بھیجی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم قواعد کو حتمی شکل دیں گے۔








