امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 5 نومبر: پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ 2019 سے حراست میں لیے گئے ہزاروں کشمیری ابھی تک جموں و کشمیر کے باہر کی جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ ان قیدیوں کو واپس جموں و کشمیر منتقل کیا جائے تاکہ ان کے گھروالوں کی مشکلات کم ہوسکیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ 2019 کے بعد سے 3,500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ میں سے کئی کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پیارے کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم ان کی رہائی کا مطالبہ نہیں کر رہے، لیکن انہیں کم از کم جموں و کشمیر منتقل کیا جائے تاکہ ان کے گھر والے ان سے مل سکیں اور یہاں اپنے مقدمات کی پیروی کر سکیں۔”
انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کے خاندان قانونی لڑائی لڑتے لڑتے اپنے تمام وسائل ختم کر چکے ہیں۔ "کچھ نے اپنے گھر بیچ دیے، کچھ نے زمین اور زیورات فروخت کیے تاکہ قانونی اخراجات برداشت کر سکیں۔ کئی خاندان تو ان جیلوں تک جانے کے بھی قابل نہیں جہاں ان کے عزیز قید ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ کئی قیدی چھ سے سات سال سے زیر سماعت ہیں مگر اب تک سزائیں نہیں سنائی گئیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ، پولیس سربراہ اور چیف سیکریٹری کو قیدیوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کے لیے خط لکھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے اسمبلی میں بھی ایک قرارداد پیش کی تھی تاکہ قیدیوں کو جموں و کشمیر منتقل کیا جائے، مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کے اس بیان پر کہ معاملہ زیر سماعت ہے، محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 370 زیر سماعت نہیں تھا؟ کیا ریاستی حیثیت کا مسئلہ زیر سماعت نہیں؟ پھر ان پر تو بات ہوتی ہے، تو اپنے لوگوں پر بات کیوں نہیں؟
اپنی بات واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ سرکردہ یا بڑے سیاسی قیدیوں سے متعلق نہیں بلکہ غریب، بے آواز اور بھلائے جا چکے لوگوں کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ "ان کے خاندان اعلیٰ عدالتوں تک جانے کی استطاعت نہیں رکھتے، کسی کو تو ان کی بات کرنی ہوگی“۔









