وزیراعلی عمرعبداللہ نے حال ہی میں گجرات کا دورہ کیا۔ اس تناظر میں، وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے سابرمتی ریور فرنٹ اور مجسمہ آزادی کا دورہ کیا۔ عمرعبداللہ نے وہاں لی گئی تصاویراپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔ وزیراعظم مودی نے ان تصاویر پر ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کو سابرمتی اور مجسمہ آزادی کا دورہ کرتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ کا دورہ اتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ واقعہ ہندوستانیوں کے لئے دوسرے مقامات کی سیر کے لئے تحریک کا کام کرے گا۔
گجرات دورے کا مقصد
جموں و کشمیر کے لوگوں کی آمدنی کا زیادہ ترانحصارسیاحت پر ہے۔ حالیہ پہلگام حملے کی وجہ سے ریاست کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے کے ارادے سے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے گجرات کا دورہ کیا ۔
وزیر اعظم مودی نےعمرعبد اللہ ان کی تصاویر پر ردعمل ظاہر کرنے کے بعد، سی ایم عمرعبداللہ نے اس کا جوابی پوسٹ کیا۔انھوں نے کہا کہ سفر ہمارے افق اور ذہن کو وسعت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاحت بہت اہم ہو گئی ہے اور یہ لاکھوں لوگوں کی آمدنی ہے۔ اسی لیے ہم ہندوستانی سیاحوں کو اپنی ریاست میں آنے کے لیے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عبداللہ، جو احمد آباد میں سیاحتی پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے، نے صبح سابرمتی ریور فرنٹ پر دوڑ لگائی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ میں بہت خوبصورت جگہ پر چل پڑا۔ اپنے دورے کے دوران، انہوں نے گجراتی ٹور آپریٹرز اور ٹریول انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی۔ اس نے ان میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی۔
دورہ کے دوران عمر عبداللہ نے احمد آباد میں واقع سبھاش چندر آشرم (سابر متی آشرم) کا دورہ کیا اور مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے اس موقع پرکہا:’’احمد آباد کا میرا دورہ مکمل ہوا۔ مجھے مہاتما گاندھی کے سابرمتی آشرم کی سیر کرائی گئی، جس پر میں نہایت شکر گزار اور خود کو خوش نصیب محسوس کرتا ہوں۔ گاندھی جی کی تعلیمات آج بھی ہمیں صحیح راستے کی جانب رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اگرچہ ہم اکثر اس پر عمل نہیں کرتے۔‘‘
کاروبار ی تعلقات کے لیے مفاہمت پر دستخط
دورہ کے دوران کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI)نے احمد آباد میں جنوبی گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SGCCI) کے ساتھ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، باہمی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کرنے اور دونوں خطوں کے درمیان کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے ایک میٹنگ کی۔کے سی سی آئی کے صدر جاوید احمد ٹینگا نے ایس جی سی سی آئی کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں چیمبروں کے درمیان 2023میں دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت کی اہمیت پر زور دیا اور پائیدار، جامع اور مستقبل کے حوالے سے شراکت داری کی تعمیر کیلئے کے سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا۔ایس جی سی سی آئی کے صدر رمیش وگھاسیا نے اعلان کیا کہ ایس جی سی سی آئی جموں و کشمیر میں بالخصوص شمسی توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹروں اور برقی نقل و حرکت کے شعبوں میں براہ راست سرمایہ کاری کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ SGCCIکی 84ممالک میں موجودگی ہے اور اس نے کاروباریوں اور سرمایہ کاروں کے نیٹ ورک بنائے ہیں جو کشمیر جیسے خطوں کے ساتھ شراکت داری کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا’’ہمارا مقصد کے سی سی آئی کے اراکین کو گجرات میں اپنی مصنوعات کی نمائش میں مدد کرنا ہے اور گجرات میں قائم صنعتوں کو وادی میں اعلیٰ امکانات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دینا ہے‘‘۔
واضح رہے اس میٹنگ کی صدارت جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کی؛بات چیت کے کلیدی نتیجے کے طور پر SGCCI نے حکومت جموں و کشمیر اور KCCIکو 23 سے 25 اگست 2025 کو صورت میں منعقد ہونے والی آئندہ عالمی سرمایہ کاری اور سیاحتی نمائش میں شرکت کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کیا۔وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں اس اقدام کی ستائش کی اور اس طرح کی مصروفیات کو قابل عمل تعاون میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر اعلیٰ نے دورہ کرنے والے چیمبر اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ جموں و کشمیر حکومت KCCI-SGCCI حقیقی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے سنگل ونڈو سہولت فراہم کرے گی۔وزیر اعلیٰ نے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور جنوبی گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے میں ان کی دور اندیشی اور وژن کی تعریف کی جس کا مقصد دونوں خطوں کے درمیان باہمی ترقی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایم ایل اے گلمرگ فاروق احمد شاہ، ایم ایل اے پہلگام الطاف احمد کلو اور ایڈیشنل چیف سکریٹری دھیرج گپتا سمیت کئی سینئر عہدیداروں اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔کے سی سی آئی کے وفد میں سیکریٹری جنرل فیض احمد بخشی، جوائنٹ سیکرٹری جنرل عمر نذیر تبت بقال، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران عامر منظور گنائی اور محمد ابراہیم کے علاوہ ممتاز ہوٹلیئر اور کے سی سی آئی کے ممبر مشتاق احمد چایا اور دیگر سٹیک ہولڈر شامل تھے۔
عمر عبداللہ کی پہل کا نتیجہ
وزیر اعلیٰ کے اس دورے کو ایک علامتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، جس کا مقصد نہ صرف بین الریاستی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے بلکہ وادی میں سیاحت کے شعبے میں نئی روح پھونکنا بھی ہے ۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گجرات دورے کے دوران گاندھی نگر میں منعقدہ’’ٹریول اینڈ ٹورازم فیئر‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے ملک بھر کے سیاحوں کو وادی کشمیر کی بے مثال خوبصورتی، تہذیبی ورثے اور کشادہ دل مہمان نوازی کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔مہاتما مندر کنوینشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقدہ اس سیاحتی میلے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ صرف سردیوں میں برف پوش وادیوں کی وجہ سے معروف ہے بلکہ گرمیوں، خزاں، بہار اور ہر موسم میں یہاں سیاحوں کے لیے کچھ نہ کچھ خاص ضرور موجود ہوتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گجرات اور جموں و کشمیر کے درمیان سیاحتی تبادلہ بڑھ رہا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ جموں و کشمیر کو ایک ہمہ موسمی، بھرپور ثقافتی اور سیاحتی مرکز کے طور پر پورے ملک میں اجاگر کیا جائے۔
یاد رہے’’ٹریول اینڈ ٹورازم فیئراحمد آباد‘‘ گجرات کا سب سے بڑا سیاحتی تجارتی میلہ ہے، جہاں اس سال 900 سے زائد نمائش کنندگان اور جموں و کشمیر سے 70 سے زیادہ سیاحتی ادارے شریک ہو رہے ہیں۔احمد آباد اور اس کا جڑواں شہر گاندھی نگر بھارت میں اندرون اور بیرون ملک سفر کے لیے اہم مراکز مانے جاتے ہیں، اور یہاں کا میلہ آنے والے تہواروں اور سیاحتی سیزن کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔جموں و کشمیر کے اسٹال کو میلے میں خصوصی توجہ حاصل ہے، جہاں خطے کی روایت، قدرتی حسن اور جدید سیاحتی امکانات،جیسے ایڈونچر، فلم ٹورازم، گالف، زیارت گاہوں اور غیر روایتی مقامات،کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ملک کی 25 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اس میلے میں شریک ہیں، جو ایک مضبوط نیٹ ورکنگ، اشتراک اور کاروباری مواقع کی فضا پیدا کر رہا ہے۔
خیال رہے پہلگام حملے کی وجہ سے کشمیر کی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکا لگ گیاہے۔ سیاحت کی بحالی کے لیے عمر عبداللہ کی حکومت نے اگرچہ کئی اقدامات کیے لیکن مرکزی سرکار کی جانب سے انہیں وہ سپورٹ ابھی تک حاصل نہیں ہوا جس کی ان کو توقع تھی۔ ایسامحسوس ہورہا ہے کہ مودی سرکار جموں و کشمیر کے معاشی مسائل کے بارے میں عدم دلچسپی کا شکار ہے، اور کشمیر کو محض سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ہی دیکھا جارہا ہے۔ جانکار حلقوں کا ماننا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا گجرات دورہ اسی ’عدم دلچسپی‘ کوگجرات کے بااثر کاروباری شخصیات کے تعاؤن سے ایڈریس کرنا چاہیتے ہیں۔ عمر عبداللہ کی یہ پہل کتنی بارآور ہوپائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتادے گا۔









