امت نیوز ڈیسک //
جموں، 27 اگست : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز وزیراعظم نریندر مودی کو جموں خطے میں مسلسل بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی اور اس مشکل وقت میں ریاست کے عوام کو مرکزی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
منگل کو جموں کے بڑے حصوں میں موسلادھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں زمین کھسکنے، نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے، کئی سڑکوں اور پلوں کے بہہ جانے سے شدید تباہی ہوئی۔ ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے راستے پر ایک لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 32 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ جموں کے ڈوڈہ ضلع میں دیگر بارش سے متعلقہ واقعات میں 4 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عمر عبداللہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میں نے تھوڑی دیر پہلے وزیراعظم سے بات کی۔ میں نے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ میں این ڈی آر ایف کی ٹیموں کی تعیناتی پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد دی جائے گی۔”
وزیراعلیٰ نے بارش سے متاثرہ جموں کے مختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا اور ایکس پر بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال سے آگاہ کیا، جہاں دریائے توی کے کنارے شدید نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا، "میں وزیراعظم کے مسلسل تعاون کی یقین دہانی پر شکر گزار ہوں۔”
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ بارش کے تھمنے سے صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔ "کل کے مقابلے میں آج ہمیں کچھ راحت ملی ہے کیونکہ بارش رک گئی ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔ سیلاب سے ہونے والے نقصان آپ کے سامنے ہیں۔ یہ پل تباہ ہو گیا ہے۔”
انہوں نے 2014 کے سیلاب میں جموں شہر میں دریائے توی پر بنے چوتھے پل کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "میں ڈویژنل کمشنر سے کہہ رہا تھا کہ 2014 میں بھی اسی جگہ پر پل کو نقصان پہنچا تھا۔”
انہوں نے کہا، "یہاں ایک خطرہ ہے جسے ہم ٹھیک سے سمجھ نہیں سکے۔ ماہرین کی ٹیموں کو تعینات کرنا ہوگا تاکہ معلوم ہو سکے کہ 2014 میں اور آج اسی مقام پر نقصان کیوں ہوا۔ ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ دوبارہ نہ ہو۔”
دریاؤں اور سیلابی راستوں کے کنارے بسنے والے لوگوں کو لاحق خطرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "دریا کے کنارے موجود مکانات ہمیشہ خطرے میں رہیں گے جب بھی شدید بارشیں ہوں گی۔ ہمیں اس بارے میں کچھ کرنا ہوگا۔ پہلے ہم موجودہ صورتحال سے نمٹیں گے، پھر اس پر غور کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ بارش رک گئی ہے، دریا میں پانی کم ہو رہا ہے اور امدادی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
دیگر اضلاع کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں تک جموں، سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور اور ڈوڈہ و کشتواڑ کے دریائی علاقوں میں حالات خراب رہے۔
انہوں نے کہا، "کچھ اضلاع جن کے بارے میں خدشہ تھا کہ وہاں نقصان ہو سکتا ہے، محفوظ رہے۔ راجوری اور پونچھ کے علاقے ٹھیک ہیں۔ پہلے ہم بارش سے پیدا ہونے والی اس صورتحال سے باہر نکلیں، پھر مکانات کے نقصان کا اندازہ لگایا جائے گا۔ اس کے بعد ایک پیکج تشکیل دیا جائے گا۔”
جب ان سے سیلابی راستوں پر لوگوں کی جانب سے مکانات تعمیر کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، "ہمیں ان لوگوں کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے جو سیلاب زدہ علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہیں کسی اور جگہ بسایا جانا چاہیے۔ جب بھی سیلاب آتا ہے، ان کے مکانات بار بار تباہ ہوتے ہیں۔”(پی ٹی آئی)










