امت نیوز ڈیسک //
شوپیاں : دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی بار جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بدھ کو مکمل ہڑتال رہی۔ ضلع بھر میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بھی جزوی طور پر متاثر رہی۔ ہڑتال کی کال آل پارٹی کونسل کی جانب سے دی گئی تھی، جسے سیاسی اور سماجی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔
ہڑتال کی بنیادی وجہ ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر شوپیاں کے دفتر کی منتقلی بنی۔ دفتر کی منتقلی سے متعلق سرکاری حکمنامے کے بعد شوپیاں کی بیشتر آبادی، سیاسی و سماجی کارکنان سیخ پا ہوئے۔ ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفس کو ایم ایل اے، زینہ پورہ، شوکت حسین گنائی کے آبائی گاؤں چتراگام منتقلی سے متعلق سرکاری حکم نامہ بھی جاری کیا گیا جس پر عوام نے شدید ناراضگی ظاہر کی اور اس فیصلے کو ’سیاسی‘ قرار دیا۔ اس فیصلے کے خلاف شوپیاں اور زینہ پورہ دونوں حلقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
واضح رہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شوکت حسین گنائی نے زینہ پورہ سے نیشنل کانفرنس کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ شوپیاں حلقے سے ایڈوکیٹ شبیر احمد کُلے نے بطور آزاد امیدوار جیت درج کی تھی۔ دونوں ایم ایل ایز سمیت پی ڈی پی، بی جے پی، جے ڈی یو، اپنی پارٹی، سول سوسائٹی اور پیسٹ سائیڈ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ہنگامی طور’’آل پارٹی کونسل‘‘ تشکیل دی، جس نے آج احتجاج اور ہڑتال کی کال دی۔
لوگوں کا الزام ہے کہ ’’دفتر کی منتقلی سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے، جو شوپیان کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ’’یہ حکم فوری طور پر واپس لیا جائے اور دفتر کو دوبارہ شوپیاں منی سیکریٹریٹ منتقل کیا جائے۔‘‘
یاد رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب شوپیاں قصبے میں اس نوعیت کی مکمل ہڑتال رہی اور احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو ملے، جو عوامی بے چینی اور ناراضی کی غمازی کرتے ہیں۔








