امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا صدارتی فرمان (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کر دیا ہے، جس کے تحت 69 تجارتی شراکت داروں پر درآمدی ڈیوٹی (ٹیکس) 10 فیصد سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 41 فیصد تک کر دی گئی ہے۔ یہ نیا اقدام جمعہ کو طے شدہ تجارتی معاہدے کی ڈیڈلائن سے قبل کیا گیا ہے اور اس کا مقصد عالمی تجارت کو امریکی کاروباروں کے حق میں ڈھالنا بتایا جا رہا ہے۔ نئی ڈیوٹیاں سات دن بعد نافذ ہوں گی۔
مختلف ممالک پر ڈیوٹی کی نئی شرحیں
شام پر سب سے زیادہ 41 فیصد ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔
کینیڈا کی کئی اشیاء پر 35 فیصد
برازیل پر 50 فیصد (جہاں کچھ شعبے جیسے ایئرکرافٹ، انرجی، اور جوس کو استثنیٰ دیا گیا)
بھارت پر 25 فیصد
تائیوان پر 20 فیصد
سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد
جبکہ پاکستان پر ڈیوٹی کم کر کے 29 فیصد سے 19 فیصد کر دی گئی ہے۔
معاہدے اور استثنیٰ:
یورپی یونین اور جاپان کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں کے تحت کچھ اشیاء پر کم یا صفر ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔
جو ممالک فہرست میں شامل نہیں، ان پر 10 فیصد عمومی ڈیوٹی لاگو ہو گی۔
کینیڈا اور میکسیکو
کینیڈا کو یو ایس ایم سی اے معاہدے (USMCA) کے تحت عمومی اشیاء پر استثنیٰ حاصل رہا، لیکن فینٹینیل سے متعلقہ اشیاء پر ڈیوٹی 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی۔
میکسیکو کو 90 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ نیا معاہدہ طے کیا جا سکے۔ تاہم اسٹیل، ایلومینیم، تانبہ، اور غیر-USMCA اشیاء پر 50 فیصد، گاڑیوں پر 25 فیصد ڈیوٹی برقرار رکھی گئی ہے۔
ہندوستان
بھارت پر 25 فیصد ڈیوٹی لگائی گئی ہے، اور یہ بات چیت کی ناکامی کا نتیجہ ہے جس میں امریکہ کو بھارتی زرعی مارکیٹ تک رسائی نہ ملنے پر اعتراض تھا۔
ٹرمپ نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر بھی غیر واضح سزاؤں کی دھمکی دی ہے۔
بھارتی روپے کی قدر میں کمی آئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
چین:
چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشمکش جاری ہے۔ اگست 12 تک دونوں ممالک کو معاہدہ طے کرنا ہے، جس کا مقصد باہمی ٹیکسوں اور اہم معدنیات کی فراہمی پر پابندیوں کا خاتمہ ہے۔
نئی ٹیرف فہرست (چند اہم مثالیں):
ملک نئی ڈیوٹی شرح
افغانستان 15%
بھارت 25%
برازیل 50%
کینیڈا 35% (منتخب اشیاء)
چین زیرِ مذاکرات
پاکستان 19%
جنوبی کوریا 15% (معاہدے کے تحت)
میکسیکو 30% کی مہلت (بعض اشیاء پر برقرار 50%)
سوئٹزرلینڈ 39%









