امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر سے باہر کے 200 سے زیادہ سرمایہ کاروں کو گزشتہ ایک دہائی میں جموں و کشمیر میں اپنے کاروباری یونٹس قائم کرنے کیلئے صنعتی علاقوں میں زمین فراہم کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر سے باہر کے 200 سے زیادہ سرمایہ کاروں نے یوٹی میں کاروباری یونٹس قائم کرنے کیلئے زمین الاٹ کی رپورٹ کے مطابق اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بیرونی سرمایہ کاروں کے ذریعہ زمین کے حصول کے عمل میں زیادہ تر دہلی ہریانہ اور پنجاب سے کئی گنا اضافہ ہوا۔
صنعتوں اور تجارت کے محکمے کے اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق سرمایہ کاروں کی اکثریت نے جموں خطہ کے کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع کو ترجیح دی کہ وہ اپنی فرم قائم کریں جبکہ وادی میں بہت کم تاجروں نے دلچسپی ظاہر کی۔ صنعتی پالیسی 2016 17 کے تحت ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کل 28 تاجروں کو جڑواں اضلاع سانبہ اور کٹھوعہ میں اپنے یونٹس قائم کرنے کے لیے 500 کنال سے زیادہ زمین الاٹ کی گئی تھی۔ زمین کی الاٹمنٹ سرمایہ کاری کی تجویز کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔
تاہم دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ترمیم شده صنعتی پالیسی کے تعارف نے دہلی چندی گڑھ اتر پردیش مغربی بنگال بریانہ پنجاب ،بہار مہاراشٹر گجرات کرناٹک اور تمل ناڈو کے تاجروں کو بھی سرمایہ کاری کیلئے خطے پر نظریں جمائے ہوئے دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق دہلی کے تقریباً 50 تاجروں کو جموں و کشمیر میں زمین الاٹ کی گئی ہے۔
اس کے بعد ہریانہ (45) پنجاب (43) اتر پردیش (14)، مہاراشٹرا (9) اور گجرات چندی گڑھ اور ہماچل پردیش سے ہر ایک کو زمین الاٹ کی گئی ہے۔










