امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : ایس ایم ایچ ایس اسپتال، سرینگر میں ایک ڈاکٹر کو تیماردار نے زور دار تھپڑ رسید کیا اور تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ ڈاکٹر زمین پر گر گیا۔ ایمرجنسی وارڈ میں تیماردار نے ڈاکٹر پر کیوں ہاتھ اٹھایا؟ وجوہات کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا ہے، تاہم اسپتال کے 21 سیکنڈ سی سی ٹی کیمرہ فوٹیج میں تیماردار کی جانب سے وارڈ میں موجود ڈاکٹر کو تھپڑ مارتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھی جموں میڈیکل کالج میں اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک خاتون تیمار دار نے اپنے رشتہ دار کی موت کے بعد خاتون ڈاکٹر پر حملہ کیا تھا۔
اس واقعے کے تناظر میں ایس ایم ایچ ایس اسپتال کی میڈیکل سپر انٹنڈنٹ، ڈاکٹر عندلیب بشیر، سے بات کی جنہوں نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔‘‘ البتہ انہوں نے معاملے کے تئیں مزید خلاصہ نہیں کیا۔
اس واقعے کی گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مذمت کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے، جبکہ انہوں نے ’’قصوروار کے خلاف قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی‘‘ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ صرف ایک ڈاکٹر پر نہیں بلکہ پوری برادری پر حملہ ہے جو کہ 24 گھنٹے مریضوں کے علاج و معالجے اور خدمت میں مصروف عمل رہتے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا کہا کہ ’’عام شعبہ جات کے مقابلے میں شعبہ ایمرجنسی میں کام کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ چلینج سے بھرا رہتا ہے ایسے میں ہم ہر وقت ایک جنگی حالت میں مریضوں کا علاج کرتے ہیں، نازک حالت میں زندگی بچانے کا کام انجام دیتے ہیں اور روزانہ یہاں افراتفری سے نمٹتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہمیں مار پیٹ، بدسلوکی اور تذلیل کے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘
واقعے کے بعد ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شعبہ ایمرجنسی کے باہر احتجاج کرتے ہوئے نہ صرف تیماردار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا بلکہ ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔ احتجاج میں شامل متاثرہ ڈاکٹر شاہنواز نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’’میں ایمرجنسی میں ڈیوٹی پر تعینات تھا، قریب چالیس سالہ مریض کا معائنہ کیا تاہم اس کے وائٹلز ریکارڈ نہیں ہو پائے اور اسے مزید طبی نگہداشت کے لئے ریفر کیا۔‘‘ ڈاکٹر شاہنواز کے مطابق: ’’محض دس یا پندرہ منٹ کے دوران مریض کی موت ہوئی اور تیماردار میرے پاس آیا اور مجھے تھپڑ رسید کیا۔‘‘ دریں اثناء، فوت ہوئے شہری کی موت کی وجوہات کا فوری طور پر پتہ نہ چل سکا۔
ادھر، ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ تشدد نہ تو برداشت کیا جائے اور نہ ہی یہ رویہ جائز ہے۔ ہم ملوث شخص کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے اور اسپتال کے تمام اہم نگہداشت والے وارڈز خاص طور پر ایمرجنسی اور آئی سی یو زونز میں مناسب اور تربیت یافتہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی مانگ کرتے ہیں۔‘‘
دریں اثناء، جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ ’’اس واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘‘









