• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result

نمبرات کی دوڑ میں نقل کا تماشہ

منتظر مومن وانی/بہرام پورہ کنزر

by امت ڈیسک
25/10/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

کشمیر میں ان دنوں امتحانات کا موسم جاری ہے۔ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات ہو رہے ہیں۔ دسویں جماعت کا ریاضی پرچہ مکمل ہوچکا ہے اور کئی علاقوں سے والدین کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں نے دن رات محنت کی، مگر بعض امتحانی مراکز میں ذمہ دار اہلکار اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوکر نقل کرنے والوں کو چھوٹ دیتے ہیں۔یہ مسئلہ نیا نہیں ہے۔ کئی برسوں سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے کی دوڑ میں تعلیم کی روح کمزور پڑ چکی ہے۔ طلبہ کو بورڈ اور اسکول دونوں سطحوں پر اضافی نمبرات مل جاتے ہیں، باقی نقل کے ذریعے مکمل ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اصل قابلیت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

آج ہمارے بچے قومی اور بین الاقوامی امتحانات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ والدین حیران ہیں کہ اتنے اچھے نمبرات کے باوجود بچے کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نمبر محنت نہیں بلکہ آسان راستوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ امتحانی مراکز میں اثرورسوخ رکھنے والوں کے بچوں کو رعایت دی جاتی ہے، جبکہ محنتی طلبہ کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔یہ صورتحال ہمارے تعلیمی نظام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ نقل کے بڑھتے رجحان نے محنت اور دیانت کی قدر کم کر دی ہے۔ کئی اسکول اپنی شہرت بچانے کے لیے نقل کو فروغ دیتے ہیں۔ کچھ امتحانی ذمہ داران اپنی نوکری اور ترقی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک کمزور، بے حس اور غیر ذمہ دار نسل تیار کر رہے ہیں۔

بورڈ انتظامیہ شفاف امتحانات کے لیے کوشش کرتی ہے، مگر بعض مراکز میں ضمیر فروش عناصر اس نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ اس سے محنتی طلبہ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔والدین کو سمجھنا چاہیے کہ فرضی نمبرات سے کامیابی نہیں ملتی۔ کامیابی صرف اسی کو ملے گی جو محنت کو اپنا زادِ راہ بنائے۔ تعلیمی میدان میں سچائی، محنت اور دیانت ہی اصل کامیابی کا راستہ ہیں۔اگر یہ روش جاری رہی تو بہت جلد ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کو قومی سطح پر کامیاب دیکھنا ہے تو نقل کے تمام راستے بند کرنے ہوں گے۔ ترقی ہمیشہ اسی کا مقدر بنتی ہے جس کے رگوں میں محنت اور قابلیت کا خون دوڑتا ہو۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو ایسے شاہین عطا کرے جو بلند اڑان کے قابل ہوں۔ آمین۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

راجیہ سبھا کے نتائج: چاروں انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے تمام ووٹ محفوظ، کوئی کراس ووٹنگ نہیں ہوئی: عمر عبداللہ

Next Post

عمر عبداللہ نے راجیہ سبھا انتخابات کے بعد ’’خفیہ بی جے پی حمایتیوں‘‘ پر شدید تنقید کی، سجاد لون کی خاموشی پر سوال اٹھایا

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نسائی شاعری کا ارتقا

کزنز زندگی کے خاموش محافظ….

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

والدین کی قربانیوں کی کوئی انتہا نہیں

16/01/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

داستانِ عہدِ رفتہ: جب مٹی سونا تھی….​چند یادیں بیتے دنوں کی

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

03/01/2026
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

03/01/2026
Next Post
عمر عبداللہ نے راجیہ سبھا انتخابات کے بعد ’’خفیہ بی جے پی حمایتیوں‘‘ پر شدید تنقید کی، سجاد لون کی خاموشی پر سوال اٹھایا

عمر عبداللہ نے راجیہ سبھا انتخابات کے بعد ’’خفیہ بی جے پی حمایتیوں‘‘ پر شدید تنقید کی، سجاد لون کی خاموشی پر سوال اٹھایا

راجیہ سبھا انتخابات ’فکسڈ میچ‘:سجاد لون

راجیہ سبھا انتخابات ’فکسڈ میچ‘:سجاد لون

بی جے پی نے ہمیں راجیہ سبھا انتخابات کے لیے سودے کی پیشکش کی: فاروق عبداللہ

بی جے پی نے ہمیں راجیہ سبھا انتخابات کے لیے سودے کی پیشکش کی: فاروق عبداللہ

پاکستان افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور ترکی میں ہوگا

پاکستان افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور ترکی میں ہوگا

نیشنل کانفرنس – کانگریس الائنس میں کوئی ایمانداری نہیں ہے: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے زیر سماعت قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »