کشمیر میں ان دنوں امتحانات کا موسم جاری ہے۔ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات ہو رہے ہیں۔ دسویں جماعت کا ریاضی پرچہ مکمل ہوچکا ہے اور کئی علاقوں سے والدین کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں نے دن رات محنت کی، مگر بعض امتحانی مراکز میں ذمہ دار اہلکار اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوکر نقل کرنے والوں کو چھوٹ دیتے ہیں۔یہ مسئلہ نیا نہیں ہے۔ کئی برسوں سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے کی دوڑ میں تعلیم کی روح کمزور پڑ چکی ہے۔ طلبہ کو بورڈ اور اسکول دونوں سطحوں پر اضافی نمبرات مل جاتے ہیں، باقی نقل کے ذریعے مکمل ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اصل قابلیت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔
آج ہمارے بچے قومی اور بین الاقوامی امتحانات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ والدین حیران ہیں کہ اتنے اچھے نمبرات کے باوجود بچے کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نمبر محنت نہیں بلکہ آسان راستوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ امتحانی مراکز میں اثرورسوخ رکھنے والوں کے بچوں کو رعایت دی جاتی ہے، جبکہ محنتی طلبہ کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔یہ صورتحال ہمارے تعلیمی نظام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ نقل کے بڑھتے رجحان نے محنت اور دیانت کی قدر کم کر دی ہے۔ کئی اسکول اپنی شہرت بچانے کے لیے نقل کو فروغ دیتے ہیں۔ کچھ امتحانی ذمہ داران اپنی نوکری اور ترقی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک کمزور، بے حس اور غیر ذمہ دار نسل تیار کر رہے ہیں۔
بورڈ انتظامیہ شفاف امتحانات کے لیے کوشش کرتی ہے، مگر بعض مراکز میں ضمیر فروش عناصر اس نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ اس سے محنتی طلبہ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔والدین کو سمجھنا چاہیے کہ فرضی نمبرات سے کامیابی نہیں ملتی۔ کامیابی صرف اسی کو ملے گی جو محنت کو اپنا زادِ راہ بنائے۔ تعلیمی میدان میں سچائی، محنت اور دیانت ہی اصل کامیابی کا راستہ ہیں۔اگر یہ روش جاری رہی تو بہت جلد ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کو قومی سطح پر کامیاب دیکھنا ہے تو نقل کے تمام راستے بند کرنے ہوں گے۔ ترقی ہمیشہ اسی کا مقدر بنتی ہے جس کے رگوں میں محنت اور قابلیت کا خون دوڑتا ہو۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو ایسے شاہین عطا کرے جو بلند اڑان کے قابل ہوں۔ آمین۔








