گزشتہ ماہ 27 نومبر کی صبح جموں سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گیا، جس میں ایک صحافی اپنے ہی رہائشی مکان کو جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گرائے جانے کی لائیو رپورٹنگ کر رہا تھا۔ لیکن کچھ ہی لمحوں بعد جے ڈی اے کے اہلکاروں نے اس کا فون چھین کر لائیو رپورٹنگ بند کروا دی۔لیکن تب تک یہ ویڈیو پورے جموں و کشمیر میں پھیل چکا تھا کہ صحافی ارفاز ڈینگ کا گھر منہدم کر دیا گیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ بھاری پولیس نفری کے ساتھ جے ڈی اے کی ٹیم موقع پر پہنچی تھی۔ اسی دوران اچانک انہیں لائیو کمنٹری سے روک دیا گیا۔ دی ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق نیوز سحر انڈیا نامی ڈیجیٹل چینل چلانے والے ارفاز ڈینگ نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ جموں کے نروال علاقے میں انہدامی کارروائی کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، زخمی کیا گیا اور انہیں اپنے دو بھائیوں سمیت حراست میں بھی لے لیا گیا۔
انہدامی کارروائی کو انتقامی قرار دیتے ہوئے ارفاز ڈینگ نے کہا کہ انہیں اس سے قبل کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے ان کا گھر بٹھنڈی میں بھی گرایا گیا تھا۔ ڈینگ کہتے ہیں،’’میں نے حوصلہ رکھا اور والدین کے گھر منتقل ہو گیا، مگر اب یہ گھر بھی گرا دیا گیا۔ یہ گھر چالیس برس سے زیادہ پرانا تھا۔ یہ سلیکٹیو کارروائی ہے۔ صرف ایک گھر ہی کیوں گرایا گیا؟ کیا پورے جموں شہر میں صرف میرا ہی گھر غیر قانونی تھا؟‘‘
صحافی نے مزید کہا کہ انہوں نے جے ڈی اے ٹیم سے کچھ وقت مانگا مگر انہیں انکار کر دیا گیا۔ ان کے بقول،’’یہ اُن لوگوں کے لیے پیغام ہے جو سچ اور ایماندار صحافت کرتے ہیں: ان کی لائن پر چلیں، ورنہ آپ کا گھر چھین لیا جائے گا۔ ایک گھر بنانا آسان نہیں ہوتا۔‘‘
تاہم جے ڈی اے نے اس انہدامی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگ کا گھر اتھارٹی کی ملکیتی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔جے ڈی اے وائس چیئرمین روپیش کمار نے دی ہندو کو بتایا کہ 29 اکتوبر کو انہیں پہلا نوٹس بھیجا گیا تھا۔
دوسری جانب جموں و کشمیر کی لگ بھگ تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سیول سوسائٹی نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، بی جے پی کے لیڈران سمیت کانگریس کے رہنما رمن بھلا، بی جے پی کے سینیئر لیڈر رویندر رینا، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور متعدد دیگر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات، سماجی کارکنان اور وکلا برادری نے ارفاز کے منہدم شدہ گھر کا دورہ کرکے ان کی ڈھارس بندھائی۔
ایک طرف جہاں یہ کارروائی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کا موضوع بنی کہ آخر کس کے حکم پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی وہیں ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کے بیچ اسی منہدم مکان سے ہندو مسلم بھائی چارے کی ایک عظیم مثال سامنے آئی۔ایک غیر مسلم سابق فوجی کلدیپ شرما نے ارفاز کو پانچ مرلہ زمین تحفے میں دینے کا اعلان کیا۔ارفاز کے گھر کے ملبے پر بیٹھ کر مذہبی ہم آہنگی کی فضا کو تازہ کرتے ہوئے کلدیپ شرما نے کہا،’’میں نے ارفاز کو 5 مرلہ زمین تحفے میں دی ہے۔ میں نے اس کے باقاعدہ ریونیو دستاویزات تیار کرائے ہیں اور رجسٹری بھی کرائی ہے۔ یہ میری ذاتی زمین ہے اور میں اسے اپنے بھائی کو اس لیے دے رہا ہوں کہ وہ بے سہارا نہ رہ جائے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ وہ گھر کے انہدام کے مناظر دیکھ کر شدید متاثر ہوئے۔کلدیپ نے کہا،’’اگر مجھے بھیک بھی مانگنی پڑے تو میں اس کا گھر دوبارہ بناؤں گا۔ جو بھی ہو، اس کا گھر ضرور تعمیر ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہا:”انہوں نے اس کا 3 مرلہ گھر گرایا، میں نے اسے 5 مرلہ دیا ہے۔ اگر یہ بھی گرایا گیا تو میں 10 مرلہ دوں گا۔‘‘
کلدیپ کی بیٹی تانیا شرما نے بھی اپنے والد کے فیصلے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایسے خاندانوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے جن کے گھر انہدامی کارروائیوں میں گرائے جا رہے ہیں۔
ارفاز کے والد نے کہا:’’مجھے کوئی فکر نہیں، کیونکہ جموں کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ یہاں اتحاد ہے۔ کل سے ہزاروں لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ہے، ہماری ہمت بندھائی ہے اور مدد کے لیے کوششیں کی ہیں۔‘‘کلدیپ شرما کے اس اقدام کو نہ صرف جموں بلکہ کشمیر میں بھی بھرپور سراہا گیا۔اسی جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے ضلع شوپیان کے کاپرن علاقے کے ایک تاجر محمد اقبال شاہ نے کلدیپ کے لیے 10 مرلہ زمین دینے کا اعلان کیا۔
محمد اقبال شاہ نے کہا:’’کلدیپ شرما ایک غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی بغیر مذہب دیکھے ایک مسلمان بھائی کی مدد کو آئے۔ بطور مسلمان میرا فرض تھا کہ میں بھی ان کے اس جذبے کا مثبت جواب دوں، اسی لیے میں یہ دس مرلہ زمین انہیں پیش کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ان تمام عناصر کے لیے موثر جواب ہے جو ملک میں مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب کٹرا کی شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں نے مسلم طلبا کو دیے گئے داخلوں کی مخالفت کرتے ہوئے صرف ہندو طلبا کو ہی داخلہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔









