امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 9 ستمبر:جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں جاری تصادم منگل کو دوسرے روز میں داخل ہوگیا، جہاں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ جاری ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ "کولگام میں ملی ٹینٹوں کے خلاف آپریشن آج صبح دوبارہ شروع کیا گیا ہے، کیونکہ رات بھر فائرنگ میں معمولی وقفہ آیا تھا۔”
اس شدید تصادم میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جن میں ایک کے پاکستانی شہری ہونے کا شبہ ہے، جبکہ فوج کے دو جوان بھی ہلاک ہوئے۔ جھڑپ کے دوران ایک فوجی میجر بھی زخمی ہوگئے۔ یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب سیکورٹی فورسز نے مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کولگام کے گُدر جنگلاتی علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کی، جس پر وہاں موجود عسکریت پسندوں نے فائرنگ کردی۔
حکام کے مطابق اس جھڑپ میں فوج کے دو اہلکار، سب پر بھات گور اور لانس نائیک نریندر سندھو ازجان ہوئے، جبکہ ایک فوجی میجر زخمی ہوا۔
اس سے قبل، جموں و کشمیر پولیس کی خفیہ اطلاع پر فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے کولگام کے گُدر جنگلات میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا تھا۔ چوکس اہلکاروں نے مشکوک نقل و حرکت دیکھی اور جیسے ہی عسکریت پسندوں کو للکارا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں سے ایک مقامی جبکہ دوسرا غیر ملکی تھا، جس کا کوڈ نام "رحمان بھائی” بتایا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلِن پربھات نے گُدر کے اس تصادم کے مقام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فوج کی قیادت میں ہونے والے اس کامیاب مشترکہ آپریشن کی تعریف کی۔











