امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ : جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سیکورٹی ایجنسیز سے تحمل برتنے کی اپیل کرتے ہوئے ’’معصوم شہریوں کے قتل عام‘‘ کی مذمت کی ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ’’پہلگام حملہ کے خلاف کشمیری عوام نے نہ صرف بڑے پیمانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا، بلکہ معاملہ کی تحقیقات میں سیکورٹی ایجنسیز اور حکومت کا بھرپور ساتھ بھی دیا، تاہم اس کے باوجود یہاں لوگوں کو نہ صرف ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ خوب بھی بہایا جاتاہے۔‘‘
محبوبہ مفتی پہلگام حملے کے بعد سیکورٹی ایجنسیز کے رویے کی تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’کشمیر کے باشندوں کو پولیس اسٹیشن بلا کر گھنٹوں تک بٹھایا جاتا ہے اور کشمیری اس میں ایجنسیز کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔‘‘ تاہم محبوبہ کا کہنا ہے کہ ’’لیکن افسوس کی بات ہے کہ بانڈی پورہ اور کولگام میں دو حادثے رونما ہوئے، جو کئی سوالات کو جنم دیتےہیں۔‘‘ محبوبہ مفتی نے پہلگام میں عوامی وفد سے ملاقات کے دوران ان باتوں کا اظہار کیا۔
محبوبہ مفتی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’بانڈی پورہ میں الطاف نامی ایک شہری کو ہمشیرہ سمیت تھانے بلایا گیا اور دو دنوں بعد الطاف لالی کی لاش برآمد ہوتی ہے، جنوبی کشمیر کے ٹنگمرگ، کولگام میں امتیاز کو فوج پکڑ کر لے جاتی ہے، اگلے روز اس کی لاش دریا سے برآمد ہوتی ہے۔‘‘ محبوبہ نے ان دونوں واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’یہاں کے لوگ سیکورٹی ایجنسیز کو پوچھ تاچھ میں ہر طرح کا تعاون دیتے ہیں، افسوس ہے ان شہریوں کی لاشیں بھیج دی جاتی ہیں، جب لوگ اپنا تعاون دینے کے لئے آگے قدم بڑھا رہے ہیں تو انہیں اپنانے کے بجائے ان پر سختی کیوں کی جاتی ہے؟‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الطاف لالی کا ملیٹنٹنسی کی آڑ میں انکاؤنٹر کیا جاتا ہے، وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، اس کے گھر میں دو بچے ہیں، ان کے بچوں کی دیکھ بال اب کون کرے گا؟ کولگام میں مارے جانے والا رئیس ماگرے ایک غریب مزدور تھا اس کا ایک چھوٹا بھائی ہے اس کی کفالت کون کرے گا؟
پی ڈی پی سرپرست نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’کیا دوریاں مٹانے کا یہی طریقہ ہے، کیا ہر کشمیری کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جائے گا؟‘‘ محبوبہ کا کہنا ہے کہ یہاں کے سب لوگ عادل شاہ کے مانند ہیں جس نے سیاحوں کو بچانے کے لئے اپنی جان دے دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’کشمیریوں نے اس بار دہشت گردی کے خلاف یک جُٹ ہو کر قدم اٹھایا اور ملک کے ساتھ جڑے رہے۔ سرکار کو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے، اگر عوام ایک قدم بڑھاتی ہے تو سرکار کو دو قدم آگے بڑھنا چاہئے، خون خرابہ، پکڑ دھکڑ بند کرنی چاہئے اور انکاونٹر کے نام پر لوگوں کو لاشیں دینا بند کریں۔‘‘
دریں اثناء، محبوبہ مفتی بانڈی پورے میں ہلاک کیے گئے الطاف لالی اور کولگام کے رئیس ماگرے کے اہل خانہ کو معاوضہ فراہم کیے جانے کا مطالبہ کیا۔










