امت نیوز ڈیسک //
جموں، 18 اگست: ایڈوکیٹ بابر قادری کے ہائی پروفائل قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر این آئی اے ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کے خلاف باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ 1967 (UAPA) کی دفعات 16، 18 اور 38 کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس معاملے کی چارج شیٹ اس سے قبل اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے دائر کی تھی۔
ایڈوکیٹ بابر قادری، جو ایک باصلاحیت اور نوجوان وکیل تھے اور بار ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم کے غلط استعمال پر کھل کر تنقید کرتے تھے، کو 24 ستمبر 2020 کو ان کی رہائش گاہ زاہد پورہ، حول، سرینگر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حملہ آور کلائنٹ کے بھیس میں آئے اور عدالت سے واپسی پر انہیں گولیاں مار دیں۔ قادری نہ صرف ایک سرگرم وکیل تھے بلکہ ٹی وی مباحثوں میں اکثر شامل ہوتے تھے اور "کشمیر لائرز کلب” نامی ایک مخالف گروپ کے بانی بھی تھے۔ وہ میاں عبدالقیوم پر بار ایسوسی ایشن کو علیحدگی پسندانہ ایجنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتے رہے۔
یہ کیس جولائی 2023 میں سری نگر میں مداخلت اور دھمکیوں کے خدشے کے پیش نظر ایس آئی اے کو منتقل کیا گیا۔ میاں عبدالقیوم کو 25 جون 2024 کو اس سازش کا مرکزی کردار قرار دے کر گرفتار کیا گیا، الزام ہے کہ قتل لشکرِ طیبہ کے فرنٹ گروپ "دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF)” کے دہشت گردوں کے ذریعے کرایا گیا۔
میاں عبدالقیوم کی گرفتاری اور ریمانڈ کے خلاف دائر درخواستیں اور ہیبیس کارپس پٹیشن فروری 2025 میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے خارج کر دیں، جس سے گرفتاری اور تحقیقات کی قانونی حیثیت برقرار رہی۔
خصوصی عدالت نے اب باضابطہ طور پر میاں عبدالقیوم کے خلاف UAPA کی دفعات 16، 18 اور 38 کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔ ملزم کی جانب سے سینئر وکلاء آر۔ اے۔ جان، زیڈ۔ اے۔ قریشی اور ایڈوکیٹ ذوالکرنین شیخ نے پیشی دی، جبکہ استغاثہ کی نمائندگی خصوصی پبلک پراسیکیوٹرز کی ٹیم اور ایس آئی اے کے پیروری افسر نے کی۔










