امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں کشمیر اسمبلی میں وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ عمر عبداللہ نے بجٹ پیش کر دیا ہے۔ حالیہ انتخابات میں جیت کے بعد این سی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے اپنے پہلے بجٹ میں خواتین، انتودیا انا یوجنا (اے اے وائی) خاندانوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے عام لوگوں کے لیے کئی فلاحی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اپنی ایک گھنٹہ اور 38 منٹ کی تقریر میں عمر نے یکم اپریل سے جموں اور سری نگر کے سمارٹ شہروں میں چلائی جانے والی ای بسوں سمیت تمام سرکاری ٹرانسپورٹ خدمات میں خواتین کے لیے مفت سواریوں کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا، "میں لڑکیوں کے لیے شادی کی امداد کی اسکیم کو 50000 روپے سے بڑھا کر 75000 روپے کرنے کا بھی اعلان کرتا ہوں۔”اپنے انتخابات سے پہلے کے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے، عمر نے انتودیا انا یوجنا خاندانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا اعلان کیا لیکن انہوں نے بی پی ایل اور غربت کی لکیر سے اوپر والے خاندانوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔”میں خونی رشتوں میں تحفے میں دی گئی جائیدادوں پر صفر اسٹامپ ڈیوٹی کا بھی اعلان کرتا ہوں جو پہلے تین سے سات فیصد کے درمیان تھا۔ اس کا مقصد جائیداد کے تنازعات کو کم کرنا ہے،” سی ایم نے کہا۔انہوں نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے کمی کا اعلان بھی کیا۔
اپوزیشن اراکین نے عمر عبداللہ کے بجٹ کو اشک شوئی کے مترادف قرار دیا۔ لنگیٹ اسمبلی حلقے کے رکن شیخ خورشید نے کہا کہ عمر عبداللہ نے خواتین کیلئے مفت بس سروس کا اعلان کیا مگر سوال یہ ہے کہ جب بسیں ہی نہیں ہیں تو سواری کس میں کریں گے۔ انہون نے کہا کہ دو سو یونٹ مفت بجلی کا اعلان بھی ایک بھونڑا مزاق ہے کیونکہ جس اسکیم کے ساتھ اسے منسلک کیا گیا ہے ، اس میں شامل ہونے کیلئے صارفین کو پہلے ایک لاکھ روپے خرچ کرنا ہوں گے۔
جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب کے ساتھ شروع ہوا تھا جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے ریاستی درجہ کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
اپنے خطاب میں منوج سنہا نے کہا تھا کہ حکومت ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے تمام فریقین سے بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کیے گئے ترقیاتی کاموں کا بھی ذکر کیا، جن میں سرینگر جموں قومی شاہراہ پر رام بن اور بانہال میں دو بائی پاس سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔
ایل جی نے جموں و کشمیر میں جلد پنچایت اور بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔









