امت نیوز ڈیسک //
سوپور : سید روح اللہ مہدی رکن پارلیمنٹ نے آج شمالی کشمیر کے سوپور میں ایک پروگرام کے دوران کہا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے ہوں جو ہمیشہ اصول پر کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں کے ساتھ سسٹم کو بدلنا چاہتا ہوں کیونکہ ہم سب نے دیکھا ہے کہ جب الیکشن ہوتا ہے تب ایک بات ہوتی ہے اور اس کے بعد الگ بات ہوتی ہے اور یہ سب سے بدقسمتی کی بات ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں سیاست میں منسٹر بننے کے لیے نہیں آیا ہوں اور اگر میں بات کروں تو مجھے اور میرے لوگوں کو عزت ملنی چاہیے۔ اگرچہ انہوں نے براہ راست کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان نہیں کیا، لیکن ان کے بیان کے لہجے اور وقت نے اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑا کہ وہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے الگ ایک آزاد سیاسی اقدام کے لیے زمین تیار کر رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کی سوپور یونٹ کا کوئی بھی رکن میٹنگ میں موجود نہیں تھا، ایک واضح غیر موجودگی جس نے روح اللہ اور پارٹی کی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی رسہ کشی میں اضافہ کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تقریب آزادانہ طور پر اور مقامی NC ڈھانچے کی شمولیت کے بغیر منعقد کی گئی تھی۔
موصوف نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں منشیات میں کافی نوجوان مبتلا ہے اور یہ منشیات یہاں پر لایا گیا ہے۰ انہوں نے بتایا کہ منشیات عقل کو تباہ کرتا ہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب کو مل جل کر اس منشیات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔









