• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
’’امن کی بات عزت کے ساتھ‘‘: پی ڈی پی کے 26 واںیوم تاسیس کی تقریب سے محبوبہ مفتی کا خطاب

کرناہ کپواڑہ کے پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کی کہانی: جب پولیس اہلکار ہی پولیس تشدد کا نشانہ بنا

اُمت نیوز ڈیسک/جہانگیر عزیز

by امت ڈیسک
31/07/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے کشمیر میں زیر حراست ایک پولیس اہلکار پر تشدد کرنے کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینک کے افسر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سی بی آئی نے ایف آئی آر میں کپواڑہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اعجاز احمد نائیکو اور(جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر) جے آئی سی میں تعینات پانچ اہلکاروں کو نامزد کیا ہے۔ ان میں سب انسپکٹر ریاض احمد، جہانگیر احمد، امتیاز احمد، محمد یونس اور شاکر احمد شامل ہیں۔

پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو دو سال قبل کپواڑہ کے مشترکہ تفتیشی مرکز (جے آئی سی) میں مبینہ طور پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ 26 جولائی کو درج کی گئی سی بی آئی کی ایف آئی آر میں ملزمین پر مجرمانہ سازش، قتل کی کوشش اور غلط طریقے سے قید کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ کارروائی سپریم کورٹ آف انڈیاکی طرف سے جموں و کشمیر پولیس کے ان افسران کی گرفتاری کے حکم کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو منتقل کرتے ہوئے کہا تھا کہ تشدد میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کو ایک ماہ کے اندر گرفتار کیا جانا چاہیے اور مقدمہ درج کرنے کے تین ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جس نے آئی پی سی کی دفعہ 309 کے تحت ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے خورشید احمد کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ دینے کا بھی حکم دیا۔

معاملہ کیا ہے؟

خورشید احمد چوہان کی اہلیہ روبینہ اخترنے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہےکہ بارہمولہ میں تعینات ان کے شوہر کو 17 فروری 2023 کو منشیات کے معاملے میں تفتیش کے لیے ایس ایس پی کپواڑہ کے سامنے رپورٹ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔جہاںاعجاز احمد نائکو، ریاض احمد اور دیگر ملزمین (پولیس اہلکاروں) نے خورشیداحمد کو مبینہ طور پر لوہے کی سلاخوں اور لکڑی کے ڈنڈوں سے چھ دن تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہیں’’غیر انسانی اور توہین آمیز تشدد‘‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

اُس وقت بارہمولہ پولیس ہیڈ کورٹرز میں تعینات خورشید احمدچوہان کو 17 فروری 2023 کے روز ایک’’ سگنل کمیونیکیشن‘‘ کے ذریعے طلب کیا گیا تھا، تاکہ وہ ایس ایس پی، کپواڑہ کے سامنے منشیات کے ایک کیس کے سلسلے میں تحقیقات کے لیے اپنا بیان درج کریں۔

سگنل ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خورشید احمدچوہان کپواڑہ پہنچے جہاں انہیں جوائنٹ انٹیروگیشن سینٹر کے حوالے کیا گیا، جہاں اعجاز احمدنائیکو، ریاض احمد اور دیگر اہلکاروں نے خورشید کو چھ دن تک لوہے کی سلاخوں اور لکڑی کی لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، اس کے علاوہ انہیں بجلی کے شدید جھٹکے بھی دیے گئے۔ یہ حقائق خورشید کی بیوی روبینہ نے بیان کیے جنہیں ایف آئی آر کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شکایت میں کہا گیا کہ ’’۔۔۔۔بالآخر 26 فروری 2023 کو خورشید کے مخصوص اعضاء (پرائیویٹ پارٹ) کو کاٹ دیا گیا، اس کے علاوہ چھ دن تک مسلسل ان کے پرائیویٹ حصے میں لوہے کی سلاخیں ڈالی گئیں۔ خورشید کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے پاخانے کی جگہ میں سرخ مرچ ڈالی گئی اور بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔‘‘

واضح رہےسی بی آئی کی ایف آئی آر خورشید کی اہلیہ کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی، جو اپنے شوہر کے خلاف مبینہ مظالم کی تحقیقات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھارہی تھیں۔ روبینہ نے الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے ایس ایس پی، کپواڑہ جن کی ہدایت پر خورشید کو بارہمولہ سے کپواڑہ بھیجا گیا تھا، منشیات کے معاملے میں تحقیقات کے لیے ’’خاموش تماشائی‘‘ بنے ہوئے تھے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ایجنسی نے اپنی ایف آئی آر میں ایس ایس پی کو ملزم کے طور پر نامزد نہیں کیا ہے۔

