امت نیوز ڈیسک //
ایک مشترکہ کارروائی میں سرینگر پولیس اور فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے شہر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جہاں اُن دکانداروں کو نشانہ بنایا گیا جن پر غیر معیاری اور تاریخِ مصرف گزر چکا گوشت فروخت کرنے کا شبہ تھا۔
کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں سڑا ہوا گوشت برآمد کیا گیا، جسے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
ایسی ہی ایک کارروائی میں، سرینگر پولیس نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایسوسی ایشن آف انڈیا (FSSAI) کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر پرمپورہ میں ایک کولڈ اسٹوریج یونٹ پر چھاپہ مارا جہاں سڑا ہوا گوشت ذخیرہ کیا گیا تھا۔ مذکورہ گوشت ضبط کرنے کے بعد کولڈ اسٹوریج کو بھی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت سیل کر دیا گیا۔
حکام نے تصدیق کی کہ یہ کارروائی عوامی صحت کے تحفظ اور فوڈ سیفٹی معیار پر سختی سے عمل درآمد کے لیے جاری خصوصی مہم کا حصہ ہے۔
اسی طرح، پولیس اسٹیشن زکورہ کو موصول ہونے والی قابلِ اعتماد اطلاع پر حکام نے عبد الحمید کچای، ساکن صورہ اور سن شائن فوڈز (SICOP زکورہ) کے آپریٹر کو مرکزی مشتبہ شخص کے طور پر شناخت کیا۔ الزام ہے کہ وہ عارف احمد شاہ، ساکن باغات برزلہ کے ساتھ ملی بھگت میں غیر معیاری اور انسانی صحت کے لیے مضر سڑا ہوا گوشت بڑی مقدار میں سرینگر کے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو سپلائی کرنے کے مجرمانہ منصوبے میں ملوث تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سڑا ہوا گوشت جان بوجھ کر فروخت کرنے کا یہ عمل عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے اور قابلِ تعزیر جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن زکورہ میں ایف آئی آر نمبر 48/2025 درج کی گئی ہے، جو بھارتیہ نیایا سنہیتا (BNS) کی دفعات 271، 275، اور 61(1) کے تحت ہے، اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
سرینگر پولیس نے کہا ہے کہ عوامی صحت و سلامتی کے مفاد میں متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر معائنوں اور قانونی کارروائیوں کا سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا تاکہ فوڈ سپلائی چین میں سخت نگرانی اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔










