امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں کشمیر اینڈ لداخ ہائی کورٹ نے یو اے پی اے (UAPA) کے تحت درج ایک مقدمے میں دو ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ریاست کی خودمختاری، سالمیت، اور عوامی سکون سے بڑھ کر کچھ نہیں۔‘‘
جسٹس سنجے پریہار اور جسٹس راجنیش اوسوال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے بلال احمد کمہار اور اننت ناگ ضلع کے توفیق احمد لاوے کی ضمانت کی اپیلیں خارج کر دیں۔ دونوں پر الزام ہے کہ وہ کالعدم عسکری تنظیم جیش محمد سے وابستہ ایک نیٹ ورک کا حصہ تھے، اور ان کے قبضے سے گرینیڈ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔
یہ مقدمہ جنوری 2021 میں دونی پورہ سنگم میں ایک ناکے پر گرفتاری کے بعد درج ہوا، جہاں دو افراد کے انکشافات کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ عدالت نے یو اے پی اے کی دفعہ 43-ڈی (5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر الزامات بادی النظر میں درست معلوم ہوں تو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘‘
عدالت نے زور دے کر کہا کہ ’’معمول (کے کیسز) کے ضمانتی اصول ایسے معاملات میں لاگو نہیں ہوتے‘‘ اور ملزمان عدالت میں دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں، لیکن موجودہ شواہد کی روشنی میں ان کی درخواستیں قابل قبول نہیں۔







