امت نیوز ڈیسک//
جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اورپیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سربراہ محبوبہ مفتی نے پانچ سال میں پہلی بار لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا سے ملاقات کی۔ اس خاص ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ میں نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے ایل جی کو ایک خط دیا، جووزیراعلیٰ اورمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی بھیجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 74 ہزار سے زیادہ بے گھرخاندانوں میں بہت سارے لوگ واپس آنا چاہتے ہیں اوران کواس میں مدد دینی چاہئے۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیرمیں کشمیری پنڈتوں کا موضوع سبھی پارٹیوں کے لئے کافی بڑا رہا ہے۔
سیٹ اور زمین کا کیا مطالبہ
سال 2019 میں 370 ہٹنے کے بعد پہلی بار ایل جی سے مل کر محبوبہ مفتی نے کہا، ”واپس آنے والے سبھی کشمیری پنڈتوں کوان کے آبائی ضلع میں آدھا کنال زمین دی جائے۔ جموں وکشمیر اسمبلی میں کشمیری پنڈتوں کو دی گئی دو نامینیٹیڈ سیٹ کے بدلے ان کی سیٹ محفوظ کی جائے۔ کشمیری پنڈتوں کو احترام اورامن وامان کے ساتھ لوٹنے میں مدد ملے۔ امرناتھ یاترا میں عام لوگوں کے ساتھ بھی کیا جائے۔”
عمرعبداللہ پر سخت تنقید
انہوں نے کہا، ”عمرعبداللہ (جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ) کی حکومت اسمبلی میں آرٹیکل 70 پر تجویز کے عوض ٹیولپ گارڈن میں گھوم رہے تھے۔ ہم نے سب کوخط لکھا اوراگرعمرعبداللہ حکومت اس کوہلکے میں لے رہی ہے توہم کیا کرسکتے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی ہمارا پولیٹیکل ایجنڈا ہوگا اورحکومت کے ساتھ ساتھ ہم بھی ان کی واپسی کے لئے کام کریں گے۔”
محبوبہ مفتی نے کہا، ”ہم نے اپنے ایجنڈا کو لانے سے پہلے کشمیری پنڈتوں سے بات کی اور ان کے مشورے کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ ہم کشمیری پنڈتوں کو واپس کشمیری سماج میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔”









