وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے14 جولائی کو سیکورٹی کے تمام حصار توڑتے ہوئے خواجہ بازار نوہٹہ کے مزارِ شہداء پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔وزیر اعلیٰ کے مطابق سخت سکیورٹی رکاوٹوں، پولیس کی جانب سے راستہ روکنے اور نیشنل کانفرنس کے جھنڈے کو پھاڑنے کی مبینہ کوششوں کے باوجود، وہ تمام ممبران اسمبلی کے ہمراہ مزار شہدائے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔یاد رہے 13 جولائی کو ایل جی انتظامیہ نے مزار شہداء جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا تھا، ساتھ ہی تمام سیاسی قیادت بشمول وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کو بھی باہر سے مقفل کیا گیا تھا۔
واضح رہے 2019 سے قبل 13 جولائی کی تقریب سرکاری سطح پر منعقد کی جاتی تھی لیکن 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوضی کے بعد اس دن کی چھٹی کو منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ کی جانب سےمزار شہداء پرکسی بھی تقریب کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پیر کی صبح تمام سکیورٹی بندشوں اور پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نوہٹہ کے تاریخی مزارِ شہداء، خواجہ بازار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی۔میڈیا خبروںکے مطابق، عمر عبداللہ نے اس موقع پر نہ ہی سکیورٹی کنٹرول روم کو پیشگی اطلاع دی اور نہ ہی کسی سرکاری اجازت کا انتظار کیا۔ وہ اپنی گاڑی میں خاموشی سے روانہ ہوئے اور سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود مزارِ شہداء کے بند گیٹ کے قریب پہنچ گئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مزارِ شہداء کا مرکزی دروازہ بند تھا، تاہم عمر عبداللہ نے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہونے کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے ہمراہ چند قریبی افراد بھی موجود تھے جنہوں نے اس لمحے کو کیمرے میں قید کیا۔ویڈیو میں عمر عبداللہ کو قبروں کے سامنے کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعا مانگی۔
اس موقع پر ایک غیر معمولی صورت حال اس وقت دیکھنے میں آئی جب عمر عبداللہ نے بند گیٹ کے باوجود دیوار پھلانگ کر مزار کے احاطے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔واقعے کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار وزیر اعلیٰ کو جسمانی طور پر روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک موقع پر ایک پولیس افسر دھکا دیتے ہوئے بھی دکھائی دیتا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مزار کے اندر جا کر شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
فاتحہ خوانی کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران عمر عبداللہ نے انتظامیہ اور پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو خود کو صرف سکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کے نگراں کہتے ہیں، انہوں نے واضح احکامات کے تحت ہمیں فاتحہ خوانی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا:’’کل(13 جولائی) صبح سے ہی تمام سیاسی قیادت کو گھروں میں بند کر دیا گیا۔ میں نے کنٹرول روم کو مطلع کیا کہ میں مزارِ شہداء پر فاتحہ پڑھنے کے لیے جانا چاہتا ہوں، لیکن چند منٹوں میں میرے گیٹ کے باہر فورسز تعینات کر دی گئیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ:’’درمیانی شب تک بھی سیکیورٹی نہیں ہٹائی گئی۔ آج(14 جوالائی) میں نے انہیں مطلع کیے بغیر چپ چاپ گاڑی میں بیٹھا اور روانہ ہوا، لیکن اس کے باوجود نوہٹہ چوک پر ہماری گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ وہاں سی آر پی ایف کی گاڑی، جے کے پولیس کی رکشک کھڑی تھی اور پھر ہمارے ساتھ ہاتھا پائی کی کوشش بھی کی گئی۔‘‘
عمر عبداللہ نے پولیس اہلکاروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا:’’یہ پولیس والے جو وردی پہنتے ہیں، کب کب قانون بھول جاتے ہیں؟ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس قانون کے تحت ہمیں روکا گیا؟ اگر کوئی رکاوٹ تھی، تو وہ تیرہ جولائی تک تھی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ایک آزاد ملک ہے، لیکن ان کے رویے سے لگتا ہے جیسے ہم ان کے غلام ہیں۔ ہم کسی کے غلام نہیں، ہم اس ریاست کے عوام کے خادم ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ فورسز نے نہ صرف انہیں روکنے کی کوشش کی بلکہ ہمارے جھنڈے پھاڑنے کی کوشش کی گئی، ہمیں پکڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ ہم آئے، ہم نے فاتحہ پڑھی۔انہوں نے مزید کہا:’’ان لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ شہداء کی قبریں صرف تیرہ جولائی کو موجود ہوتی ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم سال کے بارہ مہینے، جب چاہیں، ان شہداء کو یاد کریں گے۔ ہم پر کوئی پابندی نہیں چلے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ کےمزار شہداء پہنچنے کے فوراً بعد وزیرِ تعلیم اور کابینہ کی سینئر رکن سکینہ ایتوبھی بغیر کسی سکیورٹی قافلے یا سرکاری پروٹوکول کے، ایک عام سکوٹی پر سوار ہو کر وہاںپہنچ گئیں۔یہ غیر معمولی منظر اس وقت سامنے آیا جب مزارِ شہداء کے اطراف تعینات پولیس اہلکار، مقامی افسران اور عوام سکینہ ایتو کو ایک عام شہری کے آتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے۔بتایا جاتا ہے کہ سکینہ ایتو کی اس خاموشی سے آمد کا نہ صرف پولیس کو علم تھا نہ ہی ان کے ذاتی محافظوں کو۔ وہ کسی کو اطلاع دیے بغیر فاتحہ خوانی کے لیے مزار پر پہنچیں، جہاں انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعا مانگی۔واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو گئیں، جن میں سکینہ ایتو کو بغیر سیکیورٹی، مکمل سادگی سے فاتحہ خوانی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
13 جولائی کو بندشیں:
13جولائی کی صبح وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ اور کئی کشمیری قانون سازوں کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔عمر عبداللہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ’’ایک صریح غیر جمہوری اقدام میں گھروں کو باہر سے تالے لگا دیے گئے، پولیس اور مرکزی فورسز نے جیلروں کے طور پر تعینات کیا اور سری نگر میں بڑے پلوں کو بند کر دیا، یہ سب لوگوں کو ایک تاریخی اہم قبرستان میں جانے سے روکنے کے لیے ہے جس میں ان لوگوں کی قبریں ہیں جنہوں نے کشمیریوں کی آواز بلند کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ میں یہ کبھی نہیں سمجھوں گا کہ عبداللہ کی حکومت کا کیا خوف ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ’’ 13 جولائی کا قتل عام ہمارا جلیانوالہ باغ ہے، جن لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں انہوں نے انگریزوں کے خلاف کیا، کشمیر پر انگریزوں کی بالادستی کی حکومت تھی، کتنی ہی شرم کی بات ہے کہ برطانوی راج کے خلاف ہر طرح سے لڑنے والے سچے ہیروز کو آج صرف اس لیے ولن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔ ہمیں ان کی قربانیوں کو بھولنے کا موقع نہیں دیا جائے گا لیکن آج ہم ان کی قربانیوں کو نہیں بھولیں گے۔‘‘
وہیں محبوبہ مفتی ، سجاد لون ، الطاف بخاری اور اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح کے لیڈران کو بھی گھر وں میں نظر بند رکھا گیا ہے۔
اس سے قبل 12 جولائی کی شام کوضلعی انتظامیہ سرینگر نے ایک ایڈوائزری جاری کردی جس میںکہا گیاکہ’’ 13 جولائی 2025 (اتوار) کو خواجہ بازار، نوہٹہ کی طرف جانے کے خواہشمند تمام درخواست دہندگان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عام لوگوں کو اس کے ذریعہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کرنے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ‘‘
یاد رہےیوم شہداء، ہر سال 13 جولائی کو منایا جاتا ہے، 1931 میں سری نگر سینٹرل جیل کے باہر 22 شہریوں کے قتل کی یاد میں منایا جاتا ہے۔اسے شیخ محمد عبداللہ نے 1948 میں ایک سرکاری سرکاری تقریب قرار دیا تھا۔ جموںو کشمیر میں مرکزی راج کے نفاذ کے بعد 2018 میں سرکاری کیلنڈر سے اس دن کو ہٹا دیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ کی مقامی اخبارات پر شدید تنقید
13 جولائی کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جہاںیومِ شہداء کے موقع پر جموں و کشمیر کی منتخب قیادت کو گھروں میں بند کرنے کے حکومتی اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،وہیں اُن کا نشانہ وہ مقامی اخبارات بھی بنے جنہوں نے اس واقعے کو نظر انداز کیا۔
عمر عبداللہ نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا:’’ذرا ہمارے مقامی اخبارات پر نظر ڈالیں — جموں اور سرینگر، دونوں کے، انگریزی اور مقامی زبانوں میں۔ آپ بآسانی پہچان لیں گے کہ کس میں ہمت تھی اور کس نے بزدلی دکھائی۔‘‘
انہوں نے لکھا کہ:’’بزدلوں نے یہ خبر مکمل طور پر دفن کر دی کہ کل منتخب نمائندوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا، جبکہ جنہیں تھوڑی سی غیرت باقی تھی، انہوں نے اسے صفحۂ اول پر جگہ دی۔‘‘
اپنے طنزیہ لہجے کو مزید سخت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا:’’ان اخبار فروشوں پر شرم آتی ہے جنہوں نے یہ خبر دبا دی۔ امید ہے کہ لفافے کی موٹائی ان کے ضمیر سے زیادہ قیمتی ثابت ہوئی ہو گی۔‘‘
عمر عبداللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے یومِ شہداء پر منتخب وزرائے اعلیٰ، سابق قانون سازوں اور دیگر رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کرنا جمہوری اصولوں کے سراسر منافی ہے، اور میڈیا کی خاموشی اس زیادتی میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
عمر عبداللہ کا یہ بیان سامنے آتے ہی صحافتی حلقوں میں بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ متعدد صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آزاد اور بے باک صحافت ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، اور اسے مصلحت یا دباؤ کے تحت خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
یوم شہداء کے موقع پر بندش:سیاسی لیڈران کی مذمت
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 13 جولائی کے موقع پر مزارِ شہداء جانے پر پابندی کو جمہوریت اور آئین کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ جماعتوں کے قائدین اور کارکنوںکو مزار شہداء جانے سے روکنا ظلم و جبر کی علامت ہے اور اس عمل سے بنیادی جمہوری اقدار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ڈاکٹر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہر سال 13 جولائی کو عوام، خاص طور پر عوامی نمائندوں کی جماعتیں 13جولائی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مزارِ شہداء پر حاضری دیتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1931 کے شہداء نے شخصی راج کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ عزت نفس، وقار اور انسانیت کے اصولوں کی حفاظت کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آج ان ہی شہداء کی یاد میں منعقدہ روایتی فاتحہ خوانی کو روکنا اور عوام کو گھروں میں محصور کرنا بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری عمل کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ’’شہداء نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی اور نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ ان کے مشن کو زندہ رکھا ہے‘‘۔ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ملک کے آئین اور جمہوری نظام میں ظلم، جبر اور ناانصافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور حق کی آواز کو دبانا کسی بھی صورت میںقابل قبول نہیں ہو سکتا۔ان کے مطابق اس طرح کی پابندیاں نہ صرف تاریخ سے ناانصافی ہے بلکہ آئینی آزادیوں پر قدغن کے مترادف ہیں۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے تحت انتظامیہ چلانے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے اقدامات ان کے بیانات کے سراسر برعکس ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے 13 جولائی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومت کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیر کے ہیروز کو قومی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا’دل کی دوری‘ ختم نہیں ہو سکتی۔ محبوبہ مفتی نے ایکس پر پوسٹ کیاکہ ایک دن آپ ہمارے ہیروز کو بھی اپنا مانیں گے، جیسے کشمیریوں نے مہاتما گاندھی اور بھگت سنگھ جیسے قومی ہیروز کو اپنایا، اْس دن واقعی، جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا، ‘دل کی دوری’ ختم ہو جائے گی‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ سرینگر میں مزارِ شہدا کی طرف جانے والے راستوں کو بند کیا گیا اور لوگوں کو گھروں میں محصور کر کے مزار شہداجانے سے روکا گیا‘‘۔محبوبہ مفتی نے 13 جولائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا’’یہ دن اُن شہدا کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی، جیسے کہ ملک کے دیگر حصوں میں ہزاروں لوگوں نے کیا۔ وہ ہمارے ہیرو تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
میرواعظ محمد عمر فاروق نے 13جولائی 1931کے شہدا ء کو ان کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیری عوام کے اجتماعی حقوق، انصاف اور وقار کیلئے جو قربانیاں دیں، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔میرواعظ نے کہا’’ ان عظیم قربانیوں کو ہماری یادداشت سے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ شہدا ہمارے دلوں میں زندہ ہیں، ہماری تاریخ کا حصہ ہیں اور ہماری جاری جدوجہد کا سرمایہ ہیں‘۔میرواعظ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ شہدا کی یاد میں پرامن تقریبات کی اجازت نہ دینا، کسی بھی جمہوری سماج کے لیے افسوسناک اور ناقابلِ قبول رویہ ہے۔
اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے انتظامیہ کی طرف سے پارٹی قیادت کو مزار شہدا جانے سے اور پارٹی صدر دفتر پر دعائیہ مجلس منعقد کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ بخاری نے ایکس پر لکھا’’ مزار شہدا نقشبند صاحبؒ سرینگر جانے کی اجازت نہ دینے کے بعد اب انتظامیہ نے ہمارے پارٹی آفس کو بھی مقفل کردیا ہے، جہاں ہم آج 1931کے شہدا کی یاد میں دعائیہ مجلس کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ شیخ باغ میں میری رہائش گاہ کے گرد نواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے تاکہ میں اپنے ساتھیوں سے مل نہ سکوں اور پارٹی آفس میں مجوزہ دعائیہ تقریب میں شرکت نہ کرسکوں۔ یہ اقدامات انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور آمرانہ رویے کی واضح مثالیں ہیں۔‘‘
پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی ہندوارہ سجاد غنی لون کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے ایکس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔سجاد لون نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا’’شہدا کے دن پر مزارِ شہدا جانا چاہتا تھا لیکن مجھے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ یومِ شہدا صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کی اس مشترکہ تاریخ کی علامت ہے، جس میں لوگوں نے ظلم و جبر کے خلاف اپنی جانیں قربان کیں۔پیپلز کانفرنس کے ترجمان نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’’کشمیر ی عوام کو اپنے تاریخی ورثے اور شہدا کی یاد منانے سے روکنا ناقابلِ قبول ہے‘‘۔
سی پی آئی ایم لیڈرمحمد یوسف تاریگامی نے انتظامیہ کی پابندیوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ آپ میں بند رکھ سکتے ہیں لیکن ہمارے دلوں سے 13جولائی کے شہدا کی یاد کیسے مٹائیں گے؟‘‘۔تاریگامی نے کہا کہ 13جولائی جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ تاریخ ان شہدا کی وجہ سے ہماری یاد میں نقش ہو گئی ہے جنہوں نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی خوشحالی، خود ارادیت اور ایک نئی شروعات کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔تاریگامی نے کہا کہ یہاں تک کہ پریم ناتھ بزاز جیسے مصنفین نے بھی اس دن کی اہمیت کو دستاویزی شکل دی ہے۔ ایسی قربانیاں شاید ہی کسی تحریک میں دیکھی گئی ہوں، ہاں، تاریخ میں غلطیاں ہوئی ہیں اور اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن 13 جولائی اس وقت کے حکمرانوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا، جو تانا شاہی، جاگیرداری اور استحصال کے راستے پر چل پڑے تھے۔









