امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پروفائل سے ’’چیئرمین حریت کانفرنس‘‘ کا عہدہ ہٹانا ان کا ذاتی فیصلہ ہے، لیکن اس سے نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان پائی جانے والی بیگانگی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
سری نگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ حریت کانفرنس کوئی فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، جو کشمیری عوام اور حکومت ہند کے درمیان پائی جانے والی دوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظریے کو قید و بند کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جموں و کشمیر کے کئی زیرِ سماعت قیدی ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور انہیں فوری راحت دی جانی چاہیے۔
محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی وزارتی ٹیم کو بیرونِ ریاست جیلوں میں بھیجیں تاکہ قیدیوں کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔ پی ڈی پی سربراہ نے اس عوامی مفاد کی عرضی کے مسترد ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا جو زیرِ سماعت قیدیوں کے حق میں دائر کی گئی تھی، اور کہا کہ پارٹی ہر ممکن راستے سے ان قیدیوں کے لیے راحت حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔
اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور ہریانہ میں کشمیری شال فروشوں پر مبینہ حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف 72 گھنٹوں میں تین واقعات پیش آنا نہایت تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے اتراکھنڈ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کو قابلِ ستائش قرار دیا.










