امت نیوز ڈیسک //
بڈگام: جموں و کشمیر کے بڈگام اور نگروٹہ اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے آج صبح سات بجے پولنگ سست روی کے ساتھ شروع ہوئی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے صبح 11 بجے تک بڈگام میں 21 فیصد اور نگروٹہ میں 34 فیصد ووٹنگ کی اطلاع دی۔
ابتدائی اعداد و شمار سے پچھلے سال کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے اس بار شروعات میں کم پولنگ کی نشاندہی ہوتی ہے، جب نگروٹہ میں 77.66 فیصد اور بڈگام میں 52.27 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ تاہم متعلقہ افسران کا ماننا ہے کہ دن چڑھنے اور موسم کی صورت حال بہتر ہونے کے ساتھ ہی پولنگ میں تیزی آئے گی۔
واضح رہے کہ کشمیر میں ان دنوں صبح و شام کافی سردی ہوتی ہے لیکن اسکے باوجود بہت سے ووٹر صبح سات بجے ووٹ ڈالنے کے لیے بوتھوں پر نظر آ رہے ہیں۔ بہت سے ووٹروں نے سردی سے بچاؤ کے لیے اونی کپڑے پہنے ہیں ، فیرن پہنے معمر افراد کو پولنگ بوتھ کی طرف چلتے ہوئے دیکھا گیا۔
نگروٹہ میں 97,893 ووٹرز ہیں جب کہ بڈگام میں 1,26,025 ووٹرز ہیں۔ مجموعی طور پر دونوں حلقوں میں 2.2 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ 173 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ شروع ہوئی۔ بھاری تعداد میں جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ پولنگ کو پرامن طریقے سے انجام دیا جا سکے۔
گذشتہ سال کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ بڈگام حلقے کے ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اس نشست سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ منتخب ہوئے تھے لیکن انہوں نے اس کے ساتھ گاندربل کی سیٹ بھی جیت لی تھی چنانچہ دوہرے انتخاب کے بعد انہوں نے گاندربل حلقے کو برقرار رکھا اور بڈگام سے مستعفی ہوگئے۔ گاندربل عمر عبداللہ کا پشتنی حلقہ ہے، یہاں سے ان کے والد فاروق عبداللہ اور دادا شیخ محمد عبداللہ بھی منتخب ہوئے تھے جب کہ عمر عبداللہ نے بھی اس حلقے سے پہلے بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
اسی طرح نگروٹہ سیٹ گذشتہ سال بی جے پی لیڈر دیویندر سنگھ رانا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کی بیٹی دیویانی رانا کو وہاں کھڑا کیا ہے۔








