امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے بدھ کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو لیہہ میں بدامنی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جس میں تین سے چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف وانگچک جو لداخ کے لیے ریاستی درجے کے مطالبے پر 15 روزہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، تشدد کے بعد اپنی ہڑتال ختم کر دی۔
ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا، "وہ مطالبات جن پر وانگچوک بھوک ہڑتال پر تھے وہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی (ایچ پی سی) میں بحث کا لازمی حصہ ہیں۔ بہت سے لیڈروں کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے پر زور دینے کے باوجود انہوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی، مزید یہ کہ عرب بہاریہ کی طرح کے احتجاج اور نیپال میں جنریشن زیڈ تحریک کا حوالہ دے کر اشتعال انگیز طریقے سے لوگوں کو گمراہ کیا۔”
اس میں مزید کہا گیا، "24 ستمبر کو تقریباً 11.30 بجے، ان کی اشتعال انگیز تقریروں سے اکسایا گیا ایک ہجوم بھوک ہڑتال کے مقام سے نکل گیا اور سیاسی پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کے ساتھ ساتھ سی ای سی لیہہ کے سرکاری دفتر پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے ان دفاتر کو آگ لگا دی، سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا اور پولیس کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا”۔
بیان میں کہا گیا کہ بے قابو ہجوم نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں 30 سے زیادہ پولیس/سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوئے۔ ہجوم نے عوامی املاک کی تباہی اور پولیس اہلکاروں پر حملے جاری رکھے۔ اپنے دفاع میں پولیس کو فائرنگ کا سہارا لینا پڑا جس میں بدقسمتی سے کچھ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
وزارت نے کہا، "یہ واضح ہے کہ سونم وانگچک نے اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ہجوم کو بھڑکایا تھا۔ اتفاق سے ان پرتشدد واقعات کے بیچ انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی اور صورت حال پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیے بغیر ایمبولینس میں اپنے گاؤں کے لیے روانہ ہو گئے”۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی اگلی میٹنگ چھ اکتوبر کو طے کی گئی ہے جب کہ 25 اور 26 ستمبر کو لداخ کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا بھی منصوبہ ہے۔








