امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان تنویر صادق نے پیر کے روز کہا کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا حالیہ بیان، جس میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا تھا، دراصل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی اور ان کی بیٹی کو مخاطب تھا۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ یہ تبصرہ پی ڈی پی قائدین کے دعوؤں کے ردِعمل میں کیا گیا، جن میں محبوبہ مفتی کی بیٹی کی جانب سے خود کو نظر بند بتانے کا بیان شامل تھا، جبکہ اسی دوران محبوبہ مفتی کے آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرنے کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کے سامنے کئی اہم مسائل زیرِ التوا ہیں جن پر اب تک توجہ نہیں دی گئی۔
تنویر صادق نے امن و قانون کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر منتخب حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے، اور طلبہ کو پُرامن احتجاج کی اجازت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے احتجاجی مظاہروں کے لیے اجازت کے دوہرے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ دیگر مقامات پر نہیں، جو جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
آخر میں انہوں نے ایسے ماحول کی اپیل کی جس میں غیر ضروری محاذ آرائی کے بغیر حکومت کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔
(کے این ایس)











