امت نیوز ڈیسک //
سرینگر :بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے سے جموں وکشمیر کے حجاج کرام نے راحت کی سانس لی ہے۔ جن کے منصوبے دونوں ممالک کے مابین بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں متاثر ہوئے تھے۔ کیونکہ اس تناؤ کے بیچ 7 اپریل کو سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ تمام سول فلائٹ آپریشن کے لیے بند کر دیا گیا تھا ۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب 22 اپریل کو جنوبی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں نے 26 سیاحوں کو ہلاک کیا اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے جوکہ بعد میں جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔
ایسے میں حکومت ہند نے احتیاطی تدابیر کے طور پر سرینگر سمیت ملک کے کئی ہوائی اڈوں کو بند کردیا۔ جس کے نتیجے میں حج 2025 کے شیڈول کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ حکام کے مطابق 4 مئی کو سرینگر سے 178 حجاج کرام پر مشتمل صرف ایک پرواز مدنیہ منورہ روانہ ہوئی تھی ۔اس کے بعد بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر 14 مئی تک طے شدہ پروازیں منسوخ کر دی گئیں جس سے عازمین کو غیر یقینی اور اضطرابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان فوری جنگ بندی کے اعلان سے حجاج کرام میں امیدیں دوبارہ بحال ہوگئیں ہیں۔
بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے طے پانے والے اس جنگ بندی معاہدے کی دونوں حکومتوں نے تصدیق کی اور رہنماؤں اور شہریوں نے یکساں طور پر اس کا خیر مقدم کیا۔ جموں وکشمیر حج کمیٹی کے ایگزیکٹیو آفیسر شجاعت احمد قریشی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پروازیں دوبارہ شروع ہوجائیں گی اس سے قبل ہم نے عازمین حج کو دوسرے سفری مقامات پر لے جانے کی تجویز پیش کی تھی جہاں وہ رسمی لوازمات کو مکمل کرکے پروازوں میں جدہ روانہ ہوسکتے تھے۔تاہم اس کا جواب وزارت کی جانب سے نہیں آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امسال جموں وکشمیر سے کُل3622 عازمین سفر جارہے ہیں جن میں سے صرف 178 سرینگر سے روزانہ ہوئے ہیں جبکہ جموں وکشمیر کے 480 عازمین جہنوں نے دلی کو اپنے سفر کے مقام کے طور پر منتخب کیا تھا کامیابی کے ساتھ روانہ ہوئے ہیں ۔تاہم باقی عازمین منظر ہیں کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیاں تناؤ کی صورتحال کے مد نظر 14 مئی تک حج پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے باضابط طور نوٹیفیکیشن بھی جاری کردی گئی۔حج کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹفیکیشن میں حجاج کرام کو صبر برتنے،نئے شیڈول کا انتظار اور ہدایات پر عمل پیرا رہنے کا مشورہ دیا گیا۔











