امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 19 ستمبر : جیل میں بند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک نے دہلی ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یاسین ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ 2006 میں پاکستان میں لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید سے اُن کی ملاقات بھارتی انٹیلی جنس حکام کی ہدایت پر ہوئی تھی، اور اس ملاقات کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ذاتی طور پر اُن کا شکریہ ادا کیا تھا۔
یاسین ملک کے مطابق، اُس وقت انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اسپیشل ڈائریکٹر وی کے جوشی نے دہلی میں اُن سے ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان کے دورے کے دوران وہ وہاں کی سیاسی قیادت اور جہادی تنظیموں کے سربراہان، بشمول حافظ سعید، سے ملیں تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ دورہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ہوا تھا۔
ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکام کی رائے تھی کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات اُس وقت ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ملی ٹینٹ تنظیموں کے رہنماؤں کو بھی بات چیت میں شامل کیا جائے۔ انہی حکام کے اصرار پر انہوں نے پاکستان میں حافظ سعید اور متحدہ جہاد کونسل کے دیگر رہنماؤں سے ایک اجتماع کے دوران ملاقات کی، جہاں حافظ سعید نے جہادی گروپوں کے سامنے تقریر کی اور اُنہیں تشدد ترک کرنے کی اپیل کی۔







