امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : جموں کشمیر کے بیشتر اضلاع میں حکام نے ورچول پرائیویٹ نیٹورک خدمات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام نے ’سیکورٹی وجوہات‘ کی بنا پر یہ احکامات صادر کیے ہیں جو ’اگلے احکامات‘ تک نافذ العمل رہیں گے۔
جموں کشمیر پولیس ترجمان کے مطابق صوبہ جموں کے کشتواڑ اور وادی کشمیر کے بڈگام، کپوارہ کولگام، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے وی پی این خدمات کی معطلی کے فوری احکامات صادر کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد VPN کے غلط استعمال کو روکنا ہے، جو کہ سکیورٹی نگرانی میں رکاوٹ بن سکتا ہے یا امن عامہ کو متاثر کر سکتا ہے۔
پولیس نے عوام سے پابندی پر مکمل عمل کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ’’ڈیجیٹل ڈیوائسز پر وی پی این استعمال کرنے کی صورت میں قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘
کپوارہ کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی سی) شری کانت سوسے نے جاری کیے گئے حکمنامے میں کہا ہے کہ ’’وی پی این کا استعمال غیر قانونی اور ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے کیا جا سکتا ہے، مثلاً بے امنی پھیلانا، گمراہ کن اور غلط مواد شیئر کرنا، یا امن کے خلاف سرگرمیوں میں رابطہ کاری کرنا۔‘‘
فوج نے اہلکاروں کے لیے ڈیجیٹل رسائی محدود کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صرف مواد دیکھنے اور نگرانی کے لیے استعمال کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
واضح رہے کہ 2019 میں بھی آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں کشمیر میں انٹرنیٹ بندش کے دوران وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
وی پی این کیا ہے
وی پی این (VPN) ایک ایسا سافٹ ویئر (ایپ) ہے جو ڈیجیٹل آلات (موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ) کے انٹرنیٹ میں سرفنگ یا سرچنگ، اپلوڈ یا ڈاؤن لوڈ کو خفیہ بنا دیتا ہے۔ جس کی رو سے ایک صارف (وی پی این کے ذریعے انٹرنیٹ خدمات لینے والا) کون سی ویب سائٹ کھول رہا ہے یا کون سا مواد شیئر کر رہا ہے جس پر انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والے اور حکومتی یا سیکورٹی ادارے نظر نہیں رکھ سکتے۔










