امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس کے دوسرے دن بھی نئے وقف ایکٹ پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) اور اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جسے گزشتہ روز اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے ’سب جوڈس‘ قرار دیکر بحث کی اجازت نہیں دی۔ وقف ترمیمی بل کو لوک سبھا و راجیہ سبھا میں منظوری ملنے کے بعد صدر مرمو نے مہر ثبت کرکے باضابطہ قانون بنا دیا۔
ادھر، جموں کشمیر اسمبلی میں منگل کو صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب نیشنل کانفرنس کی اپوزیشن جماعتوں – پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ اور پیپلز کانفرنس کے سجاد لون – کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ راتھر کی جانب سے وقف ایکٹ پر بحث کی اجازت نہ دینے پر اراکین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
نیشنل کانفرنس نے جہاں التوا کی تحریک لائی، وہیں پی ڈی پی کے وحید پرہ نے اس ایکٹ کے خلاف قرارداد پیش کی۔ پرہ نے ایوان کے وسط میں پہنچنے کی کوشش کی، تاہم اسپیکر کی ہدایت پر مارشلز نے انہیں اسمبلی سے باہر نکال دیا۔ فریقین نے ایک دوسرے پر ’’بی جے پی کا ساتھ دینے‘‘ کے الزامات بھی عائد کیے جس سے ایوان میں مزید گرما گرمی پیدا ہوئی۔
اسپیکر نے دلیل دی کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لیے اسمبلی میں اس پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اسمبلی پارلیمنٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔ اسی کشمکش کے دوران ایوان کو تیس منٹ کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
ایوان کی میڈیا گیلری میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے سجاد لون نے کہا کہ ’’اگر نیشنل کانفرنس کے ارکان واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا کر نیا اسپیکر منتخب کرنا چاہیے۔ لون نے کہا: ’’یہ سب ایک سیاسی ڈرامہ لگتا ہے۔ اگر ہم ایسے ہی چلتے رہے تو عوام کا ہم پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔‘‘
ایوان سے نکالے جانے والے وحید پرہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی کو، جس میں مسلم اراکین کی اکثریت ہے، بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ پرہ کے مطابق ’’آج کا دن تاریخ میں لکھا جائے گا کہ اس (جموں کشمیر کی) اسمبلی نے مسلمانوں کے جذبات کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔‘‘








