امت نیوز ڈیسک //
سرینگر :میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں۔ ہم حل چاہتے ہیں نہ کہ اس تنازع کا تسلسل۔ ہماری پر زور توقع ہے کہ ڈی جی ایم اوز کی جانب سے حال ہی میں 18 تاریخ تک کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی مستقل نوعیت اختیار کرے۔ یہ حیرت کا مقام ہے کہ جب دونوں فریقوں کے ڈی جی ایم اوز آپس میں بات کر سکتے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں، تو بھارت اور پاکستان کی قیادت کیلئے کیا چیز مانع ہے؟ مگر آج کل سچ بولنا اور حقیقت کا اظہار بھی غداری سمجھا جاتا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ دنیا کی نظروں میں کشمیر ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے لئے یہ ایک زمینی تنازع ہے۔لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے لیے، جو روز اس حقیقت کو جھیلتے ہیں یہ ایک ایسا ناسور ہے جو بھرنے کا نام نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ کب تک ہم یوں ہی تکلیف میں جیتے رہیں گے؟ کب تک ہم خوف اور غیر یقینیت کے سائے میں زندہ رہیں گے؟
میرواعظ نے سوال کیاکہ آج جب سب کشمیر کے بارے میں بات کر رہے ہیںلیکن کوئی کشمیریوں سے بات نہیں کر رہا ہے ان لوگوں سے جو یہاں رہتے ہیں۔ ہم اپنے لیے کیا چاہتے ہیں؟ ہماری اگلی نسلوں کے لیے ہمارے خواب کیا ہیں؟ ہمارا امن کے لیے ترسنا کب ختم ہوگا؟ کیا ہمارے زخم کبھی بھر سکیں گے؟ کیا یہ تنازع کبھی حل ہوگا؟انہوں نے کہا کہ ہر بار اس طرح کے واقعات مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ عسکری برتری کی کوشش تباہی لاتی ہے، جیسا کہ ہم نے دیکھا اور صرف اسلحہ کی فروختگی میں اضافہ ہوتا ہے نہ کہ امن کے قیام میں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور پاکستان واقعی امن چاہتے ہیں یا صرف ایک دوسرے کے تئیں برتری کی دوڑ میں مصروف ہیں؟ کشمیری عوام یہی سوچتے ہیں۔
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے گزشتہ جمعہ حکام کی جانب سے نظر بندی کے بعد آج جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل عوام کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم ایک اور اذیت ناک تجربے سے گزرے جو اس پرانے اور سلگتے ہوئے تنازع نے پیدا کیا جس نے دو ایٹمی طاقتوں کو ہمہ گیر جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ صرف محدود کشیدگی ہی ان لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے کے لیے کافی تھی جو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہتے ہیں۔ درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، گھر اور روزگار تباہ ہو گئے۔ بارہ سالہ جڑواں بچے زین اور عروہ کی مسکراتی ہوئی تصویر ہمیشہ کے لیے ہمیں رُلا تی رہے گی۔ ان کی والدہ کس طرح صبر کر رہی ہیں جب کہ ان کے والد ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے،یقیناًیہ دل کو چیر دینے والا منظر ہے یہ دکھ بہت گہرا ہے۔
میرواعظ نے تمام سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جو اس بے مقصد تصادم میں اپنے عزیز کھوئے کیونکہ الفاظ سے ان کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم زخمیوں کے لیے دعا گو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ دارالخیر میر واعظ منزل متاثرہ خاندانوں تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے جن کے گھر تباہ ہوئے، جو بھی ممکنہ مدد اور ریلیف ہم فراہم کر سکتے ہیں اسے کریں گے۔میرواعظ نے توقع ظاہر کی کہ متعلقہ حکام کے علاوہ صاحب ثروت افراد متاثرین کی بحالی کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے کیونکہ ایل او سی پر رہنے والے یہ لوگ سب سے زیادہ متاثر اور ہمیشہ خطرے میں رہتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے حوالے سے ہم اپنی سطح پر اس کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں، مگر ہم اس عمل میں براہ راست شامل نہیں ہوں گے کیونکہ ہماری نظر میں ان الزامات کی کوئی وقعت نہیں ہے جو قیادت اور جماعت پر لگائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے جلد ہی تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔“
واضح رہے کہ میرواعظ مولوی محمد عمر فارق تاریخی جامع مسجد سرینگر کے نہ صرف خطیب ہیں بلکہ یہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی ہیں ۔والد کے قتل کے بعد مولوی عمر فاررق جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے آرہے ہیں۔ایسے میں میرواعظ خاندان کی صدیوں سے جامع مسجد سرینگر سے وابستگی رہی ہے۔










