امت نیوز ڈیسک //
کولگام، 7 اگست: جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے اکھل علاقے میں جاری انسداد ملی ٹینسی آپریشن جمعرات کو ساتویں دن میں داخل ہو گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے ملی ٹینٹوں کو گھنے جنگلاتی علاقے میں تلاش کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
سرکاری ذرائع نے کشمیر نیوز کارنر (کے این سی) کو بتایا کہ رات بھر ی ٹینٹوں اور فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں تین مزید فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔
زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
منگل کی رات دیر گئے ایک بار پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو بدھ کی صبح تک جاری رہا۔ فورسز نے علاقے کا گھیراؤ مزید تنگ کر دیا ہے۔
ایک اہلکار نے بتایا: "بدھ کی صبح کچھ دیر کے لیے خاموشی کے بعد رات گئے دوبارہ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں تین جوان زخمی ہو گئے۔ تلاش اور گھیراؤ کی کارروائی بدستور جاری ہے اور مزید نفری علاقے میں تعینات کی گئی ہے۔”
یہ مشترکہ آپریشن فوج، جموں و کشمیر پولیس، اور سی آر پی ایف کی جانب سے انجام دیا جا رہا ہے۔ ملی ٹینٹوں کا پتہ لگانے کے لیے ڈرونز اور سونگھنے والے کتے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، کیونکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ملی ٹینٹ ایک دشوار گزار جنگلاتی علاقے میں محصور ہو چکے ہیں ۔
یہ انکاؤنٹر گزشتہ ہفتے جمعرات کو اس وقت شروع ہوا تھا جب علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں۔ تاہم، گھنا جنگل اور پیچیدہ زمین سیکیورٹی فورسز کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ "فورسز حد درجہ احتیاط برت رہی ہیں تاکہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے اور قریبی علاقوں کے رہائشی محفوظ رہیں۔”
یہ وادی میں رواں برس کا سب سے طویل انسداد ملی ٹینٹ آپریشن بن چکا ہے، جو جنوبی کشمیر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی اور انسداد ملی ٹینسی کی کارروائیوں میں تیزی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (کے این سی)