خورشید نے اپنے اوپر ہوئے مظالم اور انصاف کی حصولیابی کے لیے سپریم کورٹ کی جانب رجوع کیا کیونکہ سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کی ان کی درخواست کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔

کیس کو سی بی آئی کو سونپتے ہوئے، سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک شہری کے بنیادی حقوق، اس کے وقار اور زندگی کے حق کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری کو استعمال کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ ہائی کورٹ جرائم کی سنگینی کا ادراک کرنے کے ساتھ ساتھ اس اثر و رسوخ پر غور کرنے میں ناکام رہا جو ملزمین پولیس اہلکار ہونے کی وجہ سے استعمال کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے خورشید احمدکو 50 لاکھ روپے کے معاوضے کی ادائیگی کا بھی حکم دیا، جو متعلقہ افسر (افسروں) کی تنخواہوں سے وصول کیا جائے گا، جن کے خلاف سی بی آئی کی طرف سے تحقیقات مکمل ہونے پر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کےانتظامیہ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا کہ جو زخم متاثرہ خورشید احمدچوہان کو لگے ہیں وہ خودکشی کی کوشش کا نتیجہ تھے۔

معاملے کے بارے میں پولیس کا بیان

پولیس نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے گئے اپنے رپورٹ میں بتایا ہے کہ خورشید احمد چوہان ولدمرحوم غلام مصطفیٰ چوہان ساکنہ ابکوٹ کرناہ حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی بڈگام، جو پولیس محکمہ میں بطور سینئر گریڈ کانسٹیبل کام کررہا ہے اور جس کی تعیناتی اس وقت بارہمولہ میں ہے ، 26فروری 2023 کوپولیس اسٹیشن کرناہ میں درج ایف آئی آر زیر نمبر 17/2023زیر دفعات08/21-29این ڈی پی ایس ایکٹ میں ملوث پایا گیا ہے۔

تفتیش کے لیے خورشید احمد چوہان کو جے آئی سی کپواڑہ طلب کیا گیا، جہاں اس نے خود سوزی کی کوشش کرتے ہوئے بیلڈ سے اپنی نس کاٹ ڈالی، جس کے بعد اس کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

متاثرہ فرد کے خصیے بھی کاٹے گئے

سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو 20 فروری اور 26 فروری، 2023 کے درمیان، متعدد چوٹیں آئیں، جن میں ان کے مخصوص اعضاء کا جلنا بھی شامل ہے اور بعد ازاں انہیں سکمز (شیر کشمیر انٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) اسپتال میں بعد دوپہر دو بج کر 48 منٹ پر داخل کیا گیا۔ یہ بات بھی واضح اور غیر متنازع ہے کہ متاثرہ فرد کے کاٹے گئے خصیوں کو اسپتال میں پلاسٹک کے ایک علیحدہ بیگ ایک انسپکٹرعاشق حسین کے ہاتھ میں لایا گیا۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ یہ حقائق ہمارے ضمیر کو جھنجوڑ دیتی ہے۔ پولیس کا موقف تھا کہ خورشید نے تفتیش کے دوران اپنی جان لینے کی کوشش کی اور انہوں نے خود کو زخمی کردیا۔

ایک سخت فیصلے میں، سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ اس کیس کی شدت لا مثال ہے جس میں’’وحشیانہ اور غیر انسانی حراستی تشد‘‘ شامل ہے، جس کا اظہار اپیل کنندہ کے جنسی اعضاء کی’’”مکمل تخریب‘‘ سے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کیس پولیس مظالم کی سب سے وحشیانہ مثالوں میں سے ایک ہے جسے ریاست، اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

طبی شواہد حتمی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ اس طرح کی چوٹیں خود سے لگانا ناممکن ہیں۔ جواب دہندگان (یونین ٹیریٹری آف جموں و کشمیر) کا خودکشی کی کوشش کا نظریہ جب ٹائم لائن اور طبی ثبوت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے تو تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ خورشید کو 17 فروری 2023 کو جوائنٹ انٹروگیشن سنٹر، کپواڑہ میں ایک سگنل کمیونیکیشن کے ذریعے طلب کیا گیا تھا، جس میں خاص طور پر کسی ایف آئی آر کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ پولیس کے دعوؤں کے مطابق، اسے 2023 کی ایف آئی آر نمبر 1 کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا جو اس حقیقت سے متصادم ہے کہ اسے 2023 کی ایف آئی آر نمبر 17 میں ملوث کیا گیا تھا، جو چھ دن بعد 23 فروری 2023 کو درج کی گئی تھی، اور یہ ایف آئی آر ایک اور ملزم فاروق حسین کے مبینہ انکشاف پر درج کی گئی تھی جسے نشہ آور اشیاء کے استعمال کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ یہ بے ضابطگی مدعا علیہ کے کیس کی من گھڑت نوعیت کو بے نقاب کرتی ہے اور 20 فروری 2023 سے 26 فروری 2023 تک اپیل کنندہ کی غیر قانونی حراست کو حتمی طور پر قائم کرتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ طبی ثبوت فیصلہ کن طور پر خود کو پہنچنے والے نقصان کے نظریہ کو مسترد کرتے ہیں اور خودکشی کے نظریہ کی تردید کرتے ہیں۔

دونوں خصیوں کا مکمل جراحی سے ہٹانا، اپیل کنندہ کی ہتھیلیوں اور تلوؤں پر گہرے زخم اور پاخانے کے راستے میں (طبی رپورٹ کے مطابق) نباتاتی ذرات کی موجودگی اور پشت سے رانوں تک زخم اور داغ اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ خورشید کو حراستی تشدد کی بھیانک تکنیکوں جیسے فالنگا کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ اس طرح کے زخم طبی طور پر خود کو لگانا ناممکن ہے خاص طور پر مہلک انداز سے خون جمنے یا نیم بیہوشی کی حالت ایسے ہوش میں کمی کی غیر موجودگی میں، جیسا کہ اگر مسخ خود کیا جاتا تو ایسا ہوتا۔

سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو حکم دیا کہ وہ مشترکہ تفتیشی مرکز(جے آئی سی)، کپواڑہ میں موجود نظام اور اس سے جڑے مسائل کی بھی جامع تحقیقات کرے گی، جس میں تمام سی سی ٹی وی سسٹم کی جانچ، متعلقہ مدت کے دوران موجود تمام اہلکاروں سے پوچھ گچھ، احاطے کی فرانزک جانچ اور تمام پروٹوکول اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے گا جو حراست اور پوچھ گچھ کے لیے اپنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کانسٹیبل خورشید احمد چوہان پر تشدد کے معاملے میں سخت رخ اپناتے ہوئے حکومت کو ایک ماہ کے اندر ملزم افسران کو گرفتار کرنے اور معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے کے ساتھ ہی متاثرہ کو50لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے ۔

اس سے قبل جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اس سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے پیر 28 جولائی کے روز یہ ہدایت دی۔

سپریم کورٹ کا فیصلی: خورشید آحمد چوہان کیس

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سری نگر میں میر واعظ کی قیادت والی اے اے سی پر یو اے پی اے پابندی کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوگی

Next Post

ٹرمپ کی نظرثانی شدہ ٹیرف جاری،ہندوستان 25 فیصد پر برقرار

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
کتھ باتھ سے  گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

کتھ باتھ سے گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

26/12/2025
Next Post
ٹرمپ کی نظرثانی شدہ ٹیرف جاری،ہندوستان 25 فیصد پر برقرار

ٹرمپ کی نظرثانی شدہ ٹیرف جاری،ہندوستان 25 فیصد پر برقرار

سری نگر میں بی ایس ایف جوان لاپتہ، تلا ش جاری

سری نگر میں بی ایس ایف جوان لاپتہ، تلا ش جاری

نائب صدر کے عہدے کے لیے 9 ستمبر کو انتخاب، 7 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا

نائب صدر کے عہدے کے لیے 9 ستمبر کو انتخاب، 7 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا

سری نگر میں بی ایس ایف جوان لاپتہ، تلا ش جاری

بی ایس ایف اہلکار بغیر اجازت سفر کرتا ہوا دہلی میں ٹریس، تحقیقات کا آغاز

اننت ناگ میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی فائرنگ، دو غیر مقامی مزدور زخمی

کولگام میں جھڑپ شروع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »