امت نیوز ڈیسک //
پلوامہ، 27 اگست: حکام کے مطابق وادی کشمیر میں مسلسل کئی دنوں سے جاری بارشوں کے بعد منگل کے روز دریائے جہلم کی سطح آب میں اضافہ ہوا، جس سے کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔
محکمہ آبپاشی و سیلاب کنٹرول (پلوامہ و شوپیان) کی سپرنٹنڈنگ انجینئر نازیہ نے بتایا:
"سنگم کے مقام پر پانی کی سطح نے مختصر وقت کے لیے سیلابی نشان کو عبور کیا تھا، تاہم صبح سے پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ تاحال کسی بھی علاقے کو ریڈ زون قرار نہیں دیا گیا ہے، تاہم رام منشی باغ (سرینگر) کے مقام پر پانی کی سطح چند گھنٹوں تک مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا انحصار موسم پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتحال مکمل طور پر موسم پر منحصر ہے:
"اگر بارشیں جاری رہیں تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، لیکن اگر موسم بہتر رہا تو پانی کی سطح بتدریج کم ہونے لگے گی۔”
سابق ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے دریائے جہلم کے کمزور مقامات کا دورہ کیا، جن میں لیتھ پورہ بھی شامل ہے — وہی مقام جہاں 2014 کے سیلاب کے دوران دریا نے بند توڑ دیا تھا۔
انہوں نے کہا:
"جہلم کے کمزور مقامات پر حفاظتی اقدامات کے تحت ریت سے بھرے بورے رکھے جا رہے ہیں تاکہ شگاف نہ پڑے۔ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔”
مسعودی نے وادی میں جاری مواصلاتی نظام کی خرابی پر بھی تشویش ظاہر کی، تاہم امید ظاہر کی کہ رابطہ نظام آج رات تک بحال ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ "اؤنتی پورہ اور سمبورہ کے درمیان دو سے تین انتہائی حساس مقامات ہیں، جن میں لیتھ پورہ، آلوچی باغ اور سمبورہ شامل ہیں، جہاں احتیاطی کام جاری ہے۔”








