وادی کشمیر کو وادی گلپوش تو ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس وادی گلپوش میں آئے روز مختلف قسم کے نئے نئےجرائم کیوں جنم لیتے ہیں وہ انسان جو یہاں مرغا ہلال کرنے کے لئے چاقو ہاتھ میں لینے سے گھبرا تا تھا‘ اب وہی انسان ایسے بھیانک جرائم انجام دیتا ہے جن جرائم کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اور اب ان جرائم کی خبریں سن کر یا دیکھ کر انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔جس طرز کے جرائم کی خبریں پہلے ملک کی دوسری ریاستوں سے سننے یا پڑھنے کو ملتی تھیں اب ان ہی خبروں کے ساتھ ساتھ دیگر دوسرے ایسے بھیانک اور درد ناک جرائم کی خبریں ہمیں وادی گلپوش سے سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں اور یہاں تک کہ ایسے بھیانک اور دردناک جرائم اب ہمیں اپنے وطن عزیز یعنی وادی گلپوش سے آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے آج سے محض چند سال پہلے دہلی سے’’بھیانک جرائم‘‘نام کا ایک ماہانہ رسالہ شائع ہوتا تھا شاید وہ رسالہ آج بھی شائع ہوتا ہوگا اور اس رسالے میں ملک کی مختلف ریاستوں میں انجام پانے والے بھیانک اور دردناک جرائم کی خبریں اور کہانیاں شائع ہوتی تھیں اور ان دردناک خبروں اور کہانیوں کو پڑھ کر انسان کی روح کانپ اٹھتی تھی لیکن اس رسالے کا مطالعہ کرنے کے بعد اس وقت اس بات کی خوشی محسوس ہوتی تھی کہ وادی گلپوش سے منسلک کوئی ایسی بھیانک خبر یا کہانی اس رسالے میں پڑنے کو نہیں ملتی تھی۔حالانکہ اس رسالے کی چند کاپیاں ابھی بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ بھی بدل گئی۔ انسان کے طور طریقے میں فرق آیا اور انسان کی طرزِ زندگی میں بدلاؤ آیا۔انسانی دلوں سے خوف و ڈر ختم ہوگیا غرض انسان اپنی مرضی کا مالک بن گیا اب جو اس کے من میں آتا ہے وہی کرتا ہے۔ چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں رہی خاصکر آج کے نوجوان نسل میں قوت برداشت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ کس کو مارنا ہے اور کس کو بچانا ہےاس چیز کو اب انسان نے اپنے بس میں کرلیا ہے جس کی مثالیں ہمیں گزشتہ چند سالوں سے اپنے وطن عزیز وادی گلپوش سے ملتی ہیں۔حالانکہ یہاں پہلے بھی کئی ایسے دردناک اور بھیانک جرائم رونما ہوئے ہیں جن میں کہیں پر بیٹے نے ماں کو مارڈالا تو کہیں پر دیور نے ماں جیسی بھابی کو مارڈالا۔ کہیں پر شوہر نے اپنی شریک حیات اور شریک حیات نے اپنے شوہر کو مارڈالا تو کہیں پر باپ نے اپنی لخت جگر بیٹی کو مارڈالا یعنی وادی گلپوش میں اب ہر قسم کے جرائم انجام دئیے جاتے ہیں۔ اب یہاں گزشتہ دو تین سالوں سے جرائم پیشہ افراد نے بھیانک جرائم انجام دینے کی ایک نئی راہ اختیار کی ہے اور وہ ہے چھریوں اور چاقوؤں سے حملہ کرنا۔
آجکل ہمیں اپنے وطن عزیز وادی گلپوش کے ہر کونے سے آئے روز یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں جگہ کسی نوجوان نے کسی نوجوان پر چھری یا چاقو سے حملہ کردیا حالانکہ ابھی ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے کہ سرینگر کے ڈلگیٹ کےچہارباغ نامی ایریا میں ایک دوست نے دوسرے نابالغ اور معصوم دوست کو چھراگھونپ کر قتل کردیا۔ اسی طرح گزشتہ سال کی بات ہےکہ رفیع آباد کے ہدی پورہ گاؤں میں ایک درندہ صفت بیٹے نے اپنی ہی اس ماں کو جس ماں کی عظمت کا ذکر قرآن مجید میں ہے قتلِ کرڈالا۔ اسے پہلے بھی ہماری وادی میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا ذکر میں نے آغاز میں کیا ہے اور اکثر ان واقعات کو انجام دینے والے نشہ کے عادی نوجوان ہیں۔ہمارے نوجوان نسل میں قوت برداشت کا فقدان کیوں ہے اس کے کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم وجہ نشہ خوری ہے اور جب تک نہ ہم اور از خود اس نشہ کی وبا کو ختم کرنے کے لئے آگے آئیں تب تک اسطرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور یہاں تک کہ ان واقعات میں اضافہ بھی ہوتا رہےگا۔
پولیس اپنی طرف سےنشے کی اس وبا کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔اب والدین پر بھی یہ ذمداری عاید ہوتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں ان کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کریں جس کے ساتھ بچے کی دوستی ہے وہ کس قسم کا لڑکا ہے،خفیہ طریقے سے اس کی جانچ پڑتال کریں۔اس کے علاوہ ہمارے مولوی صاحبان جو نماز پنجگان اورجمعہ نمازوں کے بڑے بڑے اجتماعات سے وعظ و تبلیغ کرتے ہیں وہ اپنے وعظ و تبلیغ میں نوجوان نسل کو ان جیسے برے کاموں سے دور رہنے کی تلقین کریں تاکہ ہمارے نوجوان نسل پر کوئی اثر ہو اور وہ اس لعنت سے بچ سکیں۔شاید اس طرح کے اقدامات سے رفیع آباد جیسا واقع دوبارہ رونما نہ ہو۔یہاں پر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جس وادی میں اس قسم کے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں کیا وہ وادی وادی گلپوش کہنے کے لائق ہیں؟آخر ہم اپنے معاشرے کو کہاں لے جارہے ہیں؟ کیا والدین اپنے بچوں پر دھیان نہیں دیتے ہیں یا ان پر نظر نہیں رکھ رہےہیں؟ ابھی بھی موقع ہے اگر آپ کے گاؤں میں۔ شہر میں۔کالونی میں یا آپ کے محلے میں اس قسم کے اوباش نوجوان آپ کی نظروں میں ہیں تو فوراً مقامی پولیس کو اطلاع دیں تاکہ پولیس کوئی بھیانک اور دردناک جرائم انجام پانے سے پہلے اسے روک لگانے میں کامیاب ہو جائے۔حالانکہ سرکاری سطح پر بھی آجکل’’ نشہ مکت ابھیان ‘‘کے تحت وادی بھر میں جگہ جگہ اور خاص کر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نشہ مخالف آگاہی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور عوام بالخصوص نوجوانوں کو منشیات اور اس کے برے اثرات کے بارے میں جانکاری فراہم کی جاتی ہے اور اس طرح کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ چھرا زن آخر کون ہے؟کیا یہ چھرا زن ان جرائم پیشہ افراد کی صحبت میں رہے ہیں جو ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کے بھیانک اور دردناک جرائم انجام دیتے ہیں؟ان جرائم پیشہ افراد کا اثر ہمارے سماج کے نوجوانوں پر کیسے پڑا؟ کیا ہمیں اس بات کا اندازہ ہےکہ آئے روز وادی گلپوش میں نئے نئے جرائم پنپنے سے ہمارے سماج پر کیا اثر پڑے گا؟ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نابالغ اور نافہم بچوں کے سمارٹ فون کے استعمال سے بھی یہاں نئے نئے بھیانک جرائم جنم لیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہےکہ جرائم انجام دینے کے لئے چھرا زنی کونیا راستہ بنا لیا گیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ نشےکی لت کی طرح ہمارا سرمایہ یعنی ہمارا نوجوان عدم توجہ کا شکار ہوکر بھیانک اور دردناک جرائم انجام دینے کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں۔اس کا حل ڈھونڈنا ہم سب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔آخر جوچھری چلاتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہے اور جس پر چھری چلتی ہے وہ بھی ہمارا ہی ہے۔آیئے ہم سب مل کر منشیات کی اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک آواز بن کر اپنی سماجی ذمہ داری نبھائیں اور منشیات فروشوں کا قلع قمع کرنے کے لئے جموں و کشمیر کی بہادر پولیس کو ساتھ دیں۔










